1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شیخ حسینہ کے حامیوں کی نئی مشکل، ووٹ کسے ڈالیں؟

شکور رحیم روئٹرز
8 فروری 2026

سابقہ وزیر اعظم کی جماعت عوامی لیگ پر انتخاب میں حصہ لینے کی پابندی کے بعد اس کے حامیوں کے لیے اب بی این پی یا جماعت اسلامی میں سے کسی ایک کا انتخاب یا پھر بائیکاٹ کا آپشن بچا ہے۔

Bangladesch, Sylhet | Wahlkampf 2023 in Bangladesch
تصویر: Md Rafayat Haque Khan/Zumapress/picture alliance

کئی دہائیوں میں پہلی بار بنگلہ دیش کی معزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے آبائی شہر گوپال گنج میں انتخابات کے دوران ان کی جماعت عوامی لیگ کا انتخابی نشان ''کشتی‘‘ نظر نہیں آ رہا۔ اس کی جگہ بنگلہ دیش  نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعتِ اسلامی اور آزاد امیدواروں کے پوسٹر شہر بھر میں لگے ہیں، جو 12 فروری کے انتخابات کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

گوپال گنج کو طویل عرصے سے عوامی لیگ کا محفوظ ترین گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سے ملک کی طویل ترین مدت تک حکمران رہنے والی وزیرِاعظم شیخ حسینہ اور ان کے والد اور بنگلہ دیش کے بانی رہنما شیخ مجیب الرحمان کا تعلق ہے۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا انتخابی نشان کشتی ہوا کرتا تھا، تاہم اس مرتبہ پابندی کی وجہ سے یہ نشان اب کہیں دکھائی نہیں دیتاتصویر: Saiful Islam Kallal/AP Photo/picture alliance

شیخ حسینہ 2024ء تک مسلسل 15 برس سے زائد عرصہ اقتدار میں رہیں، اس دوران اپوزیشن یا تو انتخابات کا بائیکاٹ کرتی رہی یا بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے ذریعے سیاسی طور پر ایک جانب دھکیل دی گئی۔ اگست 2024ء میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی عوامی بغاوت کے نتیجے میں حسینہ اقتدار سے ہٹ گئیں اور بھارت میں جلاوطنی اختیار کر لی۔

اس کے بعد ان کی جماعت کو فروری کے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، جو نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت کے تحت منعقد ہو رہے ہیں۔

شیخ حسینہ نے گزشتہ اکتوبر میں روئٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا تھا کہ عوامی لیگ کی عدم موجودگی لاکھوں حامیوں کو امیدوار کے بغیر چھوڑ دے گی اور بہت سے لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

’ووٹ نہیں ڈالیں گے‘

گوپال گنج کے رکشہ چلانے والے ارشاد شیخ نے اپوزیشن کے پوسٹروں کے نیچے کھڑے ہو کر کہا، ''وہ جتنے چاہیں پوسٹر لگا لیں، اگر بیلٹ پیپر پر کشتی نہیں ہو گی تو میرے خاندان کے 13 افراد میں سے کوئی بھی ووٹ ڈالنے نہیں جائے گا۔‘‘

گزشتہ سال کے آخر میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے 2024 ء کی بغاوت کے دوران مہلک کریک ڈاؤن کا حکم دینے پر شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس دوران 1,400 تک افراد مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے، جن میں اکثریت سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے متاثر ہوئی۔ تاہم حسینہ نے ہلاکتوں کے احکامات دینے کی تردید کی۔

اس ماہ شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق عوامی لیگ کے ووٹرز میں سے تقریباً نصف اب بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کو ترجیح دے رہے ہیں، جو بیشتر رائے عامہ کے جائزوں میں آئندہ انتخابات میں آگے دکھائی دیتی ہے، جبکہ لگ بھگ 30 فیصد جماعتِ اسلامی کے حق میں ہیں۔

ملک گیر طلبہ مظاہروں کے نیجے میں شیخ حسینہ کو ملک چھوڑ کر بھارت میں سیاسی پناہ لینا پڑی تصویر: Kazi Salahuddin Razu/NurPhoto/picture alliance

ڈھاکا میں قائم کمیونیکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن اور بنگلہ دیش الیکشن اینڈ پبلک اوپینین اسٹڈیز کے مطابق یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عوامی لیگ کے سابق ووٹرز سیاسی نظام سے کنارہ کش نہیں ہو رہے بلکہ مخصوص اپوزیشن جماعتوں کے گرد اپنی حمایت مرکوز کر رہے ہیں۔

’سیاست چھوڑ دی‘

گوپال گنج میں عوامی لیگ کے کارکنوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ حسینہ کے بعد کی یہ تبدیلی ان کے لیے ذاتی طور پر بہت مشکل ثابت ہوئی ہے۔ عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم کے ایک کارکن ابراہیم حسین کو گزشتہ سال جولائی میں ایک احتجاج میں حصہ لینے کے الزام میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دسمبر میں گرفتار کیا گیا۔ ان کی بہن شیکھا خانم کے مطابق ان کے بھائی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔

ان کے خاندان نے اب سیاست سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔خانم نے کہا، ''ہم ووٹ نہیں دیں گے، ہم سب کچھ چھوڑ چکے ہیں۔‘‘

 بنگلہ دیش میں 2024ء کے حکومت مخالف مظاہروں میں مارے جانے والوں کی یاد میں قائم شدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی نے جولائی میں گوپال گنج میں ایک ریلی منعقد کی، جس کا اختتام پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ افراد کی ہلاکت پر ہوا۔ عوامی لیگ کے کئی کارکنوں اور اقلیتی برادریوں کے افراد کا کہنا ہے کہ وہ اب خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ایک ریسٹورانٹ میں کام کرنے والے محبت ملا کا کہنا تھا کہ امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کے لیے کوئی فرق نہیں ڈالتی۔ انہوں نے کہا، ''ہمارا امیدوار یہاں نہیں، عوامی لیگ یہاں نہیں، اس لیے یہ الیکشن ہمارے لیے نہیں۔‘‘

اگست دو ہزار چوبیس میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے تصویر: KM Asad/ZUMA/picture alliance

تاہم کچھ لوگ بدلتے ہوئے انتخابی ماحول کو امید کی کرن سمجھتے ہیں۔ تاجر شیخ الیاس احمد کا کہنا ہے کہ آنے والا ووٹ شاید پہلی بار لوگوں کو آزادانہ انتخاب کا موقع دے۔ انہوں نے کہا، ''ماضی میں پولنگ اسٹیشن جاتا تھا تو میرا ووٹ پہلے ہی ڈالا جا چکا ہوتا تھا، اس بار میں چاہتا ہوں کہ حالات مختلف ہوں۔‘‘

ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسی تجزیہ کار آصف شاہان کے مطابق عوامی لیگ کے ووٹرز کا اگلا قدم انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''میں ملک گیر بائیکاٹ کی توقع نہیں کرتا۔ عوامی لیگ کے انتہائی وفادار شاید ووٹ نہ دیں مگر ووٹنگ میں حصہ لینے سے متعلق اب تک فیصلہ نہ کر پانے والے اور مقامی مسائل پر توجہ دینے والے ووٹرز نکلیں گے اور وہی نتیجہ طے کر سکتے ہیں۔‘‘

ادارت: عدنان اسحاق

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اقتدار میں آ سکتی ہے؟

02:51

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں