1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولعالمی

’شیر ہونا کوئی مذاق نہیں‘

عاطف توقیر
17 مئی 2024

شیر جنگل کا بادشاہ ضرور کہلاتا ہے، مگر شیر کی زندگی سانپ کے ڈنگ سے لے کر دوسرے شیر ہی کے ہاتھوں مارے جانے تک جیسے خطرات سے پُر ہوتی ہے۔

Symbolbild Löwe
تصویر: Murat Ozgur Guvendik/AA/picture alliance

کینیا کی معیشت میں جنگلی حیات سے جڑی سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہاں کسی جنگل میں کسی شیر کی موت پر کسی انسان کا دل شاید ہی مچلتا ہو۔ مگر کینیا کے مشہور زمانہ مسائی مارا کے خطے میں میں چوبیس جولائی دو ہزار تئیس کو جب ''جیسی‘‘ نامی شیر کو تین دیگر شیروں نے گھیر کر ہلاک کیا، تو افریقہ میں نر شیر کی زندگی کی خطرناکیوں کی بابت بحث ہوئی۔

آدم خور بھارتی شیرنی کو پکڑنے کے لیے کیلوِن کلائن کا پرفیوم

بہاولپور میں شیروں کے پنجرے میں ایک شخص ہلاک، چڑیا گھر بند

شیر کی جسامت اور عمر

شیر جسامت میں ٹائیگرز سے کچھ کم ہوتے ہیں۔ عمر کے جوبن پر ایک نر شیر کا وزن ایک سو نوے کلوگرام تک ہوتا ہے، جب کہ شیرنی کا وزن ایک سو تیس کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ ایک نر شیر کی لمبائی چھ فٹ کے قریب ہوتی ہے جب کہ شیرنی اس سے کچھ کم لمبائی کی ہوتی ہے۔ نر شیر ایک اعشاریہ دو میٹر تک قد کا حامل ہوتا ہے، جب کہ شیرنی ایک میٹر تک بلند ہوتی ہے۔

اوسطاﹰ ایک شیر دس سے پندرہ برس کی عمر تک زندہ رہتا ہے تاہم اگر محفوظ ماحول میں رکھا جائے یا ایک مقید ماحول میں خوراک وغیرہ کا مکمل انتظام ہو، تو کوئی شیر پچیس برس تک زندہ رہ سکتا ہے۔

شیر کی زندگی مسلسل چیلنجز کا مجموعہ ہوتی ہےتصویر: B. Wasiolka/blickwinkel/McPHOTO/picture alliance

شیر کی زندگی، خطرہ ہی خطرہ

شیر ایک خاندان کی شکل میں ایک گروپ کی صورت میں رہتے ہیں اور اس گروپ کو 'پرائڈ‘ پکارا جاتا ہے۔ ہر پرائڈ میں متعدد شیرنیاں ہوتی ہیں جب کہ ایک یا ایک سے زائد نر شیر بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔

عام افراد نر شیر کو ان کےبڑے جسم، طاقت اور بہادری کی وجہ سے 'جنگل کا بادشاہ‘ پکارتے ہیں۔ اس حجم اور اسی انداز کی جرات میں فقط ٹائیگرز ہی شیروں کے ہم پلہ ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نر شیر ہونا رسی پر چلنے جیسا ہے۔

شیر شکار کے اور موت شیر کے تعاقب میں

سائنسی حقائق کے مطابق ہر دو میں سے ایک نر شیر اپنی زندگی کے پہلے برس ہی میں مارا جاتا ہے۔ اپنی پیدائش کے بعد اس شیر بچے کو ایک طرف سانپ کے ڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے اور دوسری طرف بھوکے لگڑبھگوں کا اور اس سے بھی زیادہ خود کسی اور نر شیر کے ہاتھوں مارے جانے کا۔

شیر ایک گروہ کی صورت میں رہتے ہیںتصویر: Ozkan Ozmen/Zoonar/picture alliance

اگر کوئی نر شیر زندگی کا ایک برس کسی طرح گزار لے اور تین برس تک زندہ رہ لے، تو وہ اپنا خاندان 'پرائڈ‘ چھوڑ دیتا ہے اور کچھ عرصے تک لاوارثوں کی طرح گھومتا ہے۔ اس دوران اسے اپنا علاقہ بنانے کے لیےدیگر نر شیروں کے جھنڈ تک سے ٹکرانا پڑتا ہے۔

عام طور پر نر شیروں میں سے بہت کم ہی ہوتے ہیں جو دس سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

کینیا کے وائلڈ لائف ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق زندگی کے کسی بھی حصے میں کسی نر شیر کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ محفوظ ہے۔

ایک پاکستانی نایاب نسل کے چیتوں کا مالک

03:31

This browser does not support the video element.

'جیسی‘ نامی شیر، جو کل بارہ برس تک زندہ رہا، اپنے جسم پر دیگر شیروں کے حملوں سے لگنے والے زخموں کے کئی نشانات کا حامل تھا اور بلآخر اسے تین نوجوانوں نر شیروں نے گھیر کر مار ڈالا۔

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں