شی اور اوباما دونوں کا سفارتی امتحان
6 جون 2013
سات اور آٹھ جون کو ہونے والی امریکی اور چینی صدور کی ملاقات کثیرالجہتی مگر نہایت غیر معمولی نوعیت کی نظر آ رہی ہے۔ نہ گارڈ آف اوونر، نہ توپوں کی سلامی، نہ ہی ریاستی ضیافت کا اہتمام۔ یعنی چین اور امریکا کے مابین ان تمام سفارتی تکلفات کے بغیر ہونے والے مذاکرات واشنگٹن سے کہیں دور ایک نئے مقام ریاست کیلیفورنیا میں ہوں گے۔ کیلیفورنیا کے ایک نجی پُر تعیش مقام Sunnylands میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہو گی۔ ان دونوں نے مشترکہ طور پر ایک کٹھن کام انجام دینا ہے۔ وہ ہے نشیب و فراز سے عبارت دو طرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوشش کرنا۔
دوطرفہ اعتماد کی کمی
دنیا کی دو سب سے بڑی اقتصادی طاقتیں، دونوں کا شمار دنیا کی بڑی ترین تجارتی قوموں میں ہوتا ہے اور دونوں ہی ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا منبع سمجھے جاتے ہیں۔ اتنی قدریں مشترک پھر بھی اختلافات گہرے۔
امریکا دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک، چین دنیا کا سب سے بڑا غیر ملکی ڈونر۔ شی جین پنگ امریکی صدر باراک اوباما کے روبرو بیٹھیں گے اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت پر چین کے مستقبل کا دار ومدار ہوگا۔ چین آئندہ دس برس کے دوران دنیا میں اپنا اثر و رسوخ کس حد تک بڑھا سکے گا اس کا انحصار کافی حد تک اوباما کے ساتھ طے پائے جانے والے ممکنہ معاہدوں پر ہوگا۔ تمام تر اندازوں اور پیشگوئیوں کے مطابق اس اثناء میں چین دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت بن کر امریکا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
چین، امریکا تعلقات کی نزاکت و حساسیت پر قریب ایک سال پہلے ہی سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن روشنی ڈال چُکی تھیں۔ 2012ء میں چین کے دورے پر بیجنگ میں کلنٹن نے ایک بیان میں کہا تھا،’ چین اور امریکا کچھ ایسا کرنے کی سعی کر رہے ہیں جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ پُرانے سوال کا ایک نیا جواب ڈھونڈنے کی کوشش۔ کیا ہوگا جب ایک تسلیم شدہ عالمی قوت کو ایک ابھرتی ہوئی قوت کا سامنا ہوگا؟
تاہم اس سوال کے نئے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کے عمل کو کمزور کرنے کا باعث دونوں طرف پایا جانے والا عدم اعتماد بنے گا۔ بیجنگ اور واشنگٹن دونوں ایک دوسرے کے طویل المیعاد مقاصد کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
سیاسی امور کے ماہرین اس ضمن میں ایک ’اسٹریٹیجک بداعتمادی‘ کی بات کر رہے ہیں۔ چین سمجھتا ہے کہ واشنگٹن اُس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ اُس کی ورلڈ پاور بننے کی صلاحیتوں کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوشش میں لگا ہوا ہے تاکہ دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھے۔ اُدھر باراک اوباما کی طرف سے ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی کا جو نیا ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے اُس میں ملٹری اور سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تمام تر قوت صرف کرنے کی کوشش کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ امریکا کو چین سے یہ خطرات لاحق ہیں کہ وہ امریکا کے اثر ورسوخ اور مفادات کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا پر چھا جانا چاہتا ہے۔ جبکہ اسٹریٹیجک امور پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کھیل صفر سے شروع ہو کر اسی مقام پر ختم ہو گا۔ نیو یارک کونسل آف فورن ریلیشنزسے منسلک ایک ماہر الیزابتھ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو میں اس موضوع پر نہایت محتاط بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ بد اعتمادی کو دور کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ ان کے بقول،’ جب دونوں کی کیمسٹری ملے گی تب ہی حقیقی اعتماد بحال ہوگا۔ اُس وقت اعتماد سازی کی شروعات کا لمحہ ہوگا‘۔
M.Hein/A.Lehmann/km/ai