شی جن پنگ شمالی کوریا میں، تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم
8 جون 2026
چینی صدر شی جن پنگ سات برس بعد پیر کے روز پہلی بار شمالی کوریا پہنچے۔ پیانگ یانگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور ان کی اہلیہ ری سول جو نے شی اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا خیرمقدم کیا۔
بعد ازاں چینی صدر دارالحکومت پیانگ یانگ کے مرکزی چوک پہنچے، جہاں انہیں فوجی گارڈ آف آنر دیا گیا، جبکہ ہزاروں شہری اور بچے بھی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ چوک کے اطراف عمارتوں کو چین اور شمالی کوریا کے قومی پرچموں، دونوں رہنماؤں کی بڑی تصاویر اور دوطرفہ دوستی کے نعروں سے سجایا گیا تھا۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کم جونگ اُن سے کہا، ''میں کامریڈ جنرل سکریٹری کے ساتھ قریبی اسٹریٹیجک رابطے برقرار رکھنے اور چین و شمالی کوریا کے تعلقات کو مسلسل نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
سربراہی ملاقات
سربراہی ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے تجارت، زراعت، تعمیرات اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے چین کی آمادگی کا اظہار کیا۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط بنائیں اور اپنی خودمختاری و سلامتی کے مفادات کا مشترکہ تحفظ کریں۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ شی جن پنگ کا دورہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شمالی کوریا اور چین کے تعلقات ''ناقابلِ تنسیخ‘‘ ہیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے نئے دور کو مضبوط بنانا شمالی کوریا کا مستقل اور اسٹریٹیجک انتخاب ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین اور شمالی کوریا دونوں ہی امریکہ کے ساتھ الگ الگ نوعیت کے تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے روایتی اتحاد کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
دورے کا مقصد
شی جن پنگ اور کم جونگ اُن کی آخری ملاقات گزشتہ سال ستمبر میں بیجنگ میں ہوئی تھی، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایک فوجی پریڈ میں شرکت کی تھی۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا پر چین کا اثر و رسوخ بیجنگ کو واشنگٹن کے ساتھ معاملات میں اضافی سفارتی برتری فراہم کر سکتا ہے۔
شی جن پنگ کا یہ دورہ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ رواں سال ستمبر میں ان کی ٹرمپ سے دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔
چین طویل عرصے سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سفارتی حامی رہا ہے۔ رواں سال دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے 65 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی وسعت دی ہے۔ مبینہ طور پر یوکرین جنگ میں روس کی حمایت کے بدلے پیانگ یانگ کو ماسکو سے اقتصادی اور فوجی معاونت حاصل ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ کے اس دورے کے دوران کم جونگ اُن چین سے مزید اقتصادی امداد، خوراک، کھاد اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب شی جن پنگ شمالی کوریا کو اپنے قریبی اتحادی کے طور پر برقرار رکھ کر خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔
جوہری پروگرام بھی موضوع گفتگو
مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی ملاقات کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ کم جونگ اُن طویل عرصے سے اپنے ملک کو ایک جوہری طاقت کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ چین عمومی طور پر جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کی حمایت کرتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس معاملے پر عوامی سطح پر کم زور دیتا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے کم جونگ اُن نے جوہری مواد تیار کرنے والے ایک نئے پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے ملک کی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے مطابق شمالی کوریا ہر سال 10 سے 20 جوہری بموں کے لیے درکار مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کو بھی تقریباً مکمل کر چکا ہے۔
کم جونگ اُن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی شرط قبول نہیں کریں گے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ