صدر اوباما ایتھوپیا پہنچ گئے
26 جولائی 2015
2009ء میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد باراک اوباما پہلی مرتبہ ایتھوپیا کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر وہ چار مرتبہ افریقہ کا دورہ کر چکے ہیں لیکن اس حالیہ دورے سے قبل وہ کینیا بھی نہیں گئے تھے۔ جب اوباما ادیس ابابا پہنچے تو ایتھوپیا کے وزیر اعظم Hailemariam Desalegn نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دارالحکومت کی سڑکوں پر بڑے بڑے بینر نصب تھے، جن پر اوباما کو خوش آمدید کیا گیا تھا۔
امریکی صدر ایتھوپیا میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران بروز پیر وزیر اعظم کے ساتھ رسمی مذاکرات کریں گے، جن میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مزید بہتری لانے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ اوباما ادیس ابابا میں افریقی یونین کے صدر دفتر کا دورہ بھی کریں گے۔ اوباما پہلے امریکی صدر ہیں، جنہیں یہ اعزاز حاصل ہو گا۔ وطن واپس روانہ ہونے سے قبل وہ منگل کو سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملیں گے۔
اتوار کے دن اوباما نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں اس افریقی ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے وہاں ہونے والی سیاسی اور اقتصادی ترقی کے عمل کو سراہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کینیا کو ابھی دہشت گردی، بدعنوانی اور نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے صنفی امتیاز کے خاتمے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملکی ترقی میں خواتین کا کردار اہم ہے اور انہیں مساوی مواقع میسر ہونا چاہییں۔
پانچ ہزار افراد کے ایک اجمتاع سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا، ’’کینیا میں عوام کو اپنی عادات بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بدعنوانی کی وجہ سے ترقی کی رفتار تھم جاتی ہے۔‘‘ قبل ازیں کینیا کے صدر سے ملاقات کے دوران اوباما نے کہا تھا کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہیں ہیں۔
اوباما کے بقول کینیا میں صنفی برابری کو فروغ دینے کی کوشش کی جانا چاہیے کیونکہ یہ ترقی کا ایک اہم زینہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’خواتین کو دوسرے درجے کا شہری تصور کرنا ایک بری روایت ہے۔ اس عادت کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔‘‘ امریکی صدر نے اپنے اس خطاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوامی سطح پر متحد ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’پرتشدد انتہا پسندی آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیتی ہے۔‘‘