1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخیورپ

صلیبی جنگوں کے انمٹ نقوش

عبدالستار
24 جنوری 2026

عظیم سلطنت روما کا زوال اور کروڑوں انسانی جانیں نگل جانے والی جنگیں اور وبائیں: ڈی ڈبلیو اردو کی یہ سیریز آپ کو تاریخ کے ان واقعات کی گہرائی تک لے جائے گی، جب انسانیت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔ تیسری قسط

 اس زیر نظر پینٹنگ میں پہلی صلیبی جنگ میں ایک مسیحی سپاہی کو مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے دیکھایا گیا ہے
اس زیر نظر پینٹنگ میں پہلی صلیبی جنگ میں ایک مسیحی سپاہی کو مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے دیکھایا گیا ہےتصویر: picture-alliance/akg

گیارہویں صدی میں شروع ہونے والی صلیبی جنگوں نے بھی عالمی اور یورپی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔  ان جنگوں کی گونج آج بھی کہیں نہ کہیں سنائی دیتی ہے۔

صلیبی جنگوں کی ابتدا

صلیبی جنگوں سے پہلے یروشلم کا علاقہ فاطمی سلطنت کے قبضے میں تھا، جن کے مسیحی حکمرانوں سے اچھے تعلقات تھے اور وہ یروشلم آنے والے مسیحی زائرین کو تحفظ بھی فراہم کیا کرتے تھے۔ تاہم سن دس سو اکتہر میں یروشلم پر سلجوقی ترکوں نے قبضہ کر کے مسیحی زائرین کے لئے نہ صرف مشکلات پیدا کیں بلکہ ان پر عرصہ حیات بھی تنگ کیا۔ اس کے علاوہ سلجوقوں نے بازنطینی علاقوں پر بھی حملے کیے، جس پر پوپ گریگوری ہفتم نے سن دس سو چوہتر میں پچاس ہزار افراد پر مشتمل ایک رضا کاروں کی فوج تشکیل دینے کی تجویز دی تاکہ مسیحی مقدس علاقوں کو مسلمانوں قبضے سے چھڑایا جا سکے۔

 کچھ مورخین کا دعویٰ ہے کہ مشرقی سلطنت روما کے حاکم الکسیس اول نے مسلمان سلجوق ترکوں کی توسیع پسندانہ پالیسی کے خلاف مغربی عیسائی دنیا سے مدد طلب کی تھی، جس کا مقصد ترکوں کو مشرقی سلطنت روما کے علاقوں پر حملہ کرنے سے روکنا مقصود تھا۔ تاہم اس بازنطینی حاکم نے یورپ کے مسیحی حاکموں، مذہبی رہنماؤں اور عام آدمی کے نام ایک جذباتی خط بھی لکھا تھا، جس میں مسلمانوں کے مظالم گنوائے گئے تھے۔

تاہم کئی مورخین اس خط اور اس کے مندرجات پر شک وشبے کا اظہار کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بازنطینی حاکم نے پوپ اربن دوئم سے یہ مدد اپنے ایک معتمد کے ذریعے طلب کی تھی۔

پوپ اربن دوئم نے دس سو پچانوے میں ایک جذباتی خطبے میں پہلی صلیبی جنگ کا اعلان کیاتصویر: picture-alliance/akg

بالا آخر پوپ اربن دوئم نے دس سو پچانوے میں ایک جذباتی خطبے میں پہلی صلیبی جنگ کا اعلان کیا، جس کے پہلے مرحلے میں زیادہ تر عام کسانوں اور شہریوں نے فوج بنائی، جبکہ دوسرے مرحلے میں روایتی سپاہیوں اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

فتوحات و شکستیں

پہلی صلیبی جنگ کے دوران کیونکہ مسلمان حکمراں تقسیم کا شکار تھے، لہذا پچاس سے ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل مسیحی فوج نے دس سو ننانوے تک اوڈیسا، اینٹی یاک، نائیسیا اور یروشلم پر قبضہ کر لیا۔ یوں پہلی صلیبی جنگ میں کامیابی مسیحی فوجوں کے حصے میں آئی۔ اس جنگ کے دوران مسیحی فاتحین پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف یروشلم کی فتح کے دوران دس سے ستر ہزار لوگوں کو ہلاک کیا، جن میں یہودی، مسلمان اور دوسرے فرقوں کے مسیحی بھی شامل تھے۔ تاہم کچھ مورخین کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد محض تین ہزار تھی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ یروشلم  شہر کی آبادی اس وقت صرف بیس سے تیس ہزار کے قریب تھی، تو پھر ستر یا پچھتر ہزار افراد کو کیسے قتل کیا جا سکتا تھا۔

دسمبر گیارہ سو چوالیس میں موصل اور حلب کے مسلم حاکم عماد الدین زنگی نے شمالی شام کی مسیحی ریاست اوڈیسا کاؤنٹی پر قبضہ کر لیا، جسے پہلی صلیبی جنگ کے دوران مسلمانوں کے قبضے سے چھڑایا گیا تھا۔ اس واقعے نے یورپ میں ہلچل مچادی، جو گیارہ سو سینتالیس میں دوسری صلیبی جنگ کے آغاز پر منتج ہوئی۔ اس جنگ کی قیادت فرانسیسی بادشاہ لوئی ہفتم اور جرمن حکمران کانراڈ سوئم نے کی۔

صلیبی سپاہیوں نے بازنطینی علاقے میں پہنچنے کے کچھ عرصے بعد ہی دمشق پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، جو ناکام ہوئی۔ اس کے علاوہ وہ اوڈیسا کاؤنٹی کو بھی مسلمانوں کے قبضے سے نہیں چھڑا سکے، جس کے وجہ سے مسیحی افواج کی کمزوری مقامی مسلمان حکمرانوں پر آشکار ہوئی اور صلاح الدین ایوبی، جیسے مغرب میں صلادین کے نام سے جانا جاتا ہے، نے گیارہ سو ستاسی میں یروشلم کی مسیحی بادشاہت کا بھی خاتمہ جنگ ہاطین میں کردیا۔ مسیحی رہنماوں کی آپس کی مخاصمت، صلیبی جنگجوؤں کی طرف سے بحری کے بجائے بری راستے کا انتخاب اور مقدس علاقوں کے بجائے دمشق پر توجہ مسیحی افواج کی شکست کے متعدد عوامل میں سے چند ایک بتائے جاتے ہیں۔

پہلی صلیبی جنگ 1096/97 کے دوران جرمنی میں پہلی سامیت مخالف پوگرم لہر کے دوران سپیئر کے بشپ جوہان نے ستائے ہوئے یہودیوں کو اپنا تحفظ فراہم کیاتصویر: picture-alliance/akg-images

دوسری صلیبی جنگ کا دائرہ صرف مشرق تک محدود نہیں تھا بلکہ اس جنگ میں اندلس یا اس وقت کے جنوبی اسپین کے علاقوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں مقدس جہاد کے نام پر کی گئیں اور لزبن سمیت کئی علاقوں کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرایا گیا۔ اس کے علاوہ بالٹک کے کچھ علاقوں میں پیگن یعنی مرتد یا غیر مسیحی اقوام کو بھی زبردستی مسیحی بنایا گیا۔ اس مقدس جنگ کو شمالی صلیبی جنگ کا نام دیا گیا۔

گیارہ سو ستاسی میں صلاح الدین ایوبی نے جب یروشلم پر قبضہ کیا، تو اسی برس پوپ گریگوری ہشتم نے تیسری صلیبی جنگ کا اعلان کردیا، جس کی قیادت انگلینڈ کے رچرڈ دی لائن ہارٹ، فرانس کے فلپ دوئم اور ہولی رومن ایمپائر کے حکمران فریڈرک بارباروسا نے کی۔ اس دوران کئی چھڑپیں ہوئیں، جفا میں ہونے والی چھڑپ میں صلاح الدین کی فوج کی تعداد بیس ہزار اور رچرڈ کی دوہزار تھی، جس میں صلاح الدین کے سات ہزار اور رچرڈ کے سات سو فوجی مارے گئے۔

رچرڈ نے اس دوران مصر پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی، جو صلاح الدین کی طاقت کا مرکز تھا اور یروشلم کا محاصرہ بھی کیا لیکن جنگ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی اور بالاخر مسیحی افواج کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔

بدلتی ہوئی وفاداریاں

حالانکہ ان جنگوں کے حوالے سے مشہور ہے کہ ان کی نوعیت مذہبی تھی لیکن اس کے باوجود ان جنگوں میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعاون نظر آتا ہے۔ مثلا پہلی جنگ کے دوران فاطمی حکمران مسیحی افواج سے سلجوقوں کے خلاف تعاون چاہتے تھے۔ دمشق کے مسلمان حاکم نے عماد الدین زنگی کے خلاف یروشلم کے مسیحی حاکم کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا جب کہ کئی مسلمان عرب قبائل نے مسیحی افواج کی زمینی رسد کی فراہمی میں رہنمائی کی۔ اسی طرح رچرڈ کو تیسری صلیبی جنگ سے واپسی پر آسٹریا کے بادشاہ کے وفاداروں نے گرفتار کر کے تاوان وصول کیا۔ یہی بادشاہ جنگ کے موقع پر رچرڈ کا اتحادی تھا۔ ان مذہبی جنگوں میں دس سے نوے لاکھ کے قریب لوگوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے یہ جنگیں کسی نہ کسی شکل میں چودہ سو بانوے تک چلتی رہیں جب جنوبی اسپین میں مسلمانوں کے زیر انتظام آخری شہری ریاستوں کا خاتمہ کیا گیاتصویر: picture-alliance/akg-images

صلیبی جنگوں کی تعداد

خیال کیا جاتا ہے یہ جنگیں کسی نہ کسی شکل میں چودہ سو بانوے تک چلتی رہیں جب جنوبی اسپین میں مسلمانوں کے زیر انتظام آخری شہری ریاستوں کا خاتمہ کیا گیا لیکن کئی مورخین کا دعویٰ ہے کہ تین جنگوں کے بعد دو اور صلیبی جنگیں ہوئیں، جس میں چوتھی جنگ میں مسیحی افواج نے مصر پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ پانچویں میں کچھ بچے کچھے دستے جنگ کے لیے نکلے تھے، جنہیں یا تو غلاموں کی مارکیٹ میں بیچ دیا گیا یا انہیں اٹلی کے ساحلی علاقوں سے واپس کر دیا گیا۔

صلیبی جنگوں کے مضمرات

ان جنگوں میں اٹلی کے ساحلی علاقوں کے جہازوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا، اس لیے ان علاقوں کے رہنے والوں کی چاندی ہوئی اور وہ کچھ ہی عشروں میں یورپ کے خوشحال علاقے بن کر ابھرے، جہاں آرٹ وفنون اور تجارت کا عروج ہوا۔ اس کے علاوہ رومن کیتھولک چرچ کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوا جب کہ مسلم اور مسیحی دنیا کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہوئی، جو آج تک ُپر نہیں ہوئی۔ پہلی صلیبی جنگ کے دوران جرمنی میں یہودیوں پر بھی حملے ہوئے، اس لیے ان جنگوں کی تلخی کچھ یہودی حلقوں میں آج بھی موجود ہیں، جو ان جنگوں کو سامیت دشمنی کے واقعات میں ایک اہم کڑی قرار دیتے ہیں۔ ان جنگوں کے نتیجے میں یورپ میں مسلمانوں کی موجودگی تقریباﹰ ختم ہوگئی اور کئی صدیوں تک جنوبی اسپین میں ہونے والی علم وفلسفہ کی ترقی میں کچھ ٹھہراؤ آیا۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے، کالم یا ایسے کسی مضمون میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں