1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صوماليہ: الشباب کے سينئر رہنما کے خلاف امريکی فضائی حملہ

عاصم سلیم30 دسمبر 2014

امريکی جنگی طياروں نے افريقی ملک صوماليہ کے شمالی حصے ميں پير کے دن ايک فضائی حملہ کيا ہے۔ امريکی محکمہ دفاع کے مطابق يہ حملہ شدت پسند تنظيم الشباب کے ايک سينئر رہنما پر کيا گيا۔

تصویر: Getty Images/AFP

امريکی دارالحکومت واشنگٹن سے موصولہ نيوز ايجنسی اے ايف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملٹری ترجمان ريئر ايڈمرل جان کربی نے بتايا کہ پير کے روز جنوبی صوماليہ ميں ساکوو کے علاقے ميں کيے جانے والے اس حملے ميں ايک ہدف کو نشانہ بنايا گيا۔ تاہم اپنے بيان ميں کربی نے يہ نہيں بتايا کہ حملے ميں کس جنگجو کو نشانہ بنايا گيا۔

امريکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت موجود اطلاعات کے مطابق حملے ميں کسی سويلين يا جائے وقوعہ کے آس پاس موجود کسی ديگر شخص کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی اطلاع موجود نہيں۔ ان کے بقول اس وقت کارروائی کے نتائج کا جائزہ ليا جا رہا ہے اور جب بھی ديگر تفصيلات سامنے آئيں گی، ان کے بارے ميں مطلع کر ديا جائے گا۔

افريقی يونين نے اپنے قريب بائيس ہزار فوجی صوماليہ ميں تعينات کر رکھے ہيںتصویر: Mohamed Abdiwahab/AFP/Getty Images

اگر امريکا کی اس فضائی کارروائی ميں الشباب مليشيا کے کسی سينئر رکن کی ہلاکت کی تصديق ہو جاتی ہے، تو يہ اس مليشيا کے ليے تازہ ترين دھچکا ثابت ہو گا۔ رواں برس ستمبر ميں اس گروپ کا قائد احمد عبدی جودان ايک اور امريکی حملے ميں مارا گيا تھا۔ پھر ابھی پچھلے ہفتے کے روز يعنی ستائيس دسمبر کو اس گروپ کے انٹيليجنس چيف زکريہ اسماعيل احمد ہرسی نے خود کو صومالی فورسز کے حوالے کر ديا تھا۔ دہشت گرد نيٹ ورک القاعدہ سے روابط رکھنے والے گروپ الشباب کے سينئر رکن ہرسی کے سر کی قيمت امريکا نے تين ملين ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔

دوسری جانب حاليہ ناکاميوں کے باوجود الشباب بھی اپنی کارروائياں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پچھلے جمعرات ہی کے روز اس گروپ کے جنگجوؤں نے صوماليہ کے دارالحکومت موغاديشو کے ہوائی اڈے پر افريقی يونين کے ہيڈکواٹرز پر دھاوا بول ديا، جس کے نتيجے ميں تين فوجی اور ايک سويلين ہلاک ہو گیا تھا۔

يہ امر اہم ہے کہ افريقی يونين نے اپنے قريب بائيس ہزار فوجی صوماليہ ميں تعينات کر رکھے ہيں، جو الشباب مليشيا کے خلاف برسرپيکار ہيں۔ اگرچہ يہ امن دستے دارالحکومت سے جنگجوؤں کو دھکيلنے ميں کامياب رہے ہيں تاہم ملک کے کئی وسطی اور جنوبی حصوں پر اب بھی الشباب ہی کا قبضہ ہے۔

اس گروپ نے اپنے حاليہ حملوں ميں اہم سرکاری اور سکيورٹی سے متعلق تنصيبات کو نشانہ بنايا ہے، جس کا مقصد بظاہر يہی ہے کہ صومالی حکام اور افريقی يونين کے ايسے دعووں کو غلط ثابت کيا جائے کہ وہ الشباب کے خلاف جنگ جيت رہے ہيں۔

صوماليہ ميں امريکا کا کوئی فوجی تعينات نہيں ہے البتہ واشنگٹن حکومت افريقی يونين اور عالمی برادری کی تسليم کردہ ماغاديشو حکومت کی حمايت کرتی ہے اور کبھی کبھار خصوصی دستوں يا فضائی حملوں کی مدد سے مخصوص اہداف کو نشانہ بناتی ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں