1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صومالیہ میں خود کُش حملہ: کم از کم آٹھ افراد ہلاک

Kishwar Mustafa5 مئی 2013

افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں آج اتوار کو ایک سرکاری قافلے پر ہونے والے خود کُش بم حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

تصویر: Reuters

سرکاری اہلکاروں کے مطابق موغادیشو کے ایک مصروف علاقے میں یہ خود کُش حملہ صومالیہ کے اُس فوجی قافلے پر کیا گیا، جو ایک چار رکنی قطری وفد کی حفاظت پر مامور تھا۔ خود کُش حملہ آور نے دھماکہ خیز مادے سے لدی ایک کار کو فوجی قافلے سے ٹکراتے ہوئے دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ بہت شدت کا تھا۔ دریں اثناء ایک سینئر پولیس اہلکار جنرل گراد نور عبدلے نے ایک بیان میں کہا کہ اس واقع میں قطری وفد کے اراکین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور انہیں محفوظ طریقے سے اُن کے ہوٹل پہنچا دیا گیا ہے۔

جائے وقوعہ پر موجود ایک سینئر آفیسر محمد عابدی نے بتایا کہ دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار شہریوں کے ساتھ ساتھ ایک فوجی بھی شامل ہے۔ اس موقع پر موغادیشو کے KM4 جنکشن پر لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہونے لگا، جسے منتشر کرنے کے لیے فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی۔

14 اپریل کو بھی موغادیشو میں خوفناک بم حملہ ہوا تھاتصویر: Reuters

صومالی حکومت نے دارالحکومت کی اُن چند مرکزی سڑکوں کو دوبارہ کھول دیا ہے، جنہیں چار روز قبل سکیورٹی کی وجوہات کے سبب بند کر دیا گیا تھا۔ موغادیشو کچھ عرصے سے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے اُن الشباب باغیوں کی خونی کارروائیوں کا ہدف بنا ہوا ہے، جو موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان عسکریت پسندوں نے حالیہ کچھ عرصے کے دوران متعدد بم حملے اور چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔ اس گروپ کو افریقی یونین کی فورسز کی طرف سے بھی دبانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ عسکریت پسند گروپ الشباب کا کبھی پورے موغادیشو پر قبضہ تھا۔ افریقی یونین اور صومالیہ کی فورسز نے اس گروپ کو 2011ء میں اس شہر سے مار بھگایا تھا تب بھی اس کے اراکین نے بم دھماکوں کا سلسلہ بند نہیں کیا۔

گزشتہ ماہ صومالیہ کی سپریم کوررٹ پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی اسی گروپ نے قبول کر لی تھی۔ اُن حملوں میں 35 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں نو حملہ آور جنگجو بھی شامل تھے۔

صومالیہ کے وزیر اعظم نے سپریم کورٹ پر ہونے والے حملوں میں غیر ملکی عناصر کا ہاتھ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ گزشتہ کئی سالوں میں ہونے والا سنگین ترین حملہ تھا اور اس میں جو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا، وہ بھی غیر معمولی نوعیت کا تھا، جس کے غیر ملکی ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اُن حملوں میں چھ خود کُش جبکہ دو کار بم حملے شامل تھے۔ اس نوعیت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو صومالی حکام القاعدہ کی تخریبی صلاحیتوں سے جوڑ رہے ہیں۔

دہشت گردانہ کارروائیوں سے سب سے زیادہ خوایتن اور بچے متاثر ہوتے ہیںتصویر: Mohamed Abdiwahab/AFP/Getty Images

الشباب کا دعویٰ ہے کہ اُس کے پاس سینکڑروں غیر ملکی تجربہ کار جنگجو موجود ہیں، جن میں سے کچھ کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے اور چند عراق اور افغانستان کی جنگ کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ الشباب امریکا اور یورپ میں آباد صومالی برادری سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرتا ہے۔ آج موغادیشو میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ دراصل لندن میں صومالیہ کے مستقبل کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس سے چند روز قبل ہوا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد صومالیہ کے لیے عالمی امداد کے طریقوں پر غور کرنا ہے۔

اس کانفرنس میں پچاس سے زیادہ ممالک اور تنظیمیں شرکت کریں گی، جس کی صدارت مشترکہ طور پر صومالی صدر شیخ محمود اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کریں گے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں موغادیشو میں اپنا سفارت خانہ کھولا ہے۔

km/aa(AP)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں