1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صومالیہ کی بحالی کے لیے کانفرنس

شامل شمس16 ستمبر 2013

پیر کے روز بین الاقوامی برادری نے ایک ایسے ’نئے معاہدے‘ کی منظوری دے رہی ہے جس کے ذریعے صومالیہ کی بد حال معیشت کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

REUTERS/Yves Herman
تصویر: Reuters

دو دہائیوں سے افریقی ملک صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اب بین الاقوامی برادری ایک نئے معاہدے پر متفق ہونے کے قریب ہے جس کے تحت صومالیہ کی خستہ حال معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے ساتھ برسلز میں ایک کانفرنس کے دوران ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات سے قبل کیتھرین ایشٹن کا کہنا تھا کہ صومالیہ کو ’’مشکل ترین صورت حال کا سامنا ہے۔‘‘ ایشٹن کا مزید کہنا تھا کہ یہ مذاکرات ایک ’’اہم موڑ‘‘ ہو سکتے ہیں۔

صومالیہ کے صدر نے بین الاقوامی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت شکر گزار ہیں کہ دنیا ان کے ملک کے لیے اتنی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کو سلامتی، قانونی اصلاحات، سرکاری اخراجات اور عمومی طور پر معیشت کی بحالی میں مدد کی اشد ضرورت ہے۔

محمود کا کہنا تھا کہ نئے معاہدے کا زمینی حقائق تبدیل کرنے میں کردار ضروری ہے۔ ’’کئی برسوں تک بحران کا شکار رہنے کے بعد صومالیہ کے عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔ ہم انہیں مایوس نہیں کر سکتے۔‘‘

دوسری جانب صومالیہ کی شدت پسند اسلامی تنظیم الشباب کے باغیوں نے اس کانفرنس کو وقت کا ضیاع اور ’’بیلجئم کی ایک مٹھائی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا: ’’جس کروڑوں کی رقم کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ اوّل تو صومالیہ کو ملے گی نہیں، اور جو معمولی رقم ملے گی بھی وہ بھی ’کافروں‘ تک ہی پہنچے گی، جو کہ کرپشن کی نذر ہو جائے گی۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’’یہ کانفرنس بیلجئم کے ’وافل‘ کی طرح ہے جو باہر سے تو میٹھی ہے مگر اس کے اندر کوئی ٹھوس چیز نہیں پائی جاتی۔‘‘

دو دہائیوں سے افریقی ملک صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہےتصویر: Reuters

جنوری کے مہینے میں صدر محمود کو صومالیہ کے سربراہ حکومت کے طور پر امریکا نے تسلیم کیا تھا۔ سن 1991 میں ڈکٹیٹر محمد سعید کی بر طرفی اور اس کے بعد ہونے والی خانہ جنگی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ امریکا نے کسی صومالی حکومت کو تسلیم کیا ہو۔

مذکورہ کانفرنس میں افریقہ، یورپ اور خلیج سے پچاس اعلیٰ عہدیدار شریک ہیں۔ اس کے علاوہ اس کانفرنس میں امدادی تنظیموں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں