صومالی صدر قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے
3 ستمبر 2013
صومالیہ میں القاعدہ سے قریبی وابستگی رکھنے والی جنگجو تنظیم الشباب ملکی ارکان پارلیمان پر بھی اکثر قاتلانہ حملے کرتی رہتی ہے۔ حسن محمد شیخ پر گذشتہ برس ان کے انتخاب کے محض دو روز بعد بھی ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ تب بھی وہ محفوظ رہے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آج منگل کے روز ہونے والے اس قاتلانہ حملے میں صدر اور ان کے قافلے کے ارکان بالکل محفوظ رہے۔ الشباب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں صدر حسن شیخ محمد کے قافلے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔
دوسری طرف صومالی عسکریت پسند گروپ الشباب کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس نے صدر حسن شیخ محمد کے قافلے پر حملہ کیا ہے اور ان کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو راکٹ گرینیڈ سے تباہ کر دیا گیا۔ الشباب کے ترجمان عبدالعزیز ابو مصعب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر کے قافلے پر حملہ دارالحکومت موغادیشو سے 100 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک علاقے میں کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے صومالی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’حملہ آوروں نے صدر کے قافلے پر حملے کی کوشش کی لیکن میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ صدر اور ان کے وفد کے تمام ارکان بحفاظت مرکہ پہنچ گئے ہیں اور اپنے شیڈول کے مطابق مقامی آبادی سے ملاقات کر رہے ہیں۔‘‘