طالبان: قیدی لے گئے، سوالات چھوڑ گئے
30 جولائی 2013
اس حملے میں 150دہشت گردوں نے حصہ لیا۔ اس دوران ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک جبکہ 14زخمی ہوئے۔ انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں چار قیدی اور پانچ خود کش حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین خود کش حملہ آوروں نے جیل کے اندر خود کو دھماکے سے اُڑایا۔
کارروائی مکمل کرنے کے بعد دہشت گرد بھاری اسلحہ بھی وہیں چھوڑ گئے۔ جیل انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کو انٹیلی جنس نے حملے کی اطلاع ایک روز قبل دی تھی، جس کے بعد فوری طور پر جیل کی سکیورٹی میں 25 اہلکاروں کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔ ایسے میں انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات صوبہ خیبر پختونخوا خالد عباس کے اس موقف نے معاملا ت کو اور بھی مشکوک بنا دیا ہے کہ تین روز قبل اس طرح کے حملے کی اطلاع تھی۔ دھمکی ملنے پر کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور انتظامیہ نے جیل کے نواحی علاقوں کے سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس طرح کے حملے کی توقع نہیں تھی۔ مزید یہ کہ جیل کے اندر موجود سکیورٹی اہلکاروں کے پاس ایسا جدید اسلحہ نہیں تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کا مقابلہ کر سکتے، پھر بھی تین سے چار گھنٹے تک ان کا مقابلہ کیا گیا۔
وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کے مُشیر برائے جیل خانہ جات ملک محمد قاسم خان کا کہنا ہے کہ متعدد عسکریت پسندوں نے جیل پر پانچ اطراف سے حملہ کیا، جو پولیس کی وردی میں تھے۔ یہ 150دہشت گرد تھے، جو پانچ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر آئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور ایک خاتون اہلکار اور پانچ خواتین قیدیوں کو بھی ساتھ لے گئے۔ ملک قاسم کا کہنا تھا:’’ہمارے ساتھ سب کچھ وفاقی حکومت کی جانب سے ہو رہا ہے۔ ایک روز قبل بھی وفاق سے یہی مطالبہ کیا تھاکہ قبائلی قیدیوں کے لیے الگ سے ہائی رسک جیل بنوائے۔ صوبے میں کہیں بھی ہائی رسک جیل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام پاکستان کے قبائلی علاقوں کے قیدی بھی خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قید ہیں، جو صوبے کی ذمہ داری میں نہیں آتے لیکن اس کے باوجود بھی وفاقی حکومت صوبہ خیبر پختونخوا کی بدنامی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔‘‘
دہشت گرد اپنے ساتھیوں کے نام پکارتے رہے اور انہیں جیل کی بیرکس سے نکال کر باہر لے جاتے رہے۔ اس دوران جیل کے کئی دروازے بھی توڑ دیے گئے، جس کے نتیجے میں کئی دیگر قیدی بھی فرار ہو گئے۔ یہ ساری کارروائی صرف 30منٹ میں مکمل کر لی گئی اور ڈھائی سو کے قریب قیدی آرام سے نکل گئے، جن میں کئی خطرناک قیدی بھی شامل تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ فرار ہونے والوں میں کئی ایسے قیدی بھی شامل ہیں، جن کی رہائی کا مطالبہ عسکریت پسند مذاکرات سے قبل کر رہے تھے۔
دوسری جانب کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مشتاق جدون کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والوں میں 30انتہائی خطرناک قیدی بھی شامل ہیں، جن میں سے کوئی بھی دوبارہ گرفتار نہیں ہو سکا تاہم سرچ آپریشن کے دوران 14قیدی دوبارہ سے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔“
خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کی بڑے جیلوں سے خطرناک قیدیوں کو رہا کروانے کے لیے اب تک متعد د مرتبہ حملے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی ضلع بنوں کی مرکزی جیل پر 15اپریل 2012ء کو 200 عسکریت پسندوں نے حملہ کیا اور کئی گھنٹے تک مقابلہ کرنے کے بعد 384 قیدیوں کو فرار کروایا۔ ان قیدیوں میں جنرل (ر) پرویز مشرف پر حملے میں ملوث عدنان رشید بھی شامل تھا۔ اگرچہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے اس معاملے میں انکوائری کا حکم دیا ہے۔
سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان کنٹونمنٹ کے انتہائی حساس علاقے میں واقع ہے جس کے ایک جانب کنٹونمنٹ تھانہ جبکہ دوسری جان پولیس لائن ہے۔ اس علاقے کو انتہائی محفوط علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ دو روز قبل جب جیل کے اندر قیدیوں اور انتظامیہ کے مابین تصادم ہوا تو سکیورٹی کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخو ا پرویز خٹک نے اس واقعے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی اس میں ملوث پایا گیا اور جس نے بھی غفلت کا مظاہر ہ کیا ہے، اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی جانب سے تیار کردہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے ساڑھے چار گھنٹے بعد پولیس آئی جبکہ پولیس لائن جیل کی عمارت سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ اس رپورٹ میں جیل عملے کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تین روز پہلے حملے کی اطلاع ملنے کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حملے کے وقت جیل کے اندر موجود رہے تاہم یہ بھی کہا گیا کہ جیل کے سکیورٹی اہلکاروں کے پاس اس طرح کا جدید اسلحہ نہیں تھا، جو دہشت گردوں کے پاس تھا۔ یہ ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو پیش کی گئی ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ یہ تحقیقاتی رپورٹ بھی بنوں جیل پر ہونے والے حملے کی تحقیقاتی رپورٹ کی طرح عوام کی نظروں سے اوجھل ہی رہے گی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل صوبے کی تیسری بڑی جیل ہے، جہاں انتظامیہ کے مطابق اس وقت 483 لوگ قید ہیں، جن میں سے 250 کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔ ان تنظیموں کے بارے میں چند روز قبل یہ خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ وہ خود کش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دیگر بڑے واقعات میں گرفتار اپنے ساتھیوں کو رہا کروانے کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کی مخصوص جیلوں پر حملے کر سکتی ہیں تاہم حکومت اور بالخصوص خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا گیا تھا۔