1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

طالبان: نئے ميڈيا کا بھرپور استعمال

11 اپریل 2012

افغان طالبان نے حال ہی ميں اپنی سرکاری ويب سائٹ پر ايک فورم قائم کيا ہے جہاں مذہبی سوالات کے جوابات ديے جاتے ہيں اور طالبان کے نظريات کے بارے ميں معلومات فراہم کی جاتی ہيں۔

طالبان کی ويب سائٹ کا اسکرين شاٹ
طالبان کی ويب سائٹ کا اسکرين شاٹ

طالبان کی ويب سائٹ پر جوابات دینا طالبان کے ترجمان ذبيح اللہ مجاہد کے ذمے ہے۔ مثال کے طور پر ايک نوجوان نے طالبان کے حکومت سنبھالنے کی صورت ميں اپنی آزاديوں کے بارے ميں سوال کيا: ’’کيا اسلامی امارات انتہا پسند ہو گی جيسے کہ پہلے تھی اور نوجوانوں کے خلاف طاقت استعمال کرے گی؟ کيا نوجوانوں کو دوبارہ سر کے بال منڈانا اور داڑھی رکھنا پڑے گی اور موسيقی اور ٹيليوژن کو ممنوع قرار ديا جائے گا؟‘‘ طالبان کے ترجمان نے اس کا جواب صرف بالواسطہ طور پر اس طرح ديا: ’’افغانستان کے نوجوان مسلمان ہيں۔ وہ اسلامی طريقوں پر عمل کرتے ہيں۔ يہ قوانين ہمارے بنائے ہوئے نہيں بلکہ خدا کی طرف سے ہيں اور ہميں ان کی پابندی کرنا چاہيے۔‘‘ ليکن طالبان کی طرف سے يہ بھی کہا گيا کہ صرف ضروری ضوابط ہی کو معاشرے ميں نافذ کيا جائے گا۔

کابل کے ہوٹل پر طالبان کا حملہتصویر: dapd

يہ معلوم نہيں کہ سوال کرنے والا نوجوان طالبان کے ترجمان کے اس جواب سے مطمئن ہو گيا يا نہيں۔ بہر حال يہ بالکل واضح ہے کہ طالبان ملک کے نوجوانوں کو مخاطب کرنا چاہتے ہيں جو کُل آبادی کا نصف ہيں۔ سن 1996 سے لے کر سن 2001  تک طالبان کے دور حکومت ميں ہر قسم کے بصری ميڈيا پر پابندی تھی۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ القاعدہ اور اسامہ بن لادن کی طرح طالبان بھی ميڈيا کی اہميت کے قائل ہو گئے ہيں۔ افغان انتہا پسندی کے محقق وحيد مُجدا نے کہا کہ طالبان نے اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ميڈيا کو اپنے پروپيگنڈے کے ليے استعمال کرنا شروع کيا۔ وہ وقت کی تبديليوں کا ساتھ ديتے ہوئے ميڈيا کی جنگ بھی جيتنا چاہتے ہيں۔ وحيد مُجدا نے مزيد کہا کہ طالبان کی دلچسپی کا رخ خاص طور پر فيس بک اور ٹوئٹر جيسے سوشل نيٹ ورکس کی جانب ہے۔

افغانستان ميں امريکی فوجیتصویر: AP

افغانستان ميں موجود بين الاقوامی فوج ايساف سے بھی يہ بات پوشيدہ نہيں کہ ميڈيا پرجنگ کا ايک اور ميدان کھل گيا ہے۔ ايساف کے ايک ترجمان نے ڈوئچے ويلے کو بتايا کہ ايساف، سوشل نيٹ ورکس کے ذريعے طالبان کی طرف سے زخمی يا ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بيان کرنے اور دوسری غلط اطلاعات کو درست کرنے کا کام انجام دے رہا ہے اور اُس کے نيٹ ورکس ديکھنے والوں کی تعداد خاصی زيادہ ہے۔ ابھی طالبان کی پيشکشوں کو ديکھنے والوں کی تعداد کم ہے اور خاص طور پر اُنہيں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنا ہو گا۔

افغان ميڈيا کے ماہر امين عظيمی نے کہا:’’تقريباً سن 2008 سے طالبان خود کو اعتدال پسند ظاہر کر رہے ہيں جس کا اندازہ اُن کی بہت محب وطن پيشکشوں سے بھی کيا جا سکتا ہے۔ اب وہ ’لامذہب مغرب‘ کی باتيں کم ہی کرتے ہيں اور قوم، آزادی، قبضے کے خاتمے کی باتيں زيادہ کرتے ہيں۔ انتہا پسندی پر تحقیق کرنے والے مُجدا بھی يہی سمجھتے ہيں کہ طالبان اپنا ايک نيا تصور اور تاثر دينا چاہتے ہيں۔ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کر رہے ہيں جنہيں وہ خود سے جوڑنا چاہتے ہيں۔

Hazrat Nazimi/sas/Hans Spross/aa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں