1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

طالبان کو تنہا کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، بلاول

28 ستمبر 2022

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے واشنگٹن میں دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں افغانستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

Pakistan l  Bilawal Bhutto Zardari wurde zum Außenminister ernannt
تصویر: Farooq Naeem/AFP

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق افغانستان کو تنہا کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا طالبان کے ساتھ رابطے میں رہے۔  اپنے دورہ واشنگٹن کے موقع پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ کی جانب سے طالبان پر عدم اعتماد اور اس ملک کے منجمد اثاثے سوئٹزرلینڈ کے ایک پروفیشنل فنڈ میں منتقل کرنے کے بعد '’متوازی حکومت‘‘ بنانے کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، ''ہم نے ماضی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ جب ہم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پاتے اور ان سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں تو ہم غیر ارادی طور پر ہی سہی پر اپنے لیے مزید مسائل پیدا کر لیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں معاشی تباہی، پناہ گزینوں کے انخلا اور دہشت گرد تنظیموں کو مزید مضبوط بنانے کے خطرے کے بارے میں ہمارے خدشات ان خدشات سے کہیں زیادہ ہیں، جو انہیں اپنے مالیاتی اداروں کے بارے میں لاحق ہو سکتے ہیں۔‘‘

افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط امریکی جنگ کے بعد گزشتہ سال طالبان نے ملکی اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔ اسی دوران پاک امریکہ تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہوا، جب واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ عسکریت پسند عناصر کو مدد بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے طالبان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار انتہائی دو ٹوک انداز میں کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا ڈی ڈبلیو اردو کے ساتھ مکمل انٹرویو

08:31

This browser does not support the video element.

ں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہبی بنیادوں پر بنی یا آمرانہ حکومت معاشی بد حالی کے دور میں بنیادی حقوق کو وسعت دینے کے عمل کو نظرانداز کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا، ''ایسی حکومتیں درحقیقت اپنی عوام کو مصروف رکھنے کے لیے بنیادی مسائل کی بجائے دیگر مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔‘‘

امریکی حکام کی جانب سے طالبان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو پناہ دے کر وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے باعث واشنگٹن اور کابل کے مابین مذاکرات کے کئی ادوار ناکام ہو چکے ہیں۔

بلاول بھٹو کی اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات

پیر کو ہونے والی ایک ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپنے امریکی ہم منصب بلنکن کے ساتھ مختلف اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔ امریکی وزیر خارجہ نے سیلاب کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں اور معاشی نقصانات پر پاکستان کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بحالی اور تعمیر نو کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

بلنکن کا کہنا تھا، ''ہم ایک سادہ سا پیغام دے رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ آج بھی ویسے ہی کھڑے ہیں، جیسے ماضی میں آنے والی قدرتی آفات کے دوران کھڑے تھے اور تعمیر نو کے عمل میں بھی ساتھ ہیں۔‘‘

پیر کو ہونے والی ایک ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپنے امریکی ہم منصب بلنکن کے ساتھ مختلف اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔تصویر: Kevin Lamarque/AFP

بلنکن نے پاکستان پر زور دیا کہ سیلاب سے پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر وہ اپنے قریبی اتحادی ملک چین سے قرضوں کی ادائیگی میں نرمی پر بات کرے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ''میں نے اپنے پاکستانی ہم منصب پر زور ڈالا ہے کہ وہ چین سے قرضوں میں نرمی اور ان کی تشکیل نو کے اہم معاملات پر بات کریں تاکہ پاکستان میں حالات جلد از جلد بہتر ہو سکیں۔‘‘

بلنکن کے مطابق بیجنگ بحر ہند کی بندرگاہ تک رسائی کے لیے اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر بنانے میں مصروف عمل ہے۔ بلنکن کے ان ریمارکس کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ ''انتہائی نتیجہ خیز مذاکرات‘‘ ہوئے ہیں۔

  بلاول بھٹو کا کہنا تھا، ''میرے خیال میں امریکہ چاہتا ہے کہ ہم چین کے اندرونی معاملات پر مزید تبصرہ کریں۔‘‘ انہوں نے کشمیر میں جاری بھارتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ پہلے ان بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، جن کی نشاندہی اقوام متحدہ کی جانب سے کی گئی ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے 2010ء  میں بھارت کے ساتھ آزادانہ طور پر تجارتی تعلقات بحال کیے۔ ان کے مطابق، ''ہم سیاسی خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھے، اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ دوسری طرف ایک معقول سیاسی کھلاڑی موجود ہے۔ بدقسمتی سے آج ایسا نہیں ہے۔ آج کا بھارت بہت مختلف ہے۔‘‘

ر ب/ ا ا (اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں