عارضی ڈيل ميں توسيع کا امکان ہو سکتا ہے، ايرانی نائب وزير خارجہ
10 جون 2014
عباس عراقچی کے بقول وہ اميد کرتے ہيں کہ فريقين بيس جولائی تک کسی طويل المدتی معاہدے تک پہنچ جائيں گے تاہم اگر ايسا ممکن نہ ہو سکا، تو اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ بچے گا کہ جنيوا ميں گزشتہ برس نومبر ميں طے اپنے والے چھ ماہ کے معاہدے ميں چھ ماہ تک کی توسيع کر دی جائے تاکہ مذاکرات کاروں کو وقت مل سکے۔ ايران کے نائب وزير خارجہ نے يہ بات پير کے روز سوئٹزرلينڈ کے شہر جنيوا ميں ايرانی اور امريکی وفود کی ملاقات کے موقع پر کہی۔
يہ امر اہم ہے کہ ايرانی انتظاميہ اور چھ عالمی طاقتوں کے مابين گزشتہ برس چوبيس نومبر کو چھ ماہ دورانیےکی ايک عارضی ڈيل طے پائی تھی، جس کے مطابق تہران کو چند متنازعہ جوہری سرگرميوں کو ترک کرنے کے بدلے میں کچھ مالی پابنديوں میں چھوٹ دی گئی تھی۔ اس ڈيل کی مدت بيس جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ فريقين اس عرصے ميں ايک جامع اور طويل المدتی ڈيل کو حتمی شکل دينے کی کوششوں ميں ہيں تاکہ ايران اور مغربی ممالک کے درميان سالہا سال سے چلے آ رہے فاصلے مِٹ سکيں۔ اس سلسلے ميں مذاکرات کا اگلا دور سولہ تا بيس جون ويانا ميں منعقد ہوگا۔
گزشتہ روز جنيوا ميں امريکی و ايرانی وفود نے باہمی مذاکرات ميں حصہ ليا۔ اس ملاقات ميں امريکا کے ڈپٹی سيکرٹری آف اسٹيٹ بل برنز اور انڈر سيکرٹری آف اسٹيٹ وينڈی شرمين نے بھی شرکت کی۔ امريکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہیرف نے اپنی يوميہ بريفنگ کے دوران اس بارے ميں بات کرتے ہوئے بتايا کہ کئی معاملات پر مبنی بات چيت کا يہ دور قريب پانچ گھنٹوں تک جاری رہا اور منگل کے روز بھی قريب پورا دن بات چيت جاری رہے گی۔
ايران کے نائب وزير خارجہ عباس عراقچی نے امريکی نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ بات چيت ’مثبت اور تعميری‘ رہی۔ تاہم ان کا مزيد کہنا تھا کہ متعدد اہم معاملات پر فريقين کے مابين اب بھی اختلافات برقرار ہيں اور اختلافات کم کرنے کے ليے مخالف فريق کو کچھ مشکل فيصلے کرنے پڑيں گے۔
دريں اثناء ايک فرانسيسی سفير کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز فرانسيسی اہلکار ايرانی وفد کے ساتھ ملاقات کريں گے۔ ايرانی ميڈيا کے مطابق ايرانی وفد بدھ اور جمعرات کو روسی وفد سے بھی ملاقات کرے گا۔
چھ عالمی طاقتوں کے ’پی فائيو پلس ون‘ کہلانے والے گروپ ميں امريکا، برطانيہ، جرمنی، فرانس، چين اور روس شامل ہيں اور مذاکرات ميں گروپ کی نمائندگی يورپی يونين کے خارجہ امور کی سربراہ کيتھرين ايشٹن کر رہی ہيں۔ بات چيت کے پچھلے دور ميں کچھ دورياں پيدا ہو گئی تھيں اور نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق ان دنوں جنيوا ميں جاری مذاکرات کا مقصد سولہ جون سے ويانا ميں شروع ہونے والے باقاعدہ مذاکرات کے ليے موزوں ماحول بنانا اور اختلافات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب اسرائيلی انٹيليجنس کے ايک سينئر اہلکار نے پير کے روز کہا کہ ايران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حل کے ليے جاری مذاکراتی عمل ميں ’سنجيدہ‘ ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ اسرائيلی انتظاميہ، تہران حکومت اور بالخصوص اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کی سخت ناقد ہے۔