1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عرب اسپرنگ خواتین کی خودمختاری میں ناکام رہی

عاطف بلوچ، روئٹرز
24 نومبر 2016

پانچ برس قبل عرب دنیا میں آنے والے انقلابات سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ ان کی وجہ سے خواتین کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آئے گی، تاہم یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

Maryam Mutlaq
تصویر: picture alliance/AP Photo/M.Muheisen

مختلف عرب ممالک میں جمہوریت، آزادی اور زیادہ خودمختاری کے لیے اٹھنے والی تحریک سے خواتین کی زندگیوں اور ان کے لیے روزگار کی منڈیوں میں زیادہ مواقع کی امید تو بر نہیں آئی، مگر اب ان ممالک میں خواتین اپنے اپنے طریقے سے مختلف شعبوں میں قائدانہ کردار ضرور ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

اردن کی مریم مطلق پلمبرنگ کا ہنر سیکھنے کے بعد خود اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں روایتی طور پر خواتین گھروں سے باہر نہیں نکلتیں ان کے لیے اپنا کاروبار شروع کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔

مریم ایک گھریلو خاتون تھیں، تاہم اردن کی اس رہائشی نے ایک امریکی امدادی تنظیم کی مدد سے پلمبرگ کا کام سیکھا۔ اردن میں جنس کی بنیاد پر علیحدگی سے متعلق سخت ضوابط کے تناظر میں خواتین کے لیے کسی حد تک یہ آسان ہے کہ وہ گھروں میں جا کر پلمبرنگ کا کام کر سکیں، کیوں کہ گھروں میں خواتین تنہا ہوتی ہیں۔

اب مریم آوزاروں کے ہم راہ مختلف گھروں میں جاتی ہیں۔ اپنے اس خواب کی تعبیر کے لیےمریم کو سخت تگ و دو کرنا پڑی۔ مریم کا کہنا ہے کہ خواتین وہ تمام رکاوٹیں رفتہ رفتہ ختم کر دیں گی، جو خواتین کو کام سے روکتی ہیں۔

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں