عمران خان کی بینائی میں ’بہتری‘، ذاتی معالج تصدیق سے قاصر
16 فروری 2026
سابق وزیر اعظم عمران خان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کی بینائی میں ''بہتری‘‘ کی اطلاع دی ہے، تاہم ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا ہے کہ وہ اس جائزے کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کیونکہ حکام نے انہیں اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم تک رسائی نہیں دی۔
ڈاکٹر عاصم یوسف نے یہ بات آج بروز پیر ایک ویڈیو پیغام میں کہی، جو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔ یہ بیان اس پیشرفت کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جب سپریم کورٹ کے حکم پر ماہر امراض چشم کے ایک پینل نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا۔
ڈاکٹر عاصم کے مطابق جیل کے ڈاکٹروں نے اتوار کو فون پر انہیں عمران خان کی آنکھوں کی حالت میں ''بہتری‘‘ اور جنوری کے آخر سے جاری علاج سے متعلق آگاہ کیا۔ جنوری میں عمران خان کی جانب سے بینائی کے جزوی نقصان کی شکایت کے بعد اسلام آباد کے ایک اسپتال میں ایک طبی عمل کروایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس مبینہ بہتری کی تصدیق کر سکتے تو انہیں ''انتہائی خوشی‘‘ ہوتی۔
انہوں نے کہا، ''بدقسمتی سے چونکہ میں نے خود انہیں نہیں دیکھا اور نہ ہی ان کے علاج میں شریک ہو سکا یا ان سے بات کر سکا، اس لیے میں ہمیں دی گئی معلومات کی صداقت کی تصدیق یا تردید کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ آئندہ کسی بھی علاج کے لیے عمران خان کو اسلام آباد کے کسی اسپتال میں منتقل کیا جائے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیر کو ایکس پر لکھا کہ اڈیالہ جیل کے اندر عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں نے پایا کہ ان کی بینائی میں بہتری آئی ہے اور ''کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔‘‘
عمران خان کی بینائی سے متعلق تشویش اس وقت سامنے آئی تھی، جب حکومت نے بتایا کہ انہوں نے آنکھوں کا ایک مختصر طبی عمل کروایا ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو جیل میں ان سے ملاقات کی ہدایت دی۔
بعد ازاں سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں میں تشویش پھیل گئی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں احتجاج کیا اور عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ بعض ارکان اسمبلی اور اتحادی گزشتہ ہفتے سے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
73 سالہ عمران خان 2023 سے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سزا کے بعد جیل میں ہیں۔ انہیں اپریل 2022 میں عدم اعتماد کی پارلیمانی تحریک کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تھا۔
عمران خان کا مؤقف ہے کہ ان کی برطرفی امریکہ کی حمایت یافتہ سازش کا نتیجہ تھی، جس میں سیاسی مخالفین اور فوج شامل تھے، تاہم واشنگٹن، پاکستان کی فوج اور عمران خان کے سیاسی مخالفین بشمول وزیر اعظم شہباز شریف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
قانونی چیلنجز کے باوجود عمران خان بدستور ملکی سیاست میں ایک مرکزی کردار رکھتے ہیں اور انہیں مضبوط عوامی حمایت حاصل ہے۔
ادارت: جاوید اختر