عوامی احتجاج: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ منسوخ
3 اپریل 2012
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود ایشیا کی دو ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں انڈونیشیا اور ملائشیا نے بھرپور کوشش کی ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم سے کم رکھیں۔ اس مقصد کے لیے ان حکومتوں کی طرف سے بڑی سبسڈیز دی جا رہی ہیں۔
انڈونیشیا کی پارلیمان کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت جمعہ کے روز دی جانا تھی۔ پٹرول کی فی لٹر قیمت 4500 روپے ہے جو امریکی کرنسی میں 49 سینٹ بنتی ہے۔ گزشتہ فیصلے کے مطابق یہ قیمت 6000 انڈونیشی روپے کی جانا تھی۔ تاہم کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد، جو کئی مرتبہ پر تشدد بھی رہا، پارلیمان نے مستقبل قریب میں پٹرول کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔
انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بامبانگ یودھو یونو نے قیمتوں میں اضافے کے اس بل کی منظوری اتوار یکم اپریل کو دینا تھی۔ تاہم پارلیمان نے اس معاملے کو فی الحال ختم کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کی صورت میں اس بل پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمتوں کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی نسبتاﹰ کم رہتی ہیں اور ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں حکومت کی جانب سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے اقتصادی حوالے سے یہ سہولت انتہائی اہم ہے۔
انڈونیشیا کے واحد انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر احمد سوادے کے بقول انڈونیشیا کے عوام جن کی اکثریت روزانہ دو ڈالر یومیہ سے بھی کم پر گزر بسر کرتی ہے، بدعنوان حکومت کی طرف سے ملکی بجٹ کو غیر ذمہ داری سے خرچ کرنے پر حکومت سے نالاں ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے سوادے کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں انڈونیشیا کے عوام قیمتوں میں اضافے کو اس صورت میں قبول کر لیں گے جب انہیں یقین ہو کہ ان کا پیسہ کسی تعمیری کام کے لیے خرچ ہوگا، مثلاﹰ انفرا سٹرکچر یا تعلیم وغیرہ کے لیے۔‘
گزشتہ برس انڈونیشیا میں پٹرولیم مصنوعات کی مد میں 14 بلین امریکی ڈالرز کے برابر سبسڈی دی گئی تھی۔ ان سبسڈیز کا حجم ملکی بجٹ کے 11 فیصد تک تھا۔ یہ رقم اس سے کہیں زیادہ تھی جو حکومت نے مجموعی طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کی۔ تعلیم کے لیے گزشتہ برس نو بلین امریکی ڈالرز کے برابر جبکہ صحت کے لیے 1.4 بلین امریکی ڈالرز کے برابر رقوم خرچ کی گئی تھیں۔
ab/mm (AFP)