عورت کی تاریخی جدوجہد
18 جنوری 2026
تاریخ کے ابتدائی دور ہی سے جب انسان نے آبادیاں قائم کرنا شروع کیں تو عورت اور مرد کے کام الگ الگ ہو گئے تھے۔ مرد شروع سے ہی خود کو طاقتور سمجھتا تھا۔ جب اس کے پاس جنگی ہتھیار آئے تو اس کی طاقت اور بھی بڑھ گئی۔ عورت کھیتی باڑی اور گھریلو کاموں میں مصروف ہو گئی، جس کی وجہ سے مرد طاقت و بہادری کی علامت بن گیا اور عورت امن کی۔ اس وجہ سے عورت کو کمزور سمجھا جانے لگا اور اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرد نے اسے دیوی دیوتاؤں کی خوشنودی کے لیے قربان بھی کیا۔
ریاست مائسینی کے بادشاہ اور یونانی فوج کے سپہ سالار اگامیمنون (Agamemnon ) ٹرائے کی جنگ کے لیے جا رہے تھے تو راستے میں سمندری طوفان آ گیا۔ اس خطرے کو دور کرنے کے لیے انہوں نے اپنی بیٹی کی قربانی دے دی تھی۔
ایک دوسری مثال قدیم امریکی مایا تہذیب کی ہے، جس میں یہ رواج تھا کہ ہر سال مذہبی رسومات کے بعد پجاری کے ذریعے کسی دوشیزہ کو ایک بڑے کنویں میں پھنکوایا جاتا تھا تاکہ دیوتا کی خوشنودی حاصل ہو۔
قدیم مصر میں بھی یہ رسم تھی کہ اگر دریائے نیل میں طوفان آتا تھا تو کسی دوشیزہ کی قربانی دی جاتی تھی۔ ہندو مذہب میں دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے یہ رسم رہی کہ عورتیں مندروں میں رقص کریں، گانے گائیں اور اپنی ساری زندگی دیوتاؤں کی خوشنودی کے لیے وقف کر دیں۔ ہندوستان میں انہیں دیوداسیاں کہا جاتا تھا۔
اپنی اس کمزوری کے باوجود خواتین معاشرتی کاموں میں حصہ لیتی تھیں۔ افریقہ میں قبائل کے درمیان جنگ کے وقت عورتیں اپنے مردوں کے لیے کھانا پکاتی تھیں۔ جنگ کے موقع پر وہ اپنے آدمیوں کی ہمت بڑھاتی تھیں۔
خواتین نے سیاست میں بھی دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ مثلاً جب قسطنطنیہ کے بادشاہ جسٹینین اول کے خلاف سازش ہوئی اور وہ ملک چھوڑنے لگے تو ان کی ملکہ تھیوڈورا نے سازش پر قابو پا کر دوبارہ سیاسی استحکام پیدا کیا۔ تھیوڈورا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی ذہانت، جرات اور سیاسی بصیرت کی مالکہ تھیں۔ ہندوستان میں اس کی مثال نور جہاں کی ہے، جنہوں نے مہاوت خان کی بغاوت کے دوران، جہانگیر کو قید سے رہائی دلائی۔
تاریخ میں ہمیں ان عورتوں کے تذکرے ملتے ہیں، جنہوں نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور کمزور سمجھے جانے کے باوجود کامیابی کے ساتھ حکومت کی۔ اس ضمن میں ہندوستان کی رضیہ سلطانہ، چاند بی بی، نور جہاں اور مغلانی بیگم کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جھانسی کی رانی اور حضرت محل نے انگریز حکومت کے خلاف 1857ء کی جنگِ آزادی میں مزاحمت کی۔
ہندوستان میں ایک عرصے تک اشرافیہ میں پردے کا رواج نہیں تھا، لیکن جب عورت کو مرد کی ملکیت سمجھا جانے لگا تو اس کی عزت کی حفاظت کے لیے حرم کی بنیاد رکھی گئی، جہاں عورتیں ٹرانس جینڈرز کی نگرانی میں رہتی تھیں۔ نچلے طبقے کی عورتیں جب باہر نکلتی تھیں تو برقع پہن کر جاتی تھیں تاکہ مردوں کے معاشرے میں وہ نظر نہ آئیں۔ جب کسی خاندان کی حالت اچھی ہو جاتی تھی تو وہ بھی عورتوں کو پردہ کرانے لگتے تھے۔ اشرافیہ کے خاندانوں کی عورتیں نجی طور پر تعلیم حاصل کر لیتی تھیں، مگر نچلے طبقوں میں تعلیم کا کوئی رواج نہیں تھا۔
برصغیر میں بعض جگہوں پر عورتوں کی مظلومیت کی انتہا یہ تھی کہ انہیں مرد کی جائیداد سمجھی جاتی تھیں اور شوہر کے مرنے پر انہیں بھی اس کے ساتھ ہی جلا کر مار دیا جاتا تھا، اس رسم کو ستی کا نام دیا گیا تھا۔ یہ ایک ہندو رسم تھی۔ اگر کوئی عورت ستی نہ ہوتی تو اسے معاشرے میں منحوس خیال کیا جاتا۔ اسے کسی خوشی کے موقع پر مدعو نہیں کیا جاتا، نہ ہی دوبارہ شادی کی اجازت دی جاتی۔ ایسی عورتیں زندگی بھر تنہائی اور اداسی میں زندگی گزارتی تھیں۔
موجودہ زمانے میں عورت تاریخ کے اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آئی ہے، مگر اب بھی اسے اپنے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنی ہے۔
نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔