1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

غزہ جنگ: ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے بتیس ہزار سے تجاوز کر گئی

30 مارچ 2024

ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن کے چار اہلکار ایک گولہ پھٹنے سے زخمی ہوگئے۔ اسرائیل کی جانب سے حملے کی تردید کر دی گئی۔

Zerstörung nach israelischen Angriffen in Gaza
تصویر: Ashraf Amra/Anadolu/picture alliance

 حماس کے زیر انتظام غزہ میں قائم وزارت صحت نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں میں غزہ پٹی میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 32,705 ہو چکی ہے۔

وزارت صحت نے آج ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 82 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر سے جاری ان حملوں میں زخمیوں کی مجموعی تعداد اب 75,190 تک پہنچ چکی ہے۔ موجودہ جنگ کا آغاز حماس کے  سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے ہوا تھا، ان حملوں میں  اسرائیل میں تقریباً 1,160 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں بارہا غزہ میں قحط سے متعلق خبردار کر چکی ہیںتصویر: AFP/Getty Images

 عینی شاہدین کے مطابق تازہ جھڑپوں اور دھماکوں نے غزہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہلال احمر کے مطابق  قحط کی لپیٹ میں آئے ہوئے شمالی غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران افراتفری سے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ حماس کے پریس آفس نے گزشتہ روز 50 سے زیادہ اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے، جس میں ساحلی علاقے میں "شہریوں کے مکانات" کو نشانہ بنایا گیا، نیز غزہ سٹی اور جنوبی غزہ میں ٹینکوں سے شیلنگ کی گئی۔

حماس کے ٹھکانوں پر حملے

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے وسطی اور شمالی غزہ میں عسکریت پسندوں کے کمپاؤنڈز سمیت درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ فلسطینی شہری دفاع کے ادارے کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں غزہ شہر کی ایک سڑک پر حملے کے بعد ایک تباہ شدہ گاڑی کو دکھایا گیا۔

 اس گاڑی میں سے دو لاشوں کو نکال کر ایمبولینس میں ڈال کر لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

 ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفا کے ارد گرد 13ویں روز بھی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق رابطہ دفتر اوچا کے مطابق  فلسطینی علاقوں کے زیادہ تر ہسپتال کام نہیں کر رہے ہیں اور اس کا صحت کا نظام 'بمشکل بچا ہوا ہے۔‘

اسرائیلی فوج حماس اور اسلامی جہاد کے عسکریت پسند گروپوں کے جنگجوؤں پر طبی سہولیات کے اندر چھپنے، مریضوں، عملے اور بے گھر افراد کو کور کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے گزشتہ تیرہ دن سے غزہ میں قائم سب سے بڑے ہسپتال الشفا کا محاصرہ کر کے اس پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیںتصویر: Ronen Zvulun/Reuters

امن مبصر مشن کے اہلکار زخمی

اقوام متحدہ کے جنوبی لبنان میں تعینات امن مشن (یو این آئی ایف آئی ایل) کے تین مبصرین اور ان کا ایک مترجم ہفتے کے روز اس وقت زخمی ہو گئے، جب دوران گشت ایک گولہ ان کے قریب آ کر گرا۔

یو این آئی ایف آئی ایل کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گیا امن مشن میں شامل اہلکاروں کو نشانہ بنانا ''ناقابل قبول‘‘ ہے۔ دو سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیلی حملے میں امن مشن کے مبصرین زخمی ہوئے ہیں لیکن اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں حملے کی تردید کی۔

لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے بھی اس حملے کی مزمت  کی ہے۔

امن مذاکرات کے نئے دور کی منظوری

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل اور حماس کے عسکریت پسندوں کے مابین غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے ایک نئے دور کی منظوری دی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ اقدام  گزشتہ پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد کے بعد سامنے آیا ہے، جسں میں غزہ میں ''فوری جنگ بندی‘‘کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس نوعیت کے اپنے ایک حکم نامے میں دنیا کی سب سے اعلیٰ عدالت نے بھی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ کے  مایوس شہریوں تک امداد کی پہنچ کو یقینی بنائے۔ تاہم غزہ میں جاری لڑائی میں نرمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

ش ر⁄ رب، ع آ (روئٹرز، اے ایف پی)

غزہ تک امداد کيسے پہنچائی جا رہی ہے؟

03:00

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں