1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ میں مرنے والے کون تھے؟

ندیم گِل9 اگست 2014

غزہ جنگ کے نتیجے میں مرنے والوں میں عام شہری زیادہ تھے یا فائٹر۔ اس بارے میں متضاد اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں جو لڑائی کے بارے میں عالمی رائےکے قیام میں ان ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

Israel Palästinenser Gaza Angriff auf Gaza City 08.08.2014
تصویر: Reuters

خبر رساں ادارے اے پی نے اس شرح تناسب کو ایک خوفناک حساب کتاب قرار دیا ہے جس کے بارے میں غزہ میں کام کرنے والے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی میں ہلاک ہونے والے تقریباﹰ انیس سو فلسطینیوں میں سے تین چوتھائی عام شہری تھے۔ ان میں ساڑھے چار سو بچے بھی شامل تھے جبکہ بعض حملوں میں تو پورے کے پورے خاندان ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل کے اندازوں کے مطابق مرنے والوں میں سے چالیس سے پچاس فیصد تک فائٹر تھے۔ اے پی کے مطابق ہلاکتوں کا ریکارڈ رکھنے والے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں سے کون عام شہری تھا اور کون فائٹر۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ اس مقصد کے لیے عینی شاہدین اور فیلڈ ریسرچرز کے کمیونٹی روابط پر انحصار کرتے ہیں۔ المیزان سینٹر برائے انسانی حقوق کے محمود ابوراما کا کہنا ہے کہ ان کے محققین عام شہریوں اور فائٹرز کی ہلاکتوں کا تعین کرنے کے لیے کم از کم دو ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے اپنی انٹیلیجنس رپورٹیں استعمال کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق غزہ میں ہونے والی تباہی نے دنیا کو شرمسار کر دیا ہےتصویر: Reuters

اے پی کے مطابق عام شہریوں اور دیگر ہلاکتوں کے تناسب کو فریقین اپنا اپنا موقف بیان کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ دراصل لڑائی کے دوران کیا ہوا تھا۔ اسرائیل کو غزہ میں عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے بہت کچھ کر سکتا تھا۔

بان کی مون نے رواں ہفتے ایک بیان میں کہا تھا: ’’غزہ میں بھاری تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں اور بربادی نے دُنیا کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔‘‘

تاہم نیویارک میں کولمبیا لاء اسکول سے منسلک انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی وکیل سارا نَکی کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے زیادہ تناسب سے یہ ضروری نہیں کہ جنگی ضوابط کی خلاف ورزی بھی ہوئی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے قانونی سوال جنم لے سکتے ہیں لیکن یہ جواب نہیں ملتا کہ کسی بھی فریق نے غیرمتناسب حملوں کے خلاف کوئی قانون توڑا ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر واقعے کو انفرادی طور پر جانچنا ہو گا۔

عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وضاحت کرتے ہوئے اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ غزہ میں رہائشی علاقوں سے حملے کیے گئے۔ اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل مِکی آڈیلشٹائن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ان کی زیر قیادت بہت زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے سے اجتناب کیا تھا کیونکہ وہاں عام شہری موجود تھے اور حماس نے اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھایا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں