غزہ کی تعمیر نو، رفح گزرگاہ کا کُھلنا، اُمید یا مزید تاخیر؟
24 جنوری 2026
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے امور مشرق وسطیٰ اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر نے ہفتہ 24 جنوری کو اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بظاہر مقصد غزہ کی تازہ ترین صورتحال اور مشرق وسطیٰ کے خطے کی علاقائی سکیورٹی کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ مذاکرات کرنا تھا۔ اس دوران مقامی حکام نے غزہ پٹی میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات کی اطلاع دی۔
قبل ازیں امریکہ نے جمعرات کے روز ''نئے غزہ‘‘ کی تعمیر نو کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا، جن میں جدید رہائشی ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز اور ساحلی تفریحی ریزارٹس کی تعمیر شامل ہے۔
یہ منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کوشش کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ایک ایسی جنگ بندی جسے بارہا خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے۔
مقامی حکام کی جانب سے مزید ہلاکتوں کی اطلاع
غزہ کی فلسطینی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز بتایا کہ اسرائیلی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعات شمالی غزہ پٹی میں دو مختلف مقامات پر پیش آئے۔
وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں اموات کی مجموعی تعداد 71,654 تک پہنچ چکی ہے، جن میں اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد 481 ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان نے ملاقات کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی، تاہم اس کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
غزہ کی ساحلی پٹی اس جنگ کے دوران تقریباً ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکہ کی حمایت یافتہ عبوری فلسطینی کمیٹی کے سربراہ، علی شعت، نے جمعرات کو کہا تھا کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ ، جو عملی طور پر غزہ کے دو ملین سے زائد رہائشیوں کے لیے اندر آنے اور باہر جانے کا واحد راستہ ہے ، آئندہ ہفتے کھول دی جائے گی۔
سرحد کے متوقع طور پر کھلنے سے قبل ان معاملات سے واقف تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ مصر کے ساتھ اس سرحدی گزرگاہ سےغزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود رکھی جائے، تاکہ وہاں سے باہر جانے والوں کی تعداد اندر آنے والوں سے زیادہ ہو۔
یہ سرحد ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کے تحت کھلنی تھی جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیا تھا۔
یہ سرحد جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں ہی کھل جانی چاہیے تھی۔
اس ماہ کے آغاز میں واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ یہ منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جس کے تحت توقع ہے کہ اسرائیل غزہ سے مزید فوجیں پیچھے ہٹا لے گا، اور حماس علاقے کی انتظامیہ کا کنٹرول چھوڑ دے گی۔
رفح کی گزرگاہ کا غزہ والا حصہ 2024 سے اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔
کُشنر کا غزہ وژن
ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ امور کے مشیر جیرڈ کُشنر نے جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں داووس اقتصادی فورم کے دوران اپنی دس منٹ کی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ اگر سکیورٹی یقینی ہو جائے توغزہ کے وہ شہر، جو دو سال سے زائد عرصے کی جنگ کے باعث ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں، تیزی سے دوبارہ تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ''مشرقِ وسطیٰ میں اس طرح کے شہر… تین سال میں بنا دیے جاتے ہیں۔ اور اگر ہم واقعی یہ کرنا چاہیں، تو ایسے منصوبے بالکل ممکن ہیں۔‘‘ غزہ کی تعمیر نو کے اپنے تصور کی تصویر کشی کرتے ہوئے جیرڈ کُشنر نے غزہ کے جدید شہر کو چمکتے ہوئے بلند و بالا ٹاورز، سیّاحوں کی توجہ کی مرکز والا شفاف ساحل، اور بحیرۂ روم میں دور تک پھیلے ہوئی جدید ترین بندرگاہ سے تعبیر کیا تھا۔
ادارت: افسر اعوان