غنوشی پر مستعفی ہونے کے لئے بڑھتا ہوا دباؤ
23 جنوری 2011تیونس میں حکومت مخالف مظاہرین نے اپنی اس احتجاجی ریلی کو’ آزادی کے کارواں‘ کا نام دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس احتجاجی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ محمد غنوشی اپنے عہدے سے استعفی دیں۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ بن علی نے تئیس سال تک ملک پر حکمرانی کی۔
اتوار کو پرجوش مظاہرین ہاتھوں میں تیونس کے پرچم اٹھائے دارالحکومت کی سڑکوں پر مارچ کرتے رہے۔ مارچ میں شامل ایک ادھیڑ عمر شخص نے خبررساں ادارے AFP کو بتایا:’’ ہم یہاں اس لیے آئیں ہیں تاکہ ملک میں موجود باقی ماندہ آمریت کا بھی خاتمہ کر دیا جائے۔‘‘ گزشتہ روز اس کارواں کا آغاز Menzel Bouzaiane نامی اس علاقے سے ہوا، جہاں گزشتہ سال چوبیس دسمبر کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پہلا شخص ہلاک ہوا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق بن علی کے خلاف شروع ہونے والے ان مظاہروں میں کم ازکم 69 افراد ہلاک ہوئے۔
عبوری حکومت کے خلاف منعقد کیے جا رہے ان مظاہروں میں شامل ایک شخص نے کہا کہ وہ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں تاکہ جمہوری دور شروع ہو سکے، جہاں لوگ غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل سے چھٹکارہ پا سکیں۔
اگرچہ عبوری وزیراعظم محمد غنوشی نے مظاہرین کو یقین دلایا ہے کہ وہ جلد از جلد آزاد انتخابات منعقد کروانے کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے کو خیر باد کہہ دیں۔ غنوشی، اسی حکومت کا حصہ ہیں جو مفرور صدر بن علی نے قائم کی تھی لیکن اب وہ خود کو بن علی کی سیاسی پارٹی سے الگ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
دوسری طرف ایسے خدشات بھی پیدا ہو چکے ہیں کہ تیونس میں یاسمین انقلاب کے بعد اب دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی آمریت کے خلاف لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ تیونس کے بعد یمن اور الجزائر میں بھی ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئیں ہیں۔
رپورٹ: عاطف بلوچ
ادارت: عصمت جبیں