’غیرت کے نام پر عورتیں ہی کیوں قتل ہوں‘، ترکی میں شوہر قتل
10 جولائی 2015
کیلیم کارابولوت نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اُس نے اپنے 33 سالہ شوہر حسن کارابولوت کو گھر پر رکھی ایک پستول سے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔ یہ واقعہ ترکی کے جنوبی علاقے ادانا میں پیش آیا۔ ترک اخبار حُریت میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق کیلیم کارابولوت کا پولیس کو بیان دیتے ہوئے مزید کہنا تھا،’’ آخر ہمیشہ عورتوں ہی کو کیوں ہلاک کیا جائے۔ میں نے اپنے شوہر کا قتل غیرت کی خاطر کیا ہے‘‘۔
اس واقعے نے ترک میڈیا میں تہلکا مچا دیا ہے۔ خاص طور سے کیلیم جس بہادری سے دو خواتین پولیس اہلکاروں سے ہتھکڑی لگوا کر عدالت میں پیش ہوئی اور جس دلیرانہ طریقے سے اُس نے اپنا بیان دیا وہ ترکی جیسے معاشرے میں انتہائی حیران کُن اور معیوب بات ہے۔ کیلیم اپنے ہاتھوں کے انگوٹھے کو اوپر کیے ہوئے تھی اور اُس نے جو ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اُس پر انگریزی میں لکھا تھا’ ڈیئر پاسٹ تھینکس فار اوول لیسنز ۔ ڈیئر فیوچر آئی ایم ریڈی‘‘۔ یعنی’’ ڈیئر ماضی تمام تر سبق کا شکریہ۔ ڈیئر مستقبل میں تیار ہوں‘‘۔
مقامی رپورٹوں کے مطابق کیلیم نے اپنے شوہر کا قتل گزشتہ بُدھ کو کیا تھا اور بعدازاں اُس نے پولیس کو کال کر کے خود کو اُس کے حوالے کردیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ ماضی میں اُس کا شوہر مسلسل اُسے زدوکوب کرتا رہا اور پھر اُس سے طوائف یا جسم فروش بننے پر مجبور کر رہا تھا۔
اس جوڑے کی ایک ڈیڑھ سالہ بچی ہے جسے اُس کے باپ یعنی حسن کارابولوت کے قتل کے وقت دور کردیا گیا تھا۔ اخبار حُریت نے بھی کیلیم کارابولوت کا بیان چھاپا ہے جس میں اُس نے کہا تھا کہ ’’میں نے اپنے شوہر کو اس لیے قتل کیا کہ وہ مجھے برابر مارتا پیٹتا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھے عصمت فروشی اور منشیات کی طرف دھکیل رہا ہے اور وہ مجھے مار دے گا‘‘۔
ترک حکام اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ اُن کے معاشرے میں خواتین کے ساتھ تشدد جیسے سنگین مسائل پائے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر عورتوں کو اُن کے شوہر یا دیگر رشتہ دار قتل کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس عورتوں کی طرف سے اپنے شوہروں کو تشدد کا شکار بنانا ترک معاشرے میں بہت ہی نایاب ہے۔
خواتین کے ساتھ ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری پلیٹ فارم کے مطابق 2014 ء میں ترکی میں 286 خواتین کا قتل ہوا اور رواں سال یعنی 2015 ء میں اب تک 160 عورتین قتل کی جا چُکی ہیں۔