1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غیر قانونی مہاجرین اور یورپی یونین کو درپیش بحران

23 جون 2011

کئی عرب ملکوں میں حکمرانوں کے خلاف جو عوامی احتجاجی لہر چھ ماہ سے بھی زائد عرصہ قبل شروع ہوئی تھی، اس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں عرب اور شمالی افریقی باشندے بحیرہء روم پار کر کے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہو چکے ہیں۔

یونان میں غیر قانونی مہاجرینتصویر: picture alliance / dpa

لیکن یورپ پہنچنے والے ان غیر قانونی تارکین وطن میں سے ہر کسی کو اپنے ملک میں بدامنی اور مسلسل خونریزی کا سامنا نہیں تھا اور نہ ہی ایسے سارے کے سارے مہاجرین عرب نسل کے باشندے تھے۔ ایسے غیر ملکیوں میں سے ایک مثال اریٹریا کے 25 سالہ شہری یوہانیس کی بھی ہے، جس نے اپنے مالی خوشحالی کے خواب اور محفوظ زندگی کی خواہش کے باعث یورپ کے غیر قانونی لیکن بہت پرخطر سفر کا فیصلہ کیا۔

یورپی یونین کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے یوہانیس چار سال تک لیبیا میں مقیم رہا اور اس کے بقول اس کا ارادہ تھا کہ مستقبل میں بھی وہ لیبیا ہی میں رہے۔ لیکن پھر شمالی افریقہ کی اس عرب ریاست میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور اریٹریا کے اس شہری نے اسمگلروں کو پیسے دے کر ان کی ایک کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپی یونین تک کے بہت خطرناک سمندری سفر کا تہیہ کیا۔ اب یہ افریقی شہری یورپ پہنچ چکا ہے لیکن وہ تقریباﹰ 100 دوسرے غیر قانونی مہاجرین کے ساتھ فرانس کے بندرگاہی شہر کَیلے (Calais) کی ایک ایسی فیکٹری میں وقت گزاری کرتا ہے، جہاں ہر طرف گندگی اور کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ ان غیر ملکیوں میں سے اکثر سیاسی پناہ سے متعلق اپنی درخواستوں پر فرانسیسی حکام کی طرف سے فیصلے کے انتظار میں ہیں۔

یورپی ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے لیے زیادہ تر سمندری راستہ اختیار کیا جاتا ہےتصویر: picture alliance/dpa

یوہانیس کا کہنا ہے کہ فرانس کے اس بندرگاہی شہر میں اسے یوں لگتا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل کھیل رہا ہے اور یہ بھی نہیں جانتا کہ دونوں میں سے چوہا کون ہے۔ کَیلے کی اس فیکٹری میں ایک انٹرویو کے دوران یوہانیس نے پولیس کے خوف سے اپنا پورا نام بتاتے سے انکار کر دیا۔ ساتھ ہی اس نے کہا، ’’میں ایسے سوتا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی ایک آنکھ بند کر لی اور دوسری کھلی رکھی۔ پھر بغیر رکے ہوئے اس نے کہا، ’’میں اپنی دونوں آنکھیں کبھی بند نہیں کرتا۔ میں اپنے جوتے بھی نہیں اتارتا، میرے پاس ایک سیڑھی بھی ہے تاکہ اگر اچانک پولیس یہاں آ جائے تو میں فرار ہو سکوں۔‘‘

اریٹریا کا یہ شہری فرانس میں ملکی حکام اور سکیورٹی اہلکاورں کے اپنے ساتھ برتاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بے یقینی اور افسوس کے ساتھ سر ہلانے لگتا ہے۔ یوہانیس کہتا ہے، ’’جب میں افریقہ میں تھا، میں سفید فام لوگوں کو فرشتوں جیسا سمجھتا تھا۔ ہو سکتا ہے کسی دن وہ اپنی سوچ بدل لیں۔ ہو سکتا ہے انہیں میری بات سمجھ آ جائے۔‘‘

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت IMO کا اندازہ ہے کہ صرف لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف احتجاج اور پھر خونریز لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک لیبیا سے قریب ایک ملین انسان دوسرے ملکوں میں پناہ گزین ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 98 فیصد نے ہمسایہ ریاستوں مصر، تیونس اور الجزائر میں پناہ لی لیکن باقی مہاجرین نے تیونس کے اپنے ساتھ شامل ہو جانے والے ہزار ہا شہریوں کے ساتھ یورپ کا رخ کیا۔ ان کے یورپی یونین کے علاقے میں داخل ہوتے ہی یورپ کے لیے ایک نیا بحران پیدا ہو گیا۔

اس پس منظر میں یورپ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں ان دنوں اتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ سال رواں کے اختتام تک بہت بڑی تعداد میں غیر قانونی مہاجرین کی یورپ آمد کا وہ سالانہ ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے، جو سن 2008 میں دیکھنے میں آیا تھا۔ IMO کے اعداد و شمار کے مطابق 2008ء میں سال بھر کے دوران اٹلی اور مالٹا پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی مجموعی تعداد 40 ہزار رہی تھی لیکن اس سال کے دوران اب تک جو غیر ملکی مہاجرین بحیرہء روم کے راستے اٹلی اور مالٹا پہنچ چکے ہیں، ان کی تعداد 42 ہزار کے قریب بنتی ہے۔

یورپ میں آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں ایک گراف

یورپ کو درپیش اس بحران کا نتیجہ یہ نکلا کہ اٹلی اور فرانس جیسے ملکوں کو اپنی زمینی اور سمندری حدود کی بہتر نگرانی کے لیے سرحدی پولیس اور کوسٹ گارڈز کی تعداد میں واضح اضافہ کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ایسے بہت سے مہاجرین کو اٹلی کی طرف سے عارضی اجازت نامے جاری کیے جانے پر روم اور پیرس میں حکومتوں کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی اور فن لینڈ سے لے کر یونان تک پورے یورپ میں تارکین وطن کے خلاف ایسے عوامی جذبات کو بھی ہوا ملی، جن کے باعث یورپی اتحاد کے عمل سے متعلق بنیادی اصولوں اور فیصلوں پر بھی انگلیاں اٹھائی جانے لگی۔

اس بحران سے سب سے زیادہ نقصان یورپی یونین کے آزادانہ آمد و رفت کے شینگن معاہدے کو پہنچا ہے، جس میں شامل کئی ملکوں کی طرف اب اپنی بین الاقوامی سرحدوں کی دوبارہ نگرانی شروع کرنے کا یا تو سوچا جا رہا ہے یا اس کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں