آسٹریا کے چانسلر سیباستیان کرس نے اس تناظر میں’ویلٹ آم زونٹاگ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ یورپ کی بیرونی سرحدوں کے نگران ادارے ’فرونٹیکس‘ کو تاہم اس حوالے سے ایک نیا مینڈیٹ چاہیے ہو گا، ’’اس نئے مینڈیٹ میں ان ممالک کی رضامندی بھی شامل ہو گی، جن میں سرحدی محافظین کو تعینات کیا جانا ہو گا۔‘‘
آسٹریا کے چانسلر کے بقول، ’’اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کا کاروبار کرنے والوں کے غلیظ طریقہ تجارت کو ختم کیا جائے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں تاکہ یورپ آنے کے خواہش مند افراد سے بھری کشیتاں بحیرہ روم کا سفر شروع نہ کر سکیں‘‘۔
سیباستیان کرس کے مطابق فرونٹیکس کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی مہاجرین کو بیرونی سرحدوں پر روکے، ’’مثالی طور پر تو ایسا ہونا کہ ابتدائی دیکھ بھال کے بعد فرونٹیکس فوری طور پر ان مہاجرین کو ان کے آبائی وطن روانہ کرے یا پھر انہیں کسی ٹرانزٹ ملک بھیج دیا جائے‘‘۔
اس سال اکتیس اکتوبر تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد انسان کشتیوں میں سوار ہو کر بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے یورپ پہنچے، اور 3 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ بھی ہوئے۔ ان سمندری راستوں پر سفر کرنے والے پناہ گزینوں کا تعلق کن ممالک سے ہے؟
تصویر: Reuters/A. Konstantinidisیو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس اکتوبر کے آخر تک بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی، یونان اور اسپین پہنچنے والے ڈیڑھ لاکھ تارکین وطن میں سے بارہ فیصد (یعنی قریب سترہ ہزار) پناہ گزینوں کا تعلق افریقی ملک نائجیریا سے تھا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Diabخانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی تعداد پچھلے دو برسوں کے مقابلے میں اس سال کافی کم رہی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ساڑھے چودہ ہزار شامی باشندوں نے یورپ پہنچنے کے لیے سمندری راستے اختیار کیے۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/A. Masielloاس برس اب تک وسطی اور مغربی بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے گیارہ ہزار چھ سو پناہ گزینوں کا تعلق مغربی افریقی ملک جمہوریہ گنی سے تھا۔
تصویر: STR/AFP/Getty Imagesبراعظم افریقہ ہی کے ایک اور ملک آئیوری کوسٹ کے گیارہ ہزار سے زائد شہریوں نے بھی اس برس بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کیا۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/T. Markouجنوبی ایشیائی ملک بنگلہ دیش کے قریب نو ہزار شہری اس سال کے پہلے دس ماہ کے دوران خستہ حال کشتیوں کی مدد سے بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچے۔ مہاجرت پر نگاہ رکھنے والے ادارے بنگلہ دیشی شہریوں میں پائے جانے والے اس تازہ رجحان کو غیر متوقع قرار دے رہے ہیں۔
تصویر: Getty Images/M. Bicanskiشمالی افریقی مسلم اکثریتی ملک مراکش کے ساحلوں سے ہزارہا انسانوں نے کشتیوں کی مدد سے یورپ کا رخ کیا، جن میں اس ملک کے اپنے پونے نو ہزار باشندے بھی شامل تھے۔
تصویر: Getty Images/AFP/A. Messinisمشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ ملک عراق کے باشندے اس برس بھی پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے دکھائی دیے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران چھ ہزار سے زائد عراقی شہریوں نے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کیا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/E. Menguarslanان دونوں افریقی ممالک کے ہزاروں شہری گزشتہ برس بڑی تعداد میں سمندر عبور کر کے مختلف یورپی ممالک پہنچے تھے۔ اس برس ان کی تعداد میں کچھ کمی دیکھی گئی تاہم اریٹریا اور سینیگال سے بالترتیب ستاون سو اور چھپن سو انسانوں نے اس برس یہ خطرناک راستے اختیار کیے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Diabبحیرہ روم کے پر خطر سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی، یونان اور اسپین پہنچنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد اس برس کے پہلے نو ماہ کے دوران بتیس سو کے قریب رہی۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے مختلف یورپی ممالک میں پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/T. Stavrakisرواں برس کے دوران افغان شہریوں میں سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کے رجحان میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق اس برس اب تک 2770 افغان شہریوں نے یہ پر خطر بحری راستے اختیار کیے۔
تصویر: Reuters/A. Konstantinidis یورپی یونین میں گزشتہ کئی مہینوں سے پناہ گزینوں کی تقسیم کے معاملے پر اختلاف رائے کے بارے میں کرس نے مزید کہا کہ مہاجرین کے بحران کا یہ کوئی دیرپا حل نہیں ہے، ’’میرے خیال میں آسٹریا یورپی یونین میں مہاجرین کی تقسیم کے حوالے سے کوٹے کے حق میں فیصلہ نہیں کرے گا اور خاص طور پر اگر اس میں گزشتہ برسوں کے دوران مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کے حوالے سے اعداد و شمار شامل نہیں کیے جاتے۔‘‘
کرس نے اپنے اس انٹرویو میں یورپی یونین کے داخلی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا، ’’مغرب اس تناظر میں مشرق پر تنقید کرتا ہے اور شمال جنوب کی شکایت کرتا ہے۔‘‘ ان کے بقول یورپی یونین میں اخلاقی اعتبار سے بارہا اس موضوع پر بات کی جاتی ہے لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔