1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’فرانسیسی اقدار کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کریں گے‘

7 مئی 2021

فرانس کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملکی اقدار کی خلاف ورزی کرنے یا انتہا پسند قرار دیے جانے والے مہاجرین اور دیگر غیر ملکیوں کو فرانس سے ملک بدر کر دیا جائے گا۔

Frankreich Paris | Gedenken an Terroranschläge 2015 | Gerald Darmanin, Innenminister
تصویر: Christophe Archambault/AFP/Getty Images

یورپی ملک فرانس کے روزنامے لے فیگارو میں جمعہ سات مئی کو وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمانا کا ایک انٹرویو شائع ہوا جس میں انہوں نے ملک میں آباد غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں امن عامہ کے خلاف جرائم اور انتہا پسند سمجھے جانے والے غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں سے ان کا رہائشی اجازت نامہ واپس لے لیا جائے گا اور انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں خود اس امر کی وضاحت کی کہ پہلی بار اس سلسلے میں فرانس کی رفیوجی ایجنسی کو یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جیرالڈ ڈرمانا کا کہنا تھا، ''ہم نے پہلی بار اپنی رفیوجی ایجنسی OFPRA سے کہا ہے کہ وہ ہماری جمہوریہ کی اقدار کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پانے والے ہر پناہ گزین کو فراہم کردہ تحفظ ختم کر دیں۔‘‘ فرانس کے وزیر داخلہ  اور دائیں بازو کے سیاستدان ، جرائم اور امیگریشن کے حوالے سے اپنے سخت موقف کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئےکہا کہ اب ان کی توجہ 'ایسے افراد کو میسر تحفظ کو ختم کرنے پر ہوگی جنہوں نے بنیاد پرستی یا عوامی نظم و ضبط سے متعلق قابل مذمت عمل کا ارتکاب کیا ہو‘۔شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہیے، فرانسیسی عوام

فرانس میں چند سالوں سے مسلمانوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔تصویر: Getty Images/AFP/D. Leroux

اسلام پسندی اور امیگریشن

فرانس میں موجودہ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کی طرف سے یہ پالیسی ملکی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک ایک سال قبل متعارف کروائی جا رہی ہے۔

اس پالیسی کو پیرس حکومت کی طرف سے امیگریشن، سکیورٹی اور اسلام پسندی پر از سر نو توجہ مرکوز کرنے کی تازہ ترین علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین اسے آئندہ الیکشن میں مسابقت کی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آئندہ انتخابات سے متعلق جائزوں کے مطابق  دائیں بازو کی لیڈر مارین لے پین موجودہ صدر ایمانوئل ماکروں کی قریب ترین حریف ہوں گی۔

کیا اسلام اور مسیحیت میں قربت پیدا ہو رہی ہے؟

پناہ کے متلاشیوں پر سختی شروع

فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمانا کے بقول گزشتہ تین مہینوں کے دوران 147 پناہ گزینوں سے ان کا 'رفیوجی اسٹیٹس‘ یا پناہ گرین کی حیثیت واپس لی جا چُکی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''ہماری پالیسی واضح ہے: ہم غیر ملکیوں کو اس بات پر پرکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں نا کہ وہ کون یا کیا ہیں۔‘‘

دائیں بازو کی لیڈر مارین لے پین۔تصویر: Elizabeth Bryant/DW

فرانسیسی وزیر نے اخبار لے فیگارو کو بتایا کہ فرانس میں 1,093 ایسے غیر ملکی اس وقت غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جو فرانسیسی سکیورٹی سروسز کی واچ لسٹ پر ہیں۔ ان افراد پر مبینہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شبہ ہےاس لیے انہیں ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔

فرانسیسی مسلمانوں کی تنظیم ماکروں کی تجاویز سی متفق

علاوہ ازیں مشتبہ افراد کی اس فہرست میں قانونی طور پر فرانس میں رہائش پذیر مزید چار ہزار غیر ملکیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 25 فیصد الجزائر سے ہیں، 20 فیصد مراکش سے، 15 فیصد تیونسی باشندے ہیں اور 12 فیصد روسی شہری شامل ہیں۔ 

جیرالڈ ڈرمانا نے کہا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل غیر ملکیوں سے رہائشی حقوق لے لینے کے خواہاں ہیں تاہم انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ کورونا کی عالمی وبا کے دوران غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنا بہت مشکل ہے۔ دائیں بازو کی لیڈر مارین لے پین ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایسے غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جانا چاہیے جن پر شبہ ہے کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

یورپی ملک فرانس میں اسلام سے متعلق چند اہم حقائق

پیرس کی بڑی مسجد کے باہر پولیس تعینات۔تصویر: AP

ملک بدریاں

فرانسیسی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 ء میں اس یورپی ملک سے  24 ہزار افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا جو کم از کم ایک دہائی کے دوران فرانس سے ملک بدری کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

اسی عرصے کے دوران فرانس میں پناہ کے حصول کی ایک لاکھ چالیس ہزار درخواستیں بھی جمع کرائی گئی تھیں۔ علاوہ ازیں اس عرصے کے دوران فرانسیسی حکام نے پہلی بار 2 لاکھ 75 ہزار غیر ملکیوں کو رہائشی اجازت نامے یا کاغذات بھی جاری کیے تھے۔

ک م/ ش ح ) اے ایف پی ای(

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں