فرانس کے شمال مشرقی شہر اراس کے ایک اسکول میں چاقو کے حملے میں ایک استاد ہلاک جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کا تعلق چیچنیا سے ہے۔
تصویر: Denis Charlet/AFP/Getty Images
اشتہار
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کا تعلق روس کے مسلم اکثریتی جنوبی قفقاز کے علاقے چیچنیا سے ہے اور وہ پہلے سے ہی ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر پولیس ریکارڈ میں تھا۔ تاہم اس حملہ آور کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں ایک سکیورٹی ایجنٹ ہے، جس پر متعدد بار چاقو سے حملہ کیا گیا، جبکہ دوسرا استاد ہے جو بہت زیادہ زخمی نہیں ہے۔
پولیس ہی کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ اسکول کا کوئی طالب علم زخمی نہیں ہوا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ ژیرالڈ درمانا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ پولیس نے اس مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق صورتحال اب قابو میں ہے اور عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کا تعلق روس کے مسلم اکثریتی جنوبی قفقاز کے علاقے چیچنیا سے ہے اور وہ پہلے سے ہی ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر پولیس ریکارڈ میں تھا۔ تاہم اس حملہ آور کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔تصویر: Pascal Rossignol/REUTERS
ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور نے 'اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔
فرانس کی قومی انسداد دہشت گردی سے متعلق حکام کے مطابق فوری طور پر حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اسلامی انتہا پسندوں کی طرف سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔
2020ء میں پیرس کے مضافاتی علاقے میں ایک اسکول کے قریب ایکانتہا پسند چیچن پناہ گزین کی طرف سے ایک ٹیچر سیموئل پاٹی کا دن دہاڑے سر قلم کیے جانے کے واقعے نے فرانس میں مسلم شدت پسندی سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا۔
حماس کے حملوں کے بعد فرانس میں تناؤ
گزشتہ ہفتے حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد فرانس میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں یہودی اور مسلم برادریاں آباد ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے جمعرات 12 اکتوبر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں 582 مذہبی اور ثقافتی عمارات کے لیے سکیورٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
پیرس میں دہشت گردی کی رات
پیرس میں دہشت گردی کی سلسلہ وار کارروائیوں کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک اور دو سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے پیرس کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔
تصویر: Reuters/C. Hartmann
منظم حملے
پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے ان منظم سلسلہ وار حملوں میں پیرس میں اور اس کے گرد و نواح میں سات مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد دو سو ہے، جن میں سو کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/D. Faget
خوف و ہراس
پیرس کے باتاکلاں تھیئٹر میں مسلح افراد نے درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا تھا، جہاں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے اس تھیئٹر کو بازیاب کرا کے زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Y. Valat
خون ریزی اور بربریت
سکیورٹی فورسز نے باتاکلاں تھیئٹر کا محاصرہ کرتے ہوئے جمعے کی رات مقامی وقت کے مطابق ایک بجے اسے مسلح افراد کے قبضے سے آزاد کرایا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے اپنی پرتشدد کارروائیوں کے دوران ’اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کیے۔
تصویر: Reuters/C. Hartmann
فٹ بال اسٹیڈیم کے قریب دھماکے
پیرس کے شمال میں واقع نیشنل فٹ بال اسٹیڈیم کے قریب ہونے والے تین دھماکوں میں کم ازکم پانچ افراد مارے گئے۔ جمعے کی رات جب یہ حملے کیے گئے، اس وقت جرمن قومی فٹ بال ٹیم فرانسیسی ٹیم کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیل رہی تھی۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/C. Ena
فرانسیسی صدر اولانڈ سکتے کے عالم میں
جب ان حملوں کی خبر عام ہوئی تو فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ فٹ بال اسٹیڈیم میں جرمنی اور فرانس کے مابین کھیلے جانا والا میچ دیکھ رہے تھے۔ بعد ازاں اولانڈ نے ان سلسلہ وار حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنے ایک مختصر نشریاتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی سرحدوں کو بھی بند کیا جا رہا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Marchi
سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی
ان حملوں کے فوری بعد پیرس میں سکیورٹی انتہائی الرٹ کر دی گئی۔ پندرہ سو اضافی فوجی بھی پولیس کی مدد کے لیے تعینات کیے جا چکے ہیں۔ حکام نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تمام افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تصویر: Getty Images/K. Tribouillard
فرانسیسی شہری سوگوار
ان حملوں کے بعد فرانس سوگ کے عالم میں ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان پُر تشدد واقعات کے اختتام تک کم از کم 8 حملہ آور ہلاک ہو چکے ہیں۔
تصویر: Reuters/Ph. Wojazer
عالمی برادری کی طرف سے اظہار افسوس
عالمی رہنماؤں نے پیرس حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ان حملوں کو دہشت گردی کی سفاک کارروائی قرار دیا ہے۔
تصویر: Imago/ZUMA Press
امدادی کارروائیاں اور بے چینی
فرانسیسی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد پیرس میں سکیورٹی اہل کار اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئیں۔ سکیورٹی اہل کاروں نے جمعے کی رات خوف و ہراس کے شکار لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مدد بھی کی۔
تصویر: Getty Images/AFP/K. Tribouillard
امریکی صدر اوباما کا پیغام
پیرس حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ یہ حملے پیرس یا فرانس پر نہیں ہوئے بلکہ یہ انسانیت کے خلاف حملے ہیں۔ انہوں نے پیرس حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مشکل وقت میں واشنگٹن اس کے ساتھ ہے۔
تصویر: Reuters/Ch. Platiau
میرکل کا اظہار یک جہتی
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ وہ پیرس میں ہوئے ان حملوں کے نتیجے میں شدید دھچکے کا شکار ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ برلن حکومت پیرس کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
تصویر: Reuters/Ch. Hartmann
11 تصاویر1 | 11
اس موقع پر ماکروں کا کہنا تھا، ''جو لوگ فلسطینی کاز اور دہشت گردی کے جواز کو الجھاتے ہیں وہ ایک بڑی اخلاقی، سیاسی اور تزویراتی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘‘
اسرائیل کے اندر حماس کے حملے کے بعد فرانسیسی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پابندی عائد کیے جانے پر بھی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بائیں بازو کی طرف سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پابندی کے سبب اب امن کے لیے احتجاج کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف دائیں بازو کی طرف سے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ ژیرالڈ درمانا نے جمعرات کو ملک بھر میں مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ ان کے مطابق ایسے مظاہروں سے ملک میں ''امن عامہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔‘‘ ایسے مظاہروں کے منتظمین کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔