فلپینی صدر کا امریکی دورہ
7 جون 2012
فلپائن کے صدر جمعے کے روز امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں بحیرہ جنوبی چین کی حدود پر فلپائن اور چین کے تنازعے کو اہمیت حاصل رہے گی۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ بحرالکاہل اور بحیرہ جنوبی چین میں چین کی دلچسپیوں پر امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کو تشویش ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی اور فلپینی صدور کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں مستقبل کی اسٹریٹیجیک شراکت کے ابتدائی معاملات کو طے کیا جائے گا۔
امریکہ میں فلپائن کے سفیر جوزے کوزیا (Jose Cuisia) کا کہنا ہے کہ فلپائن اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجیک پارٹنر شپ میں خطے کے تمام معاملات کو زیر بحث لاتے ہوئے مستقبل کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ کروزیا کا مزید کہنا ہے کہ دوطرفہ اقتصادی اور دفاعی امور کو اوباما اور اکینو کی ملاقات میں خاص طور پر ایجنڈے پر رکھا گیا ہے۔ فلپینی سفیر کے مطابق امریکا کی ایشیا اور پیسفک کی جانب پالیسی میں تبدیلی کی بنیاد پردونوں ملکوں کے تعلقات کو تقویت حاصل ہو گی۔
چین کی بڑھتی فوجی قوت کے تناظر میں اوباما انتظامیہ نے خاص طور ایشیا اور پیسفک میں طاقت کے توازن کو بہتر کرنے کی پالیسی کا احیاء کیا ہے۔ واشنگٹن میں ایک امریکی حکومتی اہلکار کا نام مخفی رکھتے ہوئے روئٹرز کا کہنا تھا کہ امریکا کے خیال میں اس وقت اکینو درست اقدامات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش میں ہیں۔ اہلکار کے خیال میں اکینو کرپشن کے ساتھ ساتھ ملکی بیوروکریسی کی تطہیر میں بھی مصروف ہیں۔ فلپائن کے ساتھ دفاعی تعلقات کو امریکا احتیاط کے ساتھ مضبوط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
بینیگنو اکینو کو اپنے ملک میں کرپشن کے انتہائی اہم اور حساس معاملے کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں بھی امریکہ اکینو کی معاونت کر رہا ہے۔ فلپائن کے صدر کی اوباما سے ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ فلپائن کے دفاعی معاملات کو مضبوط بنانے کی باقاعدہ ابتدا کر چکا ہے۔ فلپائن کی فوج کو جدید اسلحے سے لیس کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ بھی بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کے پس منظر میں ہے۔ اس کے علاوہ فلپائن کو مسلمان مورو علیحدگی پسندوں کا بھی سامنا ہے۔
فلپائن نے دوسری جنگ عظیم کے بعد چار جولائی سن 1946 کو امریکہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ امریکہ نے اس مجمع الجزائر پر سن 1898سے 1946 تک حکومت کی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیانی دفاعی معاملات کے حوالے سے سن 1951 میں منیلا میں معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے بعد ہی فلپائن مسلسل امریکہ کی مشرق بعید اور بحرالکاہل کے ملکوں کے لیے جاری پالیسی میں شامل چلا آ رہا ہے۔ آج کل اس علاقے کو امریکی سکیورٹی اور اکنامک حکمت عملی کا مرکزہ خیال کیا جاتا ہے۔ امریکا نے سن 1992 میں فلپائن میں قائم بڑے فوجی اڈے سوبک بے (Subic Bay) نیول بیس کو ایک قوم پرست تحریک کے پُر زور مظاہروں کے بعد خالی کیا تھا۔
ah/aa (Reuters)