1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن ماڈل چیتے کے حملے میں زخمی

28 اگست 2021

ایک جرمن ماڈل پر فوٹو شوٹ کے دوران چیتے نے حملہ کر دیا۔ واقعے کے بعد پولیس دیگر افراد کے علاوہ اس جانور  کی مالکہ سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

Kaschmir | Leopard
تصویر: Mukhtar Khan/AP/picture alliance

جرمن پولیس نے چیتے کے حملے میں ماڈل کے زخمی ہونے کی واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ چیتے نے ماڈل پر اس وقت حملہ کیا، جب ابھی ماڈل کی تصاویر اتاریں جا رہی تھیں۔بتایا گیا ہے کہ ماڈل کو شدید زخم آئے ہیں اور وہ اب بھی زیر علاج ہیں۔

ماڈل کے سر پر زخم

بتایا گیا ہے کہ یہ ماڈل جانوروں سے محبت کرنے والی خاتون کے طور پر بھی شہرت رکھتی ہیں۔تاہم ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ فوٹو شوٹ کس کمپنی کے لیے کی جا رہی تھی اور اس کا انتظام کس کی جانب سے کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس حملے میں چھتیس سالہ ماڈل کے سر پر شدید زخم آئے ہیں۔ منگل کو ہونے والے اس حملے کے بعد خاتون ماڈل کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک خصوصی کلینک میں پہنچایا گیا تھا۔ تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

تصویر: The HSUS/Kathy Milani

تفتیش شروع

پولیس کی تفتیش کا دائرہ ابھی فی الحال اس چیتے کے اڑتالیس سالہ مالکہ کے گرد گھوم رہا ہے۔ ان کے پاس دو چیتے ہیں اور ان میں سے ایک انہوں نے دیگر جانوروں کے ساتھ ایک کمپاؤنڈ میں رکھا ہوا ہے۔

ان کا یہ کمپاؤنڈ مشرقی جرمن شہر نیبرا میں واقع ہے۔مزید بتایا گیا کہ چیتے کی مالکہ سے غفلت برتنے کے شبے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

حکام کا دورہ

اس واقعے کے بعد صحت کے محکمے سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے اس کمپاؤنڈ کا دورہ کیا تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا جانوروں کو مناسب طریقے سے رکھا جا رہا ہے اور  کیا اس مرکز میں معیاری سہولیات میسر بھی ہیں یا نہیں۔

ڈی پی اے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جانوروں کی خرید و فروخت کرنے والی اس خاتون کے پاس یہ تیندوا سن 2019 سے ہے۔ وہ گزشتہ بیس سالوں سے سرکس اور تفریحی پارکس کے لیے جانوروں کو سدھانے اور انہیں تربیت دینے کا کام کر رہی ہیں۔

جرمنی میں نجی کوائف کی پاسداری کے قانون کے تحت نہ تو جانور کی مالکہ اور نہ ہی ماڈل کا نام عام کیا گیا ہے۔

 

ع ا / ش ح (ڈی پی اے)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں