فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز
5 دسمبر 2025
صدر پاکستان نے جمعرات کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور سی ڈی ایف اور آرمی چیف پانچ سال تعیناتی کی منظوری دے دی۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارش پر اس تقرری کی منظوری دی۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے ایوانِ صدر سے جاری کردہ بیان کے حوالے سے کہا، ''صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کے ساتھ بطور چیف آف ڈیفنس فورسز پانچ سال کے لیے تقرری کی منظوری دے دی ہے۔‘‘
اس اعلان کے بعد نوٹیفکیشن میں تاخیر پر پائی جانے والی چہ مگوئیاں بھی ختم ہو گئیں۔ باضابطہ اعلان سے قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے اجراء میں کوئی قانونی یا سیاسی رکاوٹ نہیں ہے، اور یہ نوٹیفکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا۔
گزشتہ ماہ منظور ہونے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں ہونے والی وسیع آئینی و قانونی تبدیلیوں کے بعد چیف آف ڈیفنس (CDF) کے منصب کا قیام اور عسکری قیادت کا اختیار جنرل عاصم منیر کے تحت مرتکز ہونا اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
گزشتہ ماہ منظور ہونے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں ہونے والی وسیع آئینی و قانونی تبدیلیوں کے بعد چیف آف ڈیفنس (CDF) کے منصب کا قیام اور عسکری قیادت کا اختیار جنرل عاصم منیر کے تحت مرتکز ہونا اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ستائیسویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی گئی، جو پاکستان کی مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول سے متعلق ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا عہدہ ختم کر دیا گیا، ایک ایسا منصب جو تقریباً پچاس برس تک پاکستان کے عسکری ڈھانچے کا حصہ رہا۔
پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز
صدر پاکستان کی جانب سے اس منظوری کے ساتھ عاصم منیر نئے آئینی و قانونی فریم ورک کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے تخلیق شدہ عہدے پر فائز ہونے والے پہلے افسر بن گئے ہیں۔ قبل ازیں جمعرات کی شام وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر کو سفارش بھجوائی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس دوہری ذمہ داری والے عہدے پر تعینات کیا جائے۔
ایوان صدر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف ایئر سٹاف کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی بھی منظوری دی، جو ان کی موجودہ مدت کے 19 مارچ، 2026 کو مکمل ہونے کے بعد مؤثر ہو گی۔
قیاس آرائیاں ختم
نوٹيفيکيشن میں تاخیر کی وجہ سے يہ موضوع ذرائع ابلاغ کا مرکز بنا رہا۔ خاص طور پر اس وقت جب 27 نومبر کو جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔
انتیس نومبر کو بھی، جس تاریخ کو فیلڈ مارشل منیر کی بطور آرمی چیف تین سالہ مدت (گزشتہ سال کی ترمیم سے قبل) ختم ہوئی تھی، نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سے مزید بے یقینی پھیل گئی کہ آیا حکومت 'چار ستاروں والے‘ عہدوں پر تقرری اس لیے روک رہی ہے تاکہ مستقبل کے تبادلوں پر سودے بازی کر سکے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ بحث رہی کہ شاید تاخیر کا مقصد نئے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ، وائس چیف آف آرمی اسٹاف اور ممکنہ طور پر مستقبل کے آئی ایس آئی چیف کے انتخاب پر سودے بازی کرنا ہو۔
تارڑ نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کی ملک میں عدم موجودگی کی وجہ سے نوٹیفکیشن میں تاخیر ہوئی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ آرٹیکل 243 یا آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے قوانین میں کوئی ابہام نہیں ہے اور قانون میں واضح ہے کہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تعیناتی کریں گے۔
ادارت: عاصم سليم