1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فیکٹ چیک: ایران سے منسوب جعلی تصاویر، عالمی میڈیا تک گمراہ

عاطف توقیر ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک | ادارت | کشور مصطفیٰ
22 مارچ 2026

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران جعلی تصاویر عام صارفین ہی نہیں معتبر عالمی صحافتی اداروں تک کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوئیں، مگر کیسے؟

حالیہ جنگی تنازعے کے دوران سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی جعلی تصاویر
حالیہ جنگی تنازعے کے دوران سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار ہےتصویر: Salampix

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران جعلی اور ایڈیٹ کی گئی تصاویر نے عالمی میڈیا کو بھی دھوکا دے دیا۔ یہاں تک کہ معروف عالمی نشریاتی ادارے بھی اس سے متاثر ہوئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی تصاویر کس قدر آسانی سے خبروں میں شامل ہو سکتی ہیں۔

جنگوں اور بحرانوں کے دوران پرانی یا تحریف شدہ تصاویر اکثر گردش کرتی رہتی ہیں، کبھی جان بوجھ کر دھوکا دینے کے لیے اور کبھی صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے۔

لیکن اس بار مسئلہ ایک نئے درجے تک پہنچ گیا، کیونکہ خود فوٹو ایجنسیاں بھی جعلی یا تبدیل شدہ تصاویر حاصل کر کے انہیں عالمی میڈیا اداروں تک پہنچا رہی تھیں۔ ان میں سے کچھ تصاویر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھیں جبکہ کچھ کو انسانوں نے ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا تھا۔

یہ تصویر اے آئی سے تیار کی گئی ہےتصویر: rtl

سلام پکس کا معاملہ

مارچ کے آغاز میں نیدرلینڈز کی خبر رساں ایجنسی  اے این پی نے ایران سے متعلق تقریباً 1000 تصاویر اپنے ڈیٹا بیس سے ہٹا دیں کیونکہ شبہ تھا کہ ان میں سے کچھ اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔

اس کے بعد آر ٹی ایل نیوز نے بھی اعتراف کیا کہ اس نے لاعلمی میں ایسی تین تصاویر استعمال کی تھیں، جنہیں بعد میں ہٹا دیا گیا۔

اسی طرح جرمنی کے معروف جریدے ڈیر شپیگل نے بھی تسلیم کیا کہ اس نے ایک جعلی تصویر شائع کر دی تھی۔

یہ تصاویر مختلف ایجنسیوں کے ذریعے میڈیا تک پہنچیں، جن میں ڈی پی اے، Imago  اور دیگر شامل تھیں اور آخرکار ان کا ماخذ ایرانی ایجنسی ''سلام پکس‘‘ نکلی۔

اس انکشاف کے بعد کئی ایجنسیوں نے سلام پکس کی تصاویر پر پابندی لگا دی اور میڈیا اداروں کو انہیں ہٹانے کی ہدایت دی۔

سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی ایک اور جعلی تصویرتصویر: SalamPix/ABACA

میڈیا کیسے دھوکا کھا گیا؟

جرمنی میں میڈیا ادارے ''نیوز ایجنسیوں پر اعتماد‘‘ کے اصول کے تحت عام طور پر خبر رساں ایجنسیوں سے ملنے والے مواد کو مستند سمجھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ڈی ڈبلیو جیسے عالمی ادارے بھی بڑی تعداد میں بیرونی تصاویر استعمال کرتے ہیں۔

لیکن اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے حقیقی اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل بنا دیا ہے خاص طور پر اس وقت جب روزانہ ہزاروں تصاویر موصول ہو رہی ہوں۔

جعلی تصاویر کی نشانیاں

ڈی ڈبلیو کے فیکٹ چیک ٹیم نے کچھ واضح غلطیاں شناخت کیں۔ دیواروں یا گاڑیوں پر لکھا ہوا متن حقیقی زبان نہیں ہوتا بلکہ بے معنی حروف ہوتے ہیں۔ عمارتیں یا اشیاء غیر منطقی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔گاڑیوں یا اشیاء کی ساخت عجیب اور غیر حقیقی ہوتی ہے۔ انسانی جسم کے حصے (جیسے ہاتھ یا پاؤں) غیر متوازن یا بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ سائے جسم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے مثلاً ایک تصویر میں ایک شخص کے دونوں جوتے مختلف تھے اور اس کا ہاتھ غیر فطری انداز میں بنا ہوا تھا۔

ایرانی اسرائیلی جنگ، فیک نیوز کی بھرمار

04:45

This browser does not support the video element.

پرانی تصاویر میں بھی خامیاں

سلام پکس کی پرانی تصاویر میں بھی مسائل پائے گئے، جیسے انگلیاں بگڑی ہوئی یا لکڑی جیسی نظر آنا۔ عمارتوں کی کھڑکیاں ایک لائن میں نہ ہونا اور چہروں کا مسخ ہونا وغیرہ

سبق کیا ہے؟

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت اے آئی کے ذریعے بنائی گئی تصویریں اتنی حقیقی لگتی ہیں کہ بڑے میڈیا ادارے بھی اے آئی کے دھوکے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وجہ یہ بھی ہے کہ جعلی تصاویر کی شناخت اب زیادہ مشکل ہو گئی ہے اور صحافیوں اور عام صارفین دونوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں