قبائلی خواتین: ووٹ کا حق دیے جانے کا مطالبہ
27 فروری 2013
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بسنے والے انسانوں کی مشکلات تو افغانستان میں سوویت فوج کے داخل ہونے سے ہی شروع ہو گئی تھیں تاہم نائن الیون کے مرکزی کرداروں کی تلاش میں امریکی اور اتحادی افواج کے اس خطّے میں آنے اور مطلوب افراد کے قبائلی علاقوں میں پناہ لینے سے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ ان مشکل حالات میں مردوں سے زیادہ خواتین متاثر ہوئیں، جن کی ایک بڑی تعداد ذھنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوئی۔ لاکھوں کی تعداد میں خواتین نے اپنے گھروں سے نقل مکانی کے عمل میں مردوں کا ساتھ دیا۔ پہلی مرتبہ گھر کی دہلیز سے قدم باہر نکالنے کے اس عمل کے دوران جہاں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہیں انہیں اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی بھی حاصل ہوئی۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی خواتین ووٹ کا حق مانگنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ پشاور میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والی خواتین کی قیادت جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون عائشہ گلالئی محسودکر رہی تھیں۔ اس مظاہرے میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں اور گھریلو خواتین نے حصہ لیا۔
ان خواتین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر ان کے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ قبائلی عوام اور بالخصوص خواتین کو ہر دور میں ان کے حقوق سے محروم رکھ کر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ قبائلیوں نے ہمیشہ وطن کے دفاع کی خاطر قربانی دی ہے اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں لیکن ملک کے دیگر خواتین کی طرح انہیں برابری کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ انہوں نے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور اب لاکھوں قبائلی خواتین کو اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کیلئے آگے آنا ہوگا۔
عائشہ گُلالئی محسود کہتی ہیں:”قبائلی خواتین کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے سے ان میں احساس محرومی دور ہو جائے گا اور یہ قبائلی خواتین پارلیمنٹ میں خواتین کے حقوق کےلئے آواز اٹھائیں گی۔ ہم امن کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہماری بات حکمرانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ حالیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خواتین ہی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی چاہتی ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور قیام امن سمیت ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں لیکن ہمیں یہ موقع فراہم نہیں کیا جاتا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ مردوں کے ساتھ قبائلی خواتین کو بھی برابر ی کی بنیاد پر حقوق دیے جائیں تاکہ یہ بھی اپنے علاقے کے عوام کی ترقی کے لیے قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔“
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں مردوں اور خواتین نے نقل مکانی کی۔ جہاں لاکھوں کی تعداد میں انہوں نے قومی شناختی کارڈ بنوائے، وہاں انہیں پہلی مرتبہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ فرنٹیر ریجنز میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 16لاکھ 75ہزار956 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد11لاکھ20ہزار 276 ہے۔ 22خواجہ سراؤں کے ووٹ بھی رجسٹر کئے جا چکے ہیں ۔
خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے اور قبائلی اُمور پر گہری نظر رکھنے والے حسین آفریدی نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا:”قبائلی علاقوں کی آبادی ایک کروڑ سے بڑھ چکی ہے اور اس میں52 فیصد خواتین ہیں لیکن ان خواتین کے ووٹ رجسٹرڈ تو ہو جاتے ہیں لیکن انہیں ووٹ استعمال کرنے نہیں دیا جاتا بلکہ علاقے میں پارلیمنٹ کے اُمیدوار آپس میں جرگہ کر کے خواتین کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے محروم رکھتے ہیں۔ ایسے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس انتخاب کو کالعدم قرار دیا جائے، جس میں خواتین سے ان کا حق چھینا جاتا ہے۔“
حکومت نے 64 سال بعد پولیٹیکل ایکٹ کو قبائلی علاقوں تک توسیع دے کر انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے، جس کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے عوام کی بھی آنے والے انتخابات میں دلچسپی بڑھ گئی ہے تاہم تاحال کوئی بھی سیاسی جماعت قبائلی علاقوں میں جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور
ادارت: امجد علی