1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

قبرص بحران کا ذمے دار کون؟ تلاش شروع

2 اپریل 2013

قبرص کے نئے صدر نیکوس اناستاسیادیس نے ملک کے ’مالیاتی بحران کے ذمے داروں‘ کو کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ خود اُنہیں بھی الزامات کا سامنا ہے۔ وہاں کی عدلیہ ملکی بینکوں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

ان بینکوں پر دوست سیاستدانوں اور تاجروں کو خصوصی مراعات دینے کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بینکوں کے نمایاں گاہکوں نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے تعلقات کو کام میں لاتے ہوئے کئی ملین یورو کے قرضے حاصل کیے، جو اب ا‌‌ُنہیں جزوی طور پر ادا کرنا پڑیں گے یا سرے سے ہی واپس ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔ ان گاہکوں کے ناموں کی ایک فہرست نیوز وَیب سائٹ 24h.com.cy منظر عام پر لایا ہے اور اُس نے یہ نام آگے اٹارنی جنرل پیتروس کلیریدیس کے حوالے کر دیے ہیں۔

منگل دو اپریل سے کلیریدیس کے ایماء پر عدلیہ کی ایک کمیٹی ان تمام الزامات کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی گواہوں کے بیانات لے گی اور تین ماہ کے اندر اندر ایک رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ فہرست غیر متنازعہ نہیں ہے اور ایسے بہت سے لوگوں نے اپنے خلاف الزامات رَد کرتے ہوئے الٹا عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی دی ہے، جن کے نام اس فہرست میں موجود ہیں۔

قبرص کے نئے صدر نیکوس اناستاسیادیستصویر: Reuters

اٹارنی جنرل کلیریدیس نے ٹی وی چینل Skai کے ساتھ ایک انٹرویو میں لوگوں سے پُر سکون رہنے اور عدالتی جانچ پڑتال میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ابھی محض الزامات کو جانچا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ لوگوں کے پاس اِس بات کی کوئی معقول وجوہات موجود ہوں کہ اُن کے قرضے کلّی یا جزوی طور پر کیوں معاف کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی مزید نام سامنے آ سکتے ہیں۔

قبرص کے وزیر مالیات میخالیس ساریس کے مطابق ملک کو دیوالیے کی دہلیز پر پہنچانے والوں میں آندریاس وگینوپولوس بھی شامل ہیں، جو 2010ء تک ملک کے دوسرے بڑے بینک ’لائیکی بینک‘ کے سربراہ رہے۔ وزیر مالیات کے مطابق بینک سربراہ کی حیثیت سے اُنہوں نے اربوں یورو کے عوض یونان کے ریاستی قرضے خریدے اور جب 2011ء میں یونان کو قرضوں میں چھوٹ دی گئی تو یہ بینک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔

جواب میں لائیکی بینک کے سابق سربراہ نے تمام الزامات کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے رَد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر مالیات کو ’کچھ پتہ نہیں‘ ہے۔ مزید یہ کہ وہ ’قبرصی اسٹیبلشمنٹ‘ کے متاثرین میں سے ایک ہیں اور لائیکی بینک کے بحران کے لیے اصل قصور وار سابق کمیونسٹ صدر دیمیتریس کرسٹوفیاس ہیں، جنہوں نے ستمبر 2011ء میں بلا سوچے سمجھے یونان کو قرضوں میں چھوٹ پر اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا تھا۔

بینک آف سائپرس کے سابق سربراہ آندریاس ایلیادیس بھی ان الزامات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اُنہوں نے یونان کے قرضے خریدتے ہوئے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا تھا اور یوں قبرص کے سب سے بڑے بینک کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

قبرص میں بینک کئی روز تک بند رہنے کے بعد کھلے تو اپنے اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانے کے لیے جانے والے گاہکوں کا رَش بے انتہا بڑھ گیاتصویر: Reuters

بحران کے ذمے دار عناصر کی تلاش سابق کمیونسٹ حکمرانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی نظر آتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی Haravgi کے اخبار نے تیس مارچ کی اشاعت میں بتایا کہ قدامت پسند صدر اناستاسیادیس کے دور پار کے عزیزوں نے متاثرہ لائیکی بینک میں اپنے اکاؤنٹس سے کئی ملین کی رقوم ملک سے باہر پہنچا دیں اور یہ کہ یہ کام یورپی یونین کی جانب سے قبرصی بینکوں میں پڑی رقوم سے جبری کٹوتی کے فیصلے سے صرف تین روز پہلے انجام پایا۔ تاہم ان عزیزوں کا کہنا یہ ہے کہ اُن کی رقوم بدستور قبرصی بینکوں میں پڑی ہیں اور بیرون ملک ادائیگیوں کی نوعیت معمول کے مطابق اور محض کاروباری تھی۔

اب اس بات کو جانچے جانے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کن کن شخصیات کو پہلے سے جبری کٹوتی سے متعلق تجاویز کا علم تھا۔ بائیں بازو کے ایک سیاستدان کے مطابق ’ایک وزیر نے بھی جبری کٹوتی کے فیصلے سے پہلے پہلے اپنی رقوم بیرون ملک منتقل کر دیں‘۔

خود صدر اناستاسیادیس بھی اس الزام کو رَد کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اندرونی حلقوں میں موجود معلومات کا غلط استعمال کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بدعنوانی کے تمام تر الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی، چاہے وہ یا اُن کے رشتے دار ہی اِن کی زَد میں کیوں نہ آتے ہوں۔ مبصرین کے مطابق اب کڑی تحقیقات ہی اناستاسیادیس کے سیاسی کیریئر کو بھی بچا سکتی ہیں۔

J.Papadimitriou/aa/ai

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں