قطر کا اے آئی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا پلان
20 دسمبر 2025
خلیجی ریاست قطر کے حکمرانوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ یہ عرب امارت مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے شعبے میں ترقی کی دوڑ میں علاقائی طاقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ریاستوں سے پیچھے رہتی جا رہی ہے۔
اس تناظر میں قطر نے اپنے ہاں مقابلتاﹰ کم قیمت توانائی کی مدد سے اے آئی کو ترقی دینے کے لیے ایک ایسا پروگرام شروع کیا ہے، جس کے ذریعے وہ خطے کی دیگر ریاستوں سے آگے نکل جانے کا خواہش مند ہے۔
دنیا کو بدل دینے والے انٹرنیٹ کا آغاز کیسے ہوا؟
اس منصوبے کو قطر اے آئی یا کیو اے آئی کا نام دیا گیا ہے اور اس کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر 20 بلین ڈالر سے زائد کی رقوم رکھی گئی ہیں۔ لیکن بوقت ضرورت اس کے لیے قطر کے 526 بلین ڈالر کے خود مختار ریاستی فنڈ سے مزید مالی وسائل بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں۔
اے آئی کے شعبے میں قطر کا آج تک کا سب سے بڑا منصوبہ
دوحہ حکومت نے اس منصوبے کے لیے بروک فیلڈ (Brookfield) نامی مغربی ادارے کے ساتھ اشتراک عمل کا فیصلہ کیا ہے اور یہ منصوبہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے سیکٹر میں اس خلیجی ریاست کی آج تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
ماہرین کو توقع ہے کہ اس منصوبے کی لانچنگ کے ساتھ قطر عالمگیر سطح پر معیشتوں کو ترقی دینے اور نئی ٹیکنالوجی کی ترویج کی دوڑ میں اس پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گا، جس کے لیے کوششیں سعودی عرب میں اور متحدہ عرب امارات کی دبئی اور ابوظہبی جیسی امارات میں پہلے ہی سے کی جا رہی ہیں۔
اے آئی چیٹ بوٹس کے خودکشی سے متعلق جوابات غیر واضح، رپورٹ
یہ بہت بڑی سرمایہ کاری اس امر کا ایک ثبوت بھی ہے کہ کس طرح خیلج فارس کی عرب ریاستیں اپنی ان معیشتوں کو زیادہ سے زیادہ متنوع بنانے کی کاوشوں میں ہیں، جو ماضی میں زیادہ تر صرف خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمد پر ہی انحصار کرتی تھیں۔
خلیجی ریاستوں کو اے آئی کے شعبے میں درپیش بڑے چیلنج
اب تک بھی زیادہ تر صرف تیل اور گیس برآمد کرنے والی خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو اپنے ہاں مصنوعی ذہانت کو عالمی سطح پر مقابلے کی اہلیت کی حد تک ترقی دینے کے عمل میں کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان کا مصنوعی ذہانت میں ترقی کا عزم، چیلنجز کیا ہیں؟
ان میں سے اہم ترین یہ ہے کہ یہ ممالک اے آئی کی دوڑ میں عالمی سطح پر گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا جیسے اداروں کو اپنے ہاں آنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ اس ترغیب میں قطر میں توانائی کی مقابلتاﹰ کم قیمتیں بہت حد تک پرکشش ثابت ہو سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال، نئے یورپی قوانین باقی دنیا کے لیے مثال
مصنوعی ذہانت کی ريگوليشن: يورپ راضی، امريکا و برطانيہ ناراض
لیکن ساتھ ہی خلیجی ممالک کو اے آئی کی دنیا میں عالمی سطح پر بڑے کھلاڑی بننے کے لیے ڈیٹا کی مغربی طرز کی گورننس کو بھی یقینی بنانا ہو گا اور وہ بہت جدید مائیکرو چپس بھی حاصل کرنا ہوں گے، جن کی بیرون ملک برآمد پر امریکی حکومت نے کڑی شرائط عائد کر رکھی ہیں۔
پاکستان کا پہلا چیٹ بوٹ ’ذہانت اے آئی‘ کیا ہے؟
مجموعی طور پر عرب ممالک میں اے آئی کے شعبے میں صارفین کے نجی ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے کتنی زیادہ محنت درکار ہو گی، اس کا اندازہ Wedbush نامی ادارے کے بین الاقوامی تجزیہ کار ڈین آئیوز کے اس موقف سے لگایا جا سکتا ہے، ''ہمارے تخمینوں کے مطابق مشرق وسطیٰ کے خطے میں اگلے دو برسوں میں بین الاقوامی معیار کے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر قریب 800 بلین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔‘‘
ادارت: کشور مصطفیٰ