لامپےڈوسا پہنچنے والے مہاجرین جیسے کسی ’اذیتی کیمپ‘ سے آئے
انفومائگرینٹس
17 جولائی 2018
گزشتہ اختتام ہفتہ پر اطالوی جزیرے لامپےڈوسا پر اترنے والے چند مہاجرین کے چہروں پر سفر کے مصائب، امیدیں اور سمندر میں ڈوب جانے کا خوف سبھی کچھ لکھا ہوا تھا۔ غذائی قلت کے سبب ایک خاتون کا وزن صرف پینتیس کلوگرام رہ گیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Palacios
اشتہار
افریقی ملک اریٹریا سے تعلق رکھنے والی مہاجر خاتون لونا کو دیگر آٹھ تارکین وطن کے ساتھ اطالوی جزیرے لامپےڈوسا منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر اطالوی جزیرے سسلی کے شہر پالیرمو کے چی ویکو ہسپتال پہنچایا گیا۔
مہاجرین کے بارے میں خبریں فراہم کرنے والے یورپی ادارے انفو مائیگرنٹس کے مطابق لونا کا کہنا تھا،’’ ہم نے سمندر میں کئی دن بغیر کھائے پیے گزارے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ ہم خوراک کی کمی سے مر ہی نہ جائیں۔‘‘
ساڑھے چار سو کے قریب مہاجرین سے بھری ایک کشتی پر یہ آٹھ تارکین وطن بھی سوار تھے۔ اس کشتی کو اطالوی جزیرے سسلی کی ایک بندرگاہ سے ذرا دور پولیس نے روک لیا تھا۔
ہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں لونا کے ساتھ والے بستر پر اسی کی ہم وطن ایک سترہ سالہ حاملہ لڑکی بھی لیٹی ہوئی تھی۔ اریٹریا سے تعلق رکھنے والی یہ حاملہ لڑکی پریشان تھی اور کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اگرچہ لونا حاملہ نہیں ہے لیکن اسے اس ٹین ایجر لڑکی کو حوصلہ دینے کے لیے اُس کے ساتھ اس وارڈ میں رکھا گیا تھا۔
کم خوراکی کا شکار ستائیس سالہ مہاجر خاتون
ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں ایک ستائیس سالہ افریقی مہاجر خاتون بھی ہے جس نے لیبیا میں مشکلات سے بھر پور سات ماہ گزارے ہیں۔ اریٹریا سے تعلق رکھنے والی اس مہاجر خاتون کے بقول اسے لیبیا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
اب وہ اپنی اُن تکلیف دہ یادوں کو دوہرانے سے بھی گھبراتی ہے۔ خوراک کی کمی اور نقاہت کے سبب اس خاتون کا وزن صرف پینتیس کلوگرام رہ گیا ہے۔ البتہ ہسپتال پہنچنے پر اپنی چار سالہ بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے یہ ضرور کہا تھا، ’’اس نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘ تھوڑا دودھ پینے اور بسکٹ کھانے کے بعد اس ننھی بچی نے فوراﹰ ہی اپنی ماں کی دیکھ بھال شروع کر دی تھی۔
'اذیتی کیمپوں میں قیام جیسے اثرات‘
لامپےڈوسا پر اتارے جانے والے ان تارکین وطن کی حالت دیکھ کر ہسپتال کی نرسوں کا کہنا تھا کہ ان بد حال مہاجرین کی جسمانی اور ذہنی صحت کی حالت ایسی ہے جیسے وہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے کے اذیتی کیمپوں میں رہتے رہے ہوں۔
چی ویکو ہسپتال کی ایک نرس کا کہنا تھا کہ یہ تمام آٹھ مہاجرین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ہسپتال کی راہداریوں میں دو چھوٹے مہاجر بچے بھی تھے، جنہیں گھر جیسا ماحول دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ایک تارک وطن لڑکے کو ہسپتال کے ایک علیحدہ کمرے میں رکھا گیا تھا۔ یہ لڑکا تپ دق کا مریض ہے، یعنی ابھی اسے بطور ایک تارک وطن اپنی ’منزلِ امید‘ تک پہنچنے سے پہلے زندگی کی ایک اور جنگ لڑنا ہے۔
ص ح / م م/ انفو مائیگرنٹس
لامپے ڈوسا کے مہاجرین کی یاد میں
لامپے ڈوسا بحیرہ روم میں وہ جزیرہ ہے جہاں یورپ جانے کے خواہشمند افراد پہنچتے ہیں۔ سینیگال کے محمدو با پرتگال میں رہتے ہیں اور لامپے ڈوسا جا چکے ہیں۔ ان کی تصاویر میں مہاجرین کے حالات کی عکاسی کی گئی ہے۔
تصویر: Mamadou Ba
لامپے ڈوسا، یورپ کا دروازہ
اطالوی جزیرہ لامپے ڈوسا، یورپ پہنچنے کے خواہشمند اکثر افراد کے لیے یورپ کے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ سینیگال سے تعلق رکھنے والے محمدو با انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں اور وہ ’ایس او ایس راسِسمو‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تصاویر میں لامپے ڈوسا یا اس کے قریبی سمندر میں مہاجرین کے حالات دکھائے گئے ہیں۔
تصویر: Mamadou Ba
بحری جہازوں کا قبرستان
لامپے ڈوسا کو جہازوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں موجود بہت سی کشتیوں کے ذریعے مہاجرین اس جزیرے تک پہنچے ہیں۔ اس جزیرے تک پہنچنے کی کوشش میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
تصویر: Mamadou Ba
بہتر زندگی کی تلاش میں موت کا شکار
لامپے ڈوسا کو اب ہزاروں مہاجرین کا قبرستان بھی سمجھا جاتا ہے۔ محمدو با کے مطابق یہ لوگ صرف اس لیے موت کے منہ میں چلے گئے کیونکہ یہ بہتر زندگی جینا چاہتے تھے۔ ایسے مہاجرین کی زیادہ تر تعداد اریٹیریا اور صومالیہ سے تعلق رکھتی ہے۔
تصویر: Mamadou Ba
مرنے والوں کے نشانات
ایسے لوگ جو یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران راستے میں ہی ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے بارے میں بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہو پاتا ہے۔ ڈوبنے والے جہازوں سے حاصل کیے جانے والے یہ کپڑے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مرنے والوں میں سے بعض کس طرح کے لباس میں ہو ں گے۔
تصویر: Mamadou Ba
انسانوں کی نشانیاں
لامپے ڈوسا پر ایک چھوٹا سا میوزیم بھی موجود ہے جہاں تباہ ہونے والے جہازوں کے مسافروں کی چیزیں رکھی گئی ہیں۔ ان میں پاسپورٹ اور ذاتی استعمال کی چیزیں بھی شامل ہیں۔ محمدو با کے مطابق ان چیزوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مہاجرین سادہ سے لوگ تھے اور سادہ سے خواب رکھتے تھے۔
تصویر: Mamadou Ba
روزانہ کا معمول
مہاجرین اپنی عادات اور ثقافت بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ مثلاﹰ اس جزیرے پر پہنچنے والے یہ برتن۔ تاہم ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ یہ بحیرہ روم کو پار کرتے ہوئے موت کا شکار ہونے والے افراد سے تعلق رکھتے ہیں یا زندہ سلامت لامپے ڈوسا تک پہنچنے والوں سے۔
تصویر: Mamadou Ba
گمشدہ زندگی کی یاد
نو کلومیٹر طویل یہ جزیرہ مہاجرین کی یاد تازہ کرتا ہے۔ لامپے ڈوسا اطالوی جزیرے سسلی سے 205 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ تیونس کے دارالحکومت سے محض 130 کلومیٹر کے فاصلے پر۔ اسی باعث یورپ میں داخلے کے لیے یہ جزیرہ آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔
تصویر: Mamadou Ba
یورپ کا قلعہ
دوسری عالمی جنگ کے دوران تعمیر ہونے والا یہ بَنکر اب یورپی یونین کی علامت کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے یہ مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ تارکین وطن سے متعلق پالیسی میں تبدیلی لائی جائے۔
تصویر: Mamadou Ba
لامپے ڈوسا، امیدوں کا سہارا
بحیرہ روم کا یہ جزیرہ سِسلی اور شمالی افریقہ کے درمیان موجود ہے۔ اس جزیرے پر پہنچنے والے لوگ بہتر مستقبل کی امیدیں لگائے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے مہاجرین سے متعلق پالیسی میں تبدیلی مہاجرین کی اس تعداد میں کمی کا باعث بنے گی۔