1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستاسرائیل

لبنان: اسرائیل، حزب اللہ جنگ بندی میں تناؤ اور بگڑتے حالات

30 نومبر 2025

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی ختم ہونے کے ایک سال بعد ایک بار پھر ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

جنوبی لبنان کے گاؤں تیر دیبّا میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے
اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی مدد سے حزب اللہ دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور خود کو دوبارہ مسلح کر رہی ہےتصویر: Mohammad Zaatari/AP Photo/picture alliance

گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بمباری کی۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق اس کارروائی کا مقصد حزب اللہ کے عسکری ونگ کے چیف آف اسٹاف حیثم علی طباطبائی (المعروف ابوعلی طباطبائی) کو نشانہ بنانا تھا۔

اس فضائی حملے میں بیروت کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، اور لبنانی حکام کے مطابق کم از کم 5 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔ کئی ماہ بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے بیروت کو نشانہ بنایا۔

اس بمباری کے علاوہ، گذشتہ ہفتے جنوبی لبنان پر بھی اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک لہر دیکھی گئی جس میں لبنانی صحت حکام کے مطابق کم از کم درجن بھر افراد مارے گئے۔

تاہم متاثرہ علاقے کے ایک مقامی باشندے نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ کہ وہاں اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد موجود تھا، درست نہیں۔

انہوں نے کہا، ''یہ علاقہ عام شہریوں کا ہے، کھیل کا میدان ملبے کا ڈھیر بن گیا اور بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔‘‘

ایک اور مقامی شخص نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مقام ایک معروف کھیل کا میدان تھا۔ ''ہم ہمیشہ یہاں آتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ وہاں حماس موجود تھی، مکمل طور پر غلط ہے۔‘‘

حزب اللہ کے عسکری ونگ، جسے امریکہ، جرمنی سمیت کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

بیروت میں قائم تھنک ٹینک 'دی آلٹرنیٹو پالیسی انسٹیٹیوٹ‘ کے پالیسی ڈائریکٹر، سامی حلابی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ایک سال بعد بھی جنگ بندی تقریباً تباہی کے دہانے پر ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی صرف اسی لیے برقرار ہے کیونکہ تنازع کے تمام فریق اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

حلابی کے مطابق، آنے والا سال فیصلہ کن ہو گا۔ ''یا تو لبنان اصل مسائل کو حل کرے، ورنہ جنگ بندی ختم ہو جائے گی اور ملک دوبارہ جنگ کا سامنا کرے گا۔‘‘

طبا طبائی کی ہلاکت کا واقعہ نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقائی تناؤ کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتا ہےتصویر: Mohammed Yassin/REUTERS

جنگ بندی کیسے عمل میں آئی؟

آٹھ اکتوبر 2023 کو حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانا شروع کیا تاکہ حماس کی حمایت کی جائے، جس نے ایک دن قبل اسرائیل پر دہشت گرد حملہ کیا تھا اور غزہ میں دو سالہ تنازع کی بنیاد پڑی۔

اگلے 12 ماہ کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 60 ہزار اسرائیلی اور ایک لاکھ لبنانی افراد کو سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ اسرائیل میں زیادہ تر لوگ اب بھی واپس نہیں جا سکے کیونکہ سکیورٹی خدشات برقرار ہیں، جبکہ لبنان میں تباہی اور مسلسل فضائی حملے بہت سے لوگوں کی واپسی کو تقریباً ناممکن بنا رہے ہیں۔

تیس ستمبر 2024 کی رات جنگ میں شدت آئی اور لبنان میں دو ماہ طویل جنگ شروع ہو گئی، جس میں اسرائیل کی زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔ 9 جنوری 2025 تک لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 4,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ عالمی بینک نے تباہ شدہ علاقوں کی بحالی کے لیے تقریباً 11 ارب ڈالر کی لاگت کا اندازہ لگایا۔

جنگ کے دوران اسرائیل نے حزب اللہ کو خاصا نقصان پہنچایا، متعدد رہنماؤں کو ہلاک کیا اور اس کی عسکری طاقت کا بڑا حصہ کمزور کیا۔

لیکن حزب اللہ اب بھی ایران کے ''محورِ مزاحمت‘‘ کا ایک اہم حصہ ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی تباہی کی حمایت کرنے والے ممالک اور گروہوں کا اتحاد ہے، اور اسرائیل کی بقا کے خلاف اپنا مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حزب اللہ دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور اسلحہ جمع کر رہی ہے۔

اب تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہ ہونے کے برابر رہے ہیںتصویر: Mohammed Yassin/REUTERS

جنگ بندی میں کیا طے پایا تھا؟

ستائیس نومبر 2024 کو فرانس اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والا امن معاہدہ بڑی حد تک 2006 کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 سے مماثل ہے۔

اس معاہدے میں اسرائیل سے لبنانی سرزمین سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم اسرائیلی فوج اب بھی لبنان کے اندر پانچ مقامات پر موجود ہے۔

اسی ہفتے بیروت نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک فوری شکایت جمع کرائی، جس میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی جانے والی نئی دیوار پر اعتراض کیا گیا۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے دعویٰ کو مسترد کیا اور کہا کہ 2022 میں شروع کی جانے والی دیوار لبنانی علاقے میں داخل نہیں ہوتی۔

معاہدے کی ایک اور اہم شق کے تحت حزب اللہ کی افواج کو، لبنان کے سب سے بڑے دریا، دریائے لیتانی کے شمال میں تعینات ہونا چاہیے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی عسکری موجودگی اس حد سے آگے منتقل کر دی ہے۔

مزید یہ کہ جنگ بندی میں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی شرط بھی شامل ہے۔ تاہم حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ یہ صرف دریائے لیتانی کے جنوب کے علاقوں پر لاگو ہوتا ہے، پورے لبنان پر نہیں۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود ہیں، اس سے ہتھیار ڈالنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اگست میں حزب اللہ نے یہاں تک دھمکی دی تھی کہ اگر لبنانی حکومت نے اس کے غیر مسلح ہونے پر زور دیا تو وہ خانہ جنگی شروع کر دے گا۔

امن معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ لبنان کی فوج کو جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ امن فوج کے ساتھ مشترکہ تعیناتی کرنی ہو گی۔

جمعرات کے روز لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اعلان کیا کہ جنوبی لبنان کو ماہِ رواں کے آخر تک عسکریت سے پاک کرنے کا منصوبہ ''پلان کے مطابق‘‘ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا، ''ہمیں فوج میں مزید افراد بھرتی کرنے ہوں گے، فوج کو بہتر ساز و سامان فراہم کرنا ہو گا، اور فوج کی تنخواہیں بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

تاہم سیاسی تجزیہ کار سامی حلابی کے مطابق بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔ ''یہ جنگ بندی اسی انداز میں تیار کی گئی ہے جس طرح ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف تنازعات پر اپنے 'امن معاہدے' کیے۔ یعنی صرف نکات کی ایک فہرست جو ایک فریم ورک کا روپ دھار رہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی بنیاد کا ہونا فائدہ مند ہے، ''لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود لبنان حل کے کسی قریب نہیں پہنچا۔‘‘

حلابی کے مطابق جنگ بندی اس وقت ہی دیرپا امن اور استحکام لا سکتی ہے جب اس کے ساتھ ایک وسیع سیاسی اور عسکری عمل جڑا ہو، جس میں لبنانی ریاست بتدریج قومی دفاع کا کنٹرول سنبھالے اور اسے اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے قابل بنایا جائے۔

انہوں نے کہا،''یہ مصر کی طرح مضبوط فوجی صلاحیتوں کے ذریعے ہو سکتا ہے یا ایک بڑے سیاسی معاہدے کے ذریعے۔ دونوں میں سے ایک یا دونوں کارگر ہو سکتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال نہیں۔‘‘

لبنان کی معیشت، جو پہلے ہی بحران میں ہے، مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری نے جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل ہےتصویر: Houssam Shbaro/Anadolu/picture alliance

کیا براہِ راست مذاکرات صورتحال بدل سکتے ہیں؟

جنگ بندی کے بعد لبنان میں کئی برسوں سے جاری سیاسی خلاء ختم ہوا اور جنوری 2025 میں جوزف عون کو صدر منتخب کیا گیا۔

اس ماہ کے اوائل میں صدر عون نے کہا کہ لبنان کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ''مذاکرات کی زبان جنگ کی زبان سے زیادہ اہم ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جنگ نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔‘‘

وزیر اعظم نواف سلام نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی اور امید ظاہر کی کہ لبنان ایک سفارتی حل کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔

اب تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہ ہونے کے برابر رہے ہیں، 1983 میں صرف ایک مختصر موقع کے سوا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی تعلق موجود نہیں۔ درحقیقت 1948 سے دونوں ملک تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔

لندن کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ ماہر لِینا خطیب کے مطابق، ''لبنان پر دباؤ بڑھ رہا ہے،اسرائیل کی جانب سے فوجی طور پر اور امریکہ کی جانب سے سفارتی طور پر کہ وہ ایسے سمجھوتے قبول کرے جنہیں وہ پہلے ناقابلِ قبول سمجھتا تھا۔‘‘

حزب اللہ لبنان میں طاقت ور کیوں ہے؟

04:09

This browser does not support the video element.

ج ا ⁄  ص ز، ر ب (جینیفر ہولیئس)

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں