1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لبنان کا ’کفالہ‘ نظام: جدید دور کی غلامی؟

جاوید اختر (مصنفہ:  ڈیانا ہداعلی)
19 دسمبر 2025

لبنان میں دسیوں ہزار تارکینِ وطن نام نہاد ’کفالہ‘ نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ انسانی حقوق اور تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیمیں اس نظام کو جدید دور کی غلامی قرار دیتی ہیں۔

سیرالیون سے تعلق رکھنے والی ایک ملازمہ گھر کی بالکونی سے باہر دیکھ رہی ہے
مقامی حقوقِ انسانی تنظیموں کے اندازے کے مطابق اس وقت لبنان میں تقریباً 150,000 تارکینِ وطن گھریلو ملازمائیں/گھریلو کارکن موجود ہیںتصویر: Aline Deschamps/Middle East Images/AFP via Getty Images

ابانگ شیرون گزشتہ سال 24 اپریل کو کیمرون سے لبنان پہنچی تھیں۔ 21 سالہ شیرون کا مقصد لبنان آ کر کام کرنا اور پیسہ کمانا تھا تاکہ وہ اپنے وطن میں اپنے خاندان کی مدد کر سکیں۔

ایک ایجنسی نے ان کے لبنان پہنچنے کے تمام انتظامات کیے، لیکن بعد میں، دسمبر کے اوائل میں تارکینِ وطن کے حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے شائع کی گئی ویڈیو میں شیرون نے بتایا کہ وہ ایک ’’ٹاکسک فیملی‘‘ یعنی مسلسل ذہنی اور جسمانی اذیت دینے والے خاندان کے لیے کام کر رہی تھیں۔ نہ تنخواہ، نہ محفوظ معاہدہ، نہ کوئی تحفظ، اور ہر وقت یہ احساس کہ کوئی واقعی مدد کرنے والا نہیں۔

حقوقِ مہاجرین کی تنظیم دِس اِز لبنان (ٹی آئی ایل) نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ شیرون نے پہلے آجر کے لیے صرف ایک دن کام کیا، بغیر کسی ادائیگی کے۔ دوسرے خاندان نے ان سے دو ہفتے کام کروایا، مگر انہیں براہِ راست ادائیگی کرنے کے بجائے 60 ڈالر بھرتی دفتر کو دے دیے، جو رقم شیرون کو کبھی نہیں ملی۔ تیسرے گھر میں شیرون کے استحصال میں مزید اضافہ ہوا۔ مئی 2024 سے انہیں نہ صرف گھریلو کام کرنے پر مجبور کیا گیا بلکہ اپنے آجرین کے دو کاروباری مقامات کی صفائی بھی ان کی ذمہ داری بنا دی گئی۔

اتنے زیادہ کام کے باوجود، شیرون کو آٹھ ماہ تک طے شدہ ماہانہ تنخواہ 200 ڈالر ادا نہیں کی گئی۔ ان کے آجرین نے یہ جواز پیش کیا کہ وہ ایجنسی کو پہلے ہی 2,000 ڈالر ادا کر چکے ہیں، گویا یہ شیرون کو خود تنخواہ نہ دینے کا کوئی قابلِ قبول بہانہ ہو۔

شیرون کی جسمانی صحت بگڑتی چلی گئی، انہیں سینے میں درد اور ناک سے بار بار خون آنے کی شکایات ہونے لگیں۔ جب انہوں نے اپنے آجرین کو بتایا کہ وہ مزید کام نہیں کرنا چاہتیں تو ان کا کھانا بھی روک دیا گیا۔

بالآخر جب انہوں نے ٹی آئی ایل سے رابطہ کیا تو حالات بدلنا شروع ہوئے۔ یہ غیر منافع بخش تنظیم 2017 سے لبنان میں تارکینِ وطن مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے اور جب تمام راستے بند ہو جائیں تو استحصال میں ملوث افراد کے نام عوامی طور پر سامنے لانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ ٹی آئی ایل اکثر مزدوروں کی واجب الادا رقم کا کچھ حصہ واپس دلوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل ضرورت ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور حقیقی جواب دہی کی ہے۔

اسپانسر ’تارکینِ وطن مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں‘

شیرون کی کہانی کوئی واحد مثال نہیں۔ ان کا تجربہ اس نظام کا حصہ ہے جسے مشرقِ وسطیٰ میں ’’کفالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عربی لفظ ہے جس کے معنی ’’سرپرستی‘‘ یا ’’ضمانت‘‘ کے ہیں۔ اس نظام کے تحت کسی ملک میں تارکِ وطن مزدور کی قانونی حیثیت کو اس کے آجر سے جوڑ دیا جاتا ہے، جو اس کا ’’اسپانسر‘‘ یا ’’کفیل‘‘ ہوتا ہے۔

کفالہ کے استحصالی نظام سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں افریقی یا ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی وہ خواتین شامل ہیں جو لبنان کے نجی گھروں میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ گھریلو ملازمین کو مقامی محنتی قوانین کے دائرے سے خارج رکھا گیا ہے، اور اکثر ان کے اسپانسر لبنان پہنچتے ہی ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیتے ہیں۔ اس سے آجر کو ملازم پر غیر معمولی اختیار حاصل ہو جاتا ہے اور استحصال بلکہ تشدد تک کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔

تنظیم یونین فے لا فورس، جس کا انگریزی مطلب ہے ''متحد اکٹھے ہوں تو طاقت بنتی ہے‘‘سے وابستہ میلیسا کوامی نگیسان ایپیفانی اس نظام کو بخوبی جانتی ہیں، کیونکہ وہ کئی برس قبل مغربی افریقی ملک آئیوری کوسٹ سے لبنان آئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں، ''کفالہ کا نظام تارکِ وطن خواتین پر نہایت منفی اثرات ڈالتا ہے۔ ان میں سے بہت سی خواتین کو پاسپورٹ ضبط کیے جانے، اجرت نہ ملنے اور مکمل آزادی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

اگست 2020 میں، کووِڈ-19 کی وبا کے دوران، لبنان میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی کینیا کی خواتین بیروت میں کینیا کے قونصل خانے کے باہر جمع ہوئیں اور اپنے وطن واپس بھیجے جانے کا مطالبہ کیا۔

کوامی نگیسان ایپیفانی کی تنظیم اگست 2023 میں قائم کی گئی تھی، تاہم اس نے باضابطہ طور پر رواں سال نومبر میں خود کو متعارف کرایا۔ اس گروپ میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی تقریباً 30 خواتین شامل ہیں۔ ان کے مطابق، تنظیم اب تک بے گھر افراد، بچوں اور بیماروں کی مدد سمیت کئی اہم کام انجام دے چکی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ امداد عموماً کس طرح منظم کی جاتی ہے۔ اگر کسی خاتون کو کسی قسم کے خطرے کا سامنا ہو تو کمیونٹی کو اطلاع دی جاتی ہے۔ لوگ متحرک ہو جاتے ہیں اور تنظیم کے نیٹ ورک کو خبردار کیا جاتا ہے، جو پھر ضروری انتظامات کرتا ہے۔

ک اور تنظیم ایگنا لیگنا بیسیدیت بھی مقامی اور بین الاقوامی لبنانی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ یہ خاص طور پر افریقی ممالک، بالخصوص ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ان خواتین پر توجہ دیتی ہے جن کے ساتھ لبنان میں بدسلوکی یا تشدد ہوا ہو۔

2010 سے، حقوق کی تنظیم کفا نے لبنان میں تارکینِ وطن گھریلو ملازمین پر بھی اپنی توجہ کا دائرہ وسیع کر دیا ہےتصویر: Diana Hodali/DW

کفالہ کا معاہدہ توڑنا جرم ہے

مقامی وکیل مہانہ اسحاق کفالہ کے نظام کو قانونی زاویے سے بیان کرتی ہیں۔ وہ ایک مقامی تنظیم کفا کے اینٹی ٹریفکنگ یونٹ میں قانونی امور اور وکالت کی سربراہ ہیں۔

کفا (جس کا مطلب ہے کافی ہے) تشدد اور استحصال کے خلاف 2005 میں قائم کی گئی تھی اور ابتدا میں گھریلو تشدد پر توجہ مرکوز رکھتی تھی۔ 2010 سے یہ تنظیم تارکِ وطن گھریلو ملازمین کے مسائل پر بھی کام کر رہی ہے۔

اسحاق وضاحت کرتی ہیں کہ کفالہ کا نظام کس طرح کام کرتا ہے۔ ایک ''کفیل‘‘ یا ضامن گھریلو ملازمہ کو ملک میں لانے کے لیے رقم ادا کرتا ہے، اور بہت سے ضامن اس ادائیگی کو اس بات کا جواز سمجھنے لگتے ہیں کہ انہیں ملازمہ پر کسی قسم کی ’’ملکیت‘‘ حاصل ہے۔

ادا کی جانے والی رقم کا انحصار خاتون کے اصل ملک پر ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کی مہارت، تعلیم اور نسل پرستی جیسے عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین کو اکثر بغیر کسی ذاتی کمرے کے، عموماً صرف اپنے کفیل کے ساتھ رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔ بعض خواتین باورچی خانے میں یا بالکونی میں سوتی ہیں۔ کچھ کو دوسرے گھروں میں بھیج دیا جاتا ہے یا کفیل کے کاروبار میں کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ جیسا شیرون کے ساتھ ہوا، اور یہ سب عموماً بغیر کسی اضافی معاوضے کے ہوتا ہے۔

اگر کوئی تارکِ وطن ملازمہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے تو اس پر جرم کا ارتکاب کرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ جو بھی اپنے کفیل کو چھوڑتا ہے اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور معاہدہ توڑنے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

مہانہ اسحاق دوٹوک انداز میں کہتی ہیں، ''لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جدید دور کی غلامی ہے۔‘‘

2020 میں، کووڈ-19 کی وبا کے دوران، لبنان میں مقیم تارکینِ وطن مزدور کینیا کے سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے اور وطن واپس بھیجے جانے (ریپیٹریئشن) کا مطالبہ کیاتصویر: Anwar Amro/AFP

کیا لبنانی حکومت کو اس کی پروا ہے؟

لبنان کی وزارتِ محنت کی جانب سے تارکِ وطن مزدوروں کے لیے ایک ٹیلی فون ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے۔ تاہم، تنظیموں دس اِز لبنان اور کفا کے مطابق یہ ہاٹ لائن زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔ شکایات کے بظاہر کوئی نتائج سامنے نہیں آتے۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ فروری 2025 میں بننے والی لبنان کی نئی حکومت اس مسئلے کو واقعی سنجیدگی سے لے رہی ہے یا نہیں۔

جو بات بالکل واضح ہے وہ یہ کہ انسانی حقوق اور تارکِ وطن مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی برسوں کی مہمات اور جدوجہد کے باوجود، کفالہ کا نظام آج بھی لبنان میں موجود ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ اس کا معاشی اثر ہے۔ غیر ملکی کارکنوں کو ملک میں لانے والی ایجنسیوں کا کاروبار مجموعی طور پر سالانہ تقریباً 57.5 ملین ڈالر کا ہے۔ حالانکہ ان پر اکثر استحصال، جبری مشقت اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات لگتے ہیں۔

2022 میں ان ایجنسیوں نے تارکِ وطن گھریلو ملازمین کے لیے ایک معیاری معاہدہ بنانے کی کوشش کو کامیابی سے روک دیا۔ لبنان کی اعلیٰ ترین عدالت نے وضاحت کی کہ ایسا معاہدہ ایجنسیوں کے کاروبار کو نقصان پہنچائے گا۔ اس فیصلے میں انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا جائزہ شامل ہی نہیں کیا گیا۔

مہانہ اسحاق، بتاتی ہیں کہ کفا دو سطحوں پر کام کرتی ہے۔ ایک طرف یہ متاثرہ افراد کو براہِ راست مدد فراہم کرتی ہے، اور دوسری طرف مقامی سیاست دانوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ اس کام میں تحفظ، رہائش اور قانونی معاونت شامل ہے، لیکن ساتھ ہی سیاسی دباؤ بھی۔

تاہم اسحاق کے مطابق ایک بڑا مسئلہ موجود ہے، اور وہ ہے کفالہ کی ثقافت اور یہ شعور نہ ہونا کہ یہ نظام خود ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔ بہت سے کفیل خود کو متاثرہ سمجھتے ہیں اور تارکِ وطن خواتین سے شکرگزاری کی توقع بھی رکھتے ہیں۔

لبنانی ریاست تفریق کی ممانعت کرتی ہے، لیکن اسحاق نے بے شمار مثالیں دیکھی ہیں کہ کس طرح نسل پرستی تارکِ وطن مزدوروں کو متاثر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ سوئمنگ پول ایسے ہیں جہاں تارکِ وطن مزدوروں کو، اگر انہیں احاطے میں داخل ہونے دیا جائے تب بھی، پانی میں اترنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسحاق نے یہ سب خود دیکھا ہے۔ انہوں نے اکثر یہ بھی دیکھا ہے کہ ریستورانوں میں تارکِ وطن گھریلو ملازمین اپنے آقاؤں سے الگ میزوں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔

یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ کفا کے اندازے کے مطابق کووِڈ-19 وبا سے پہلے لبنان میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار تارکِ وطن گھریلو ملازمین موجود تھے۔ وبا کے بعد یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 60 ہزار رہ گئی، لیکن حالیہ عرصے میں دوبارہ بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

یہ رپورٹ اصل میں جرمن زبان میں شائع ہوئی تھی۔

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں