1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لتھوینیا کو افرادی قوت کی قلت کا سامنا

عدنان اسحاق31 دسمبر 2014

لتھوینیا مشرقی یورپ کا ایک ایسا ملک ہے، جہاں کئی دیگر ممالک کی طرح بہتر روزگار کی تلاش میں ہجرت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ملک میں دیہی علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگ دیگر شہروں کی جانب رخ کر رہے ہیں۔

تصویر: DW

انتانس زوباویکیئو لتھوینیا سے تعلق رکھنے والا ایک کسان ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اب وہ اپنے گاؤں ’دمبلی یونیلیا‘ میں بچ جانے والا آخری باشندہ ہے۔ کئی میلوں تک اس کا کوئی پڑوسی نہیں ہے۔ کسی زمانے میں وہ کھیتی باڑی میں کافی مصروف رہتا ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس کے گاؤں کے باسیوں نے بہتر روزگار کے تلاش میں نقل مکانی شروع کر دی۔ وہ بتاتا ہے، ’’میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہ میری زمین ہے۔‘‘ ساٹھ سالہ زوباویکیئو نے مزید کہا کہ ’’اگر میں چلا گیا تو اس گاؤں کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔‘‘

لتھوینیا میں یکم جنوری 2015ء سے یورو کرنسی رائج ہو جائے گی۔ اس حوالے سے ولنس حکومت کو امید ہے کہ یورپی یونین کی مشترکہ کرنسی اپنانے سے سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ ہو گا۔ تاہم بالٹک خطے کی ریاستوں کے امیر یورپی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے انضمام کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ان ممالک سے نقل مکانی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ متعدد علاقے ویران ہو چکے ہیں اور بہت سے شہروں کو شدید افرادی قلت کا سامنا ہے۔

تصویر: Reuters/I. Kalnins

لتھوینیا میں جائیداد کی خرید و فروخت کے ایک معروف ادارے ’ ہانر‘ کے مطابق ’’باصلاحیت اور پیشہ ور افراد کی شدید قلت کا سامنا ہے‘‘۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں شاپنگ مالز، ریستورانوں اور اسی طرح کے دیگر مقامات پر کام کرنے والوں کی کمی ہے اور اشتہارات کے باوجود انہیں افرادی قوت نہیں مل پا رہی۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے، لتھوینیا میں ایک مزدور کو فی گھنٹہ 1.80یورو ملتے ہیں جبکہ اسپین میں ایک گھنٹہ کام کرنے کے 4.30 یورو دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح آئر لینڈ میں ایک گھنٹہ کام کر کے ایک مزدور 8.60 یورو کماتا ہے۔

لتھوینیا میں ہجرت کا سلسلہ اس وقت عروج پر پہنچا، جب 2004ء میں یہ ملک یورپی یونین کا رکن بننا۔ اس رکنیت کے ساتھ ہی لتھوینیا کے شہریوں کو دیگر کئی رکن ملکوں میں بغیر ویزے آنے جانے کی اجازت مل گئی تھی۔ 2008ء اور 2011ء کے دوران دنیا کو اقتصادی بحران کا سامنا تھا اور اس دوران تین ملین کی آبادی والے اس ملک سے ہر سال تقریباً 80 ہزار افراد نے ہجرت کی۔ ان میں سے زیادہ تر نے جرمنی، برطانیہ اور اقتصادی طور پر مستحکم دیگر یورپی ممالک کا رخ کیا۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ رجحان فی الحال اسی طرح سے جاری رہے گا بلکہ اس میں اضافے کا امکان موجود ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں