1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لتھوینیا، یورپی یونین کا سربراہ

Sascha Brinkmann، عدنان اسحاق1 جولائی 2013

یکم جولائی سے اگلے چھ ماہ کے لیے یورپی یونین کی سربراہی لتھوینیا کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ بحیرہ بالٹک کی اس چھوٹی سی ریاست کے حصے میں یہ ذمہ داری آئی ہے۔ بڑے بڑے مسائل لتھوینیا کا انتظار کر رہے ہیں۔

تصویر: Petras Malukas/AFP/Getty Images

لتھوینیا جیسے چھوٹے سے ملک کے لیے یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ لتھوینیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ملک چھوڑ چکا ہے۔ اب صرف تین ملین افراد یہاں رہتے ہیں اور یہ تعداد جرمن دارالحکومت برلن سے بھی کم ہے۔ گزشتہ دس برسوں سے لتھوینیا یورپی یونین کا رکن ہے لیکن یورو زون میں شامل نہیں ہے۔ وہاں ابھی بھی لیتاس کرنسی استعمال کی جاتی ہے۔

ان چھ ماہ کے دوران لتھوینیا کی مرکزی توجہ توانائی کے شعبے کے ساتھ ساتھ بحیرہ بالٹک کے علاقے کی ترقی اور یورپی سرحدوں کی نگرانی پر مرکوز رہے گی۔ لتھوینیا مشرقی یورپ کے ممالک جیسے کہ یوکرائن، جورجیا، آرمینیا اور بیلا روس کے ساتھ قریبی تعاون قائم کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔ اس تناظر میں نومبر کے آخر میں لتھوینیا کی حکومت ایک مشرقی پارٹنر شپ سربراہی اجلاس بھی منقعد کرا رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اجلاس اسی صورت میں کامیاب ہو گا جب اس میں یوکرائن کے ساتھ شراکت کا معاہدہ طے پا جائے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

لتھوینیا کی صدر Dalia Grybauskaitė کو ابھی حال ہی میں ان کی کارکردگی کی وجہ  سے کارل پرائز دیا گیا ہے۔ وہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کو فوقیت دیتی ہیں۔ ڈوئچے ویلے سے باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’اگر یورپ نے ان ممالک پر توجہ نہ دی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے اور زیادہ کام نہ کیا تو یہ ممالک بھی کچھ نہیں کریں گے۔ ہمیں ان کی مدد کرنی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو ان ممالک پر توجہ مرکوز رکھنی ہے چاہے اس کے لیے اسے کتنے ہی صبر کا مظاہرہ نہ کرنا پڑے۔

دارالحکومت ولنیس کی یورنیورسٹی میں سیاسی امور کے ماہر اور ناقد Ramūnas Vilpišauskas کا خیال ہے کہ لتھوینیا کے لیے پیچیدہ مذاکراتی عمل مشکل ہو سکتا ہے۔ ’’اچھا سربراہ اور دوسروں کی نظروں میں قابل اعتبار بننے کے لیے کسی بھی ملک کو کامیابیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر ان شعبوں میں، جو خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔‘‘

لتھوینیا کو چیلنجز کا بخوبی اندازہ ہے۔ اسی لیے اُس نے برسلز میں اپنی موجودگی میں تین گناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اس وقت برسلز میں موجود سفارت کاروں اور خصوصی نمائندوں کی تعداد 200 کے قریب ہے اور یہ لوگ مختلف شعبوں میں مہارت رکھتے  ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں