لیٹویا کے بینکوں میں غیر ملکی سرمایہ: منی لانڈرنگ کا خطرہ
4 اگست 2013
لیٹویا کے بینکاری نظام پر تنقید کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں ٹیکس چوروں کو محفوظ ٹھکانے میسر ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ملک منی لانڈرنگ کا بھی ایک مرکز ہے۔ تاہم ریگا حکومت ان الزامات کے حوالے سے اپنی ساکھ کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔
وزیر اعظم Valdis Dombrovskis نے اس تناظر میں کہا ہے کہ سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والی بالٹک کی اس ریاست کے بینکوں میں موجود روسی عوام کے بڑے سرمائے کے باوجود وہ مالی مشکلات کا شکار ہونے والے یورپی ملک قبرص کی طرز پر نہیں چل رہا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور یورپی کمیشن نے مشترکہ طور پر ریگا حکومت کو خبردار کیا ہے کہ لیٹویا کے 13 بینکوں میں جمع غیر ملکی باشندوں کے بہت زیادہ سرمائے کی وجہ سے وہاں منی لانڈرنگ کا خطرہ موجود ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیسے جیسے لیٹویا کے یورو زون کا رکن بن جانے کا وقت قریب آتا رہا ہے، ویسے ویسے وہاں جمع غیر ملکی سرمائے کے حجم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 2012ء میں لیٹویا کے بینکوں میں جمع غیر ملکی سرمائے کی مالیت میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں یہ اضافہ پانچ فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یوں ایسی رقوم کی مجموعی مالیت تب تک 9 بلین یورو ہو چکی تھی، جو اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد کے برابر بنتی ہے۔
اس بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا لیٹویا کے ریگولیٹرز بالٹک کی اس جمہوریہ کے مالیاتی نظام کے شفاف ہونے کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ لندن میں قائم فوکس کارپوریٹ انویسٹیگیشن نامی فرم سے وابستہ ڈینئل ہال کہتے ہیں کہ مالیاتی امور کے حوالے سے لیٹویا مشرق اور مغرب کے مابین پل کا کام کرتا ہے، جہاں مختلف کمپنیاں بنیکاری کرنے کی خواہشمند ہیں۔ ان کے بقول وہاں مالیاتی نوعیت کے جرائم کی وجہ حکام کا ان کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنا ہے۔ وہ اس تاثر کو بھی رد کرتے ہیں کہ لیٹویا دراصل بیرونی ملکوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کا مرکز ہے۔
2004ء میں یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن بننے والے شمالی یورپ کے اس ملک کے قوانین کے مطابق اگر کوئی غیر ملکی وہاں 71 ہزار یورو کی جائیداد خریدتا ہے تو اسے پانچ برس کے لیے وہاں کا رہائشی پرمٹ مل جاتا ہے۔ اسی قانون کی مدد سے 43 ہزار آٹھ سو 56 روسی شہری لیٹویا میں رہائش کا قانونی اجازت نامہ حاصل کر چکے ہیں جبکہ سابق سوویت یونین کی آٹھ دیگر ریاستوں کے سات ہزار900 شہریوں کو بھی لیٹویا کا یہی رہائشی پرمٹ جاری کیا جا چکا ہے۔