1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لیٹویا کے بینکوں میں غیر ملکی سرمایہ: منی لانڈرنگ کا خطرہ

عاطف بلوچ4 اگست 2013

یورپی یونین کا رکن ملک لیٹویا آئندہ برس یکم جنوری سے یورپی مشترکہ کرنسی یورو استعمال کرنے والے بلاک کا رکن بن جائے گا۔ اس ملک کے بینکنگ کے شعبے پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہاں ٹیکس چوری کے مواقع موجود ہیں۔

تصویر: Reuters

لیٹویا کے بینکاری نظام پر تنقید کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں ٹیکس چوروں کو محفوظ ٹھکانے میسر ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ملک منی لانڈرنگ کا بھی ایک مرکز ہے۔ تاہم ریگا حکومت ان الزامات کے حوالے سے اپنی ساکھ کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔

وزیر اعظم Valdis Dombrovskis نے اس تناظر میں کہا ہے کہ سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والی بالٹک کی اس ریاست کے بینکوں میں موجود روسی عوام کے بڑے سرمائے کے باوجود وہ مالی مشکلات کا شکار ہونے والے یورپی ملک قبرص کی طرز پر نہیں چل رہا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور یورپی کمیشن نے مشترکہ طور پر ریگا حکومت کو خبردار کیا ہے کہ لیٹویا کے 13 بینکوں میں جمع غیر ملکی باشندوں کے بہت زیادہ سرمائے کی وجہ سے وہاں منی لانڈرنگ کا خطرہ موجود ہے۔

اس بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا لیٹویا کے ریگولیٹرز مالیاتی نظام کی شفافیت کی ضمانت دے سکتے ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیسے جیسے لیٹویا کے یورو زون کا رکن بن جانے کا وقت قریب آتا رہا ہے، ویسے ویسے وہاں جمع غیر ملکی سرمائے کے حجم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 2012ء میں لیٹویا کے بینکوں میں جمع غیر ملکی سرمائے کی مالیت میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں یہ اضافہ پانچ فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یوں ایسی رقوم کی مجموعی مالیت تب تک 9 بلین یورو ہو چکی تھی، جو اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد کے برابر بنتی ہے۔

اس بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا لیٹویا کے ریگولیٹرز بالٹک کی اس جمہوریہ کے مالیاتی نظام کے شفاف ہونے کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ لندن میں قائم فوکس کارپوریٹ انویسٹیگیشن نامی فرم سے وابستہ ڈینئل ہال کہتے ہیں کہ مالیاتی امور کے حوالے سے لیٹویا مشرق اور مغرب کے مابین پل کا کام کرتا ہے، جہاں مختلف کمپنیاں بنیکاری کرنے کی خواہشمند ہیں۔ ان کے بقول وہاں مالیاتی نوعیت کے جرائم کی وجہ حکام کا ان کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنا ہے۔ وہ اس تاثر کو بھی رد کرتے ہیں کہ لیٹویا دراصل بیرونی ملکوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کا مرکز ہے۔

2004ء میں یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن بننے والے شمالی یورپ کے اس ملک کے قوانین کے مطابق اگر کوئی غیر ملکی وہاں 71 ہزار یورو کی جائیداد خریدتا ہے تو اسے پانچ برس کے لیے وہاں کا رہائشی پرمٹ مل جاتا ہے۔ اسی قانون کی مدد سے 43 ہزار آٹھ سو 56 روسی شہری لیٹویا میں رہائش کا قانونی اجازت نامہ حاصل کر چکے ہیں جبکہ سابق سوویت یونین کی آٹھ دیگر ریاستوں کے سات ہزار900 شہریوں کو بھی لیٹویا کا یہی رہائشی پرمٹ جاری کیا جا چکا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں