1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ماحولیاتی تبدیلیاں: بھارت میں اقلیتی برادریاں زیادہ متاثر

رابعہ بگٹی دانش پنڈت، ڈی ڈبلیو
5 اپریل 2026

بھارت میں سیلاب صرف گھر اور زمین ہی تباہ نہیں کرتے بلکہ بہت سے خاندانوں کی قانونی شناخت بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اقلیتی برادریوں تک حکومتی امداد اکثر پہنچتی ہی نہیں۔

بھارت میں سیلاب کے بعد ایک خاندان عارضی خیمے میں پناہ لیے ہوئے۔
بھارت میں سیلاب کے بعد ایک خاندان عارضی خیمے میں پناہ لیے ہوئے۔تصویر: Amir Hussain

گزشتہ سال جب بھارت میں مون سون کی بارشیں شروع ہوئیں تو شمال مشرقی ریاست آسام میں دریائے برہم پترا کے کنارے کٹ کر دریا میں سمانے لگے۔ اس دریا کے کنارے آباد امیر حسین کو ایک بات اچھی طرح معلوم تھی کہ انہیں ایک بار پھر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنی پڑے گی۔

آسام کے بارپیتا ضلع کے کھربلی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ حسین نے بتایا، ''میں نے دریا کے کناروں کے کٹاؤ کی وجہ سے اپنا گھر سترہ بار کھویا ہے۔ جب بھی سیلاب آتا ہے تو ہم نئے گھر میں قدم جمانے ہی لگتے ہیں کہ ایک اور سیلاب آ جاتا ہے اور ہم پھر بے گھر ہو جاتے ہیں۔"

کھربلی جیسے دریا کنارے آباد کئی دیہات میں سیلاب ہر سال گھر، مویشی اور کھیت تباہ کرتا ہے، جن پر یہاں کے لوگوں کا روزگار منحصر ہے۔ یہاں کے خاندان بار بار نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں اور اکثر ادھار لی گئی زمین یا دریا کے پانی سے بچ جانے والی تنگ پٹیوں پر دوبارہ گھر تعمیر کرتے ہیں۔

2023 کے سیلاب کے دوران دریا کے پانی نے امیر حسین کے گھر کو تباہ کر دیا۔ تصویر: Amir Hussain

 گھر کے ساتھ شناخت بھی ڈوب جاتی ہے

ان خاندانوں کے لیے سیلاب کا مطلب صرف گھر اور مویشی کھونا نہیں، بلکہ اہم سرکاری دستاویزات اور زمین کے ریکارڈ کا ضیاع بھی ہے۔

یہ خطرہ خاص طور پر آسام میں مقیم مسلمان خاندانوں کے لیے انتہائی سنگین ہے۔ ریاست پہلے ہی طویل عرصے سے مسلم باشندوں کی بھارتی شہریت ختم کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ مرکزی حکومت کی حالیہ پالیسیوں اور تصدیقی مہموں نے ان کے لیے معاملات مزید کٹھن بنا دیے ہیں۔ دریا میں بہہ جانے والی دستاویزات قانونی مشکلات اور یہاں تک کہ شہریت سے محرومی کا سبب بن سکتے ہیں۔

حسین نے بتایا، "جب لوگ گھر کھو کر روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں میں جاتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔"

ان کے ماموں کے پاس 1913ء تک کی دستاویزات موجود تھیں، اس کے باوجود انہیں 'ڈی-ووٹر' یعنی مشکوک ووٹر قرار دے کر اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑنی پڑی۔ حسین نے کہا، "مجھے یومیہ اجرت پر کام کرتے ہوئے یہ مقدمہ لڑنا پڑا۔" بالآخر عدالت نے انہیں بھارتی شہری قرار دے دیا۔

لیکن سب اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے۔ حسین نے اپنے ایک پڑوسی کا ذکر کیا، جنہوں نے انہی معاملات کی وجہ سے آسام کے ماتیا حراستی کیمپ میں دو سال گزارے۔ یہ کیمپ بھارت میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔

سیلاب سے متاثرہ خواتین نے اپنے لیے اپنی ساڑھیوں سے ایک عارضی پناہ گاہ بنائی ہوئی ہے۔تصویر: Amir Hussain

 مستقل آفات، عارضی امداد

یہ مسئلہ صرف آسام تک محدود نہیں۔ پورے بھارت میں موسمیاتی تبدیلیاں سیلاب، طوفان اور خشک سالی کی شدت بڑھا رہی ہیں، تاہم ان کا بوجھ ہر طبقے پر یکساں نہیں پڑتا۔ سیلاب اور دریائی کٹاؤ کا سب سے زیادہ شکار مذہبی اقلیتیں ہوتی ہیں اور حکومتی امداد انہی تک سب سے آخر میں پہنچتی ہے۔

ریاست بہار کے نیپال سے متصل سیلاب زدہ ضلع سپول میں بھی کہانی مختلف نہیں۔ 40 سالہ عبدالرؤف نے دریائے کوسی کو، جسے "بہار کا دکھ" کہا جاتا ہے، سال بہ سال کھیت اور گھر ڈبوتے دیکھا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق علاقے کی "80 فیصد آبادی سیلاب سے متاثر ہوتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اس سب میں غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے۔ امیر طبقہ بہت کم متاثر ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کے پاس وسائل ہوتے تو وہ ایسے سیلاب زدہ علاقوں میں رہتے ہی کیوں؟"

رؤف کے مطابق ان کے علاقے تک امداد پہنچتی تو ہے مگر نہ ہونے کے برابر، "حکام پولی تھین کی چادریں، خشک خوراک اور معمولی معاوضہ دیتے ہیں۔ لوگوں کے پاس کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا، کچھ وقت بعد وہ واپس آ جاتے ہیں اور اگلے سال یہی سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔"

بھارتی ضلع ارریہ کے 23 سالہ آفتاب عالم کہتے ہیں کہ ہر مون سون میں ان کا گاؤں کسی جزیرے جیسا لگنے لگتا ہے، "حکمران کہتے ہیں کہ جل ہی جیون ہے، یعنی پانی ہی زندگی ہے۔ لیکن ہمارے لیے تو یہ موت ہے۔"

ایک گھر سیلاب کے پانی میں مکمل ڈوبا ہوا ہے۔تصویر: Amir Hussain

 کئی بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں

ایک حالیہ جائزے کے مطابق بہار کے شمالی علاقوں میں تقریباً 82 فیصد خاندان 2024ء کے سیلاب میں عارضی طور پر بے گھر ہوئے۔ زندہ رہنے کے لیے بہت سے لوگوں نے اپنے زیورات، مویشی اور زمین بیچ ڈالی یا گروی رکھ دی۔

عالم کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے 2017ء کے تباہ کن سیلاب کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پوری بستیاں راتوں رات غائب ہو گئیں، پانی تقریباً ایک میٹر تک بلند تھا، کئی لوگ ہلاک ہوئے اور کئی خاندانوں نے راتیں سڑکوں پر گزاریں۔

ان کے مطابق ریاستی معاوضہ نقصان کے مقابلے میں انتہائی ناکافی تھا اور جو رقم ملی وہ بھی غیر مساوی طور پر تقسیم ہوئی، "معاوضہ بھی اثر و رسوخ رکھنے والوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔"

'ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے، کسی کو پرواہ نہیں'

کھربلی گاؤں کبھی محفوظ تھا لیکن آج اس کا بیشتر حصہ دریائے بیکی میں سما چکا ہے۔ یہاں تقریباً 300 خاندان رہتے ہیں اور تقریباً سبھی کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔

حسین نے کہا، "پہلے سیلاب ہر سال جولائی یا اگست میں آتا تھا۔ اب موسم کا مزاج بدل گیا ہے۔ کبھی سیلاب دو مہینے پہلے آتا ہے، کبھی دو مہینے بعد۔ کبھی موسلادھار بارش، کبھی خشک سالی۔"

دریا کے کنارے تعمیر کی گئی ایک عارضی بستی کا گھر جہاں متاثرین مقیم ہیں۔ تصویر: Amir Hussain

انہوں نے مزید بتایا، "لیکن سب سے زیادہ ہم غریب ہی متاثر ہوتے ہیں، پہلے فطرت سے، پھر انسانوں سے۔"

ان کے مطابق حکومتی اہلکار آتے ہیں، پیمائش کرتے ہیں، فہرستیں بناتے ہیں لیکن فہرستیں فہرستیں ہی رہتی ہیں اور متاثرین کو ایک پیسہ نہیں ملتا، "ہم اقلیتی برادری سے ہیں۔ ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے، کسی کو پرواہ نہیں۔"

 زرخیز مگر خطرناک زمین

آسام اور بہار کے کئی حصوں میں سیلاب زدہ میدانی علاقوں میں زیادہ تر مسلمان، دلت اور مالی طور پر پسماندہ طبقے آباد ہیں۔

ریموٹ سینسنگ سائنسدان اشفاق الحق نے وضاحت کی، "یہ علاقے سب سے زیادہ زرخیز ہوتے ہیں، اس لیے زراعت پر انحصار کرنے والے یہاں آباد ہوتے ہیں۔ لیکن سیلاب آنے پر جن کے پاس وسائل نہیں، وہی سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ امیر خاندانوں کے پاس نقل مکانی، تعمیرِ نو یا نقصان برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جبکہ غریب کے لیے یہ دوہرا نقصان ہے۔

بھارت میں سیلاب مہینوں تک زرعی اراضی کو زیر آب رکھتا ہے۔ کئی جگہوں پر سیلابی پانی مہینوں تک زرعی زمین پر کھڑا رہتا ہے، جس سے کسانوں کو آبپاشی اور مویشیوں کے لیے استعمال ہونے والی زمین کو چھوڑنا پڑتا ہے۔تصویر: Danish Pandit

کئی دہائیوں سے جاری مصیبت

بھارت کے معروف ماحولیاتی ماہر ملیندو جھا کہتے ہیں، "آب و ہوا کی تبدیلی متوسط طبقے پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب موسم بدلتا ہے تو فصلوں اور زمین سے منسلک لوگوں کی آمدنی سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔"

جھا نے اس عدم مساوات کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا، "آمدنی میں کمی مزید مصیبتوں کو دعوت دیتی ہے اور بار بار کی نقل مکانی خاندانوں کو مزید عدم تحفظ میں دھکیل دیتی ہے۔ حکومت عارضی حل تو تلاش کر لیتی ہے لیکن طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔"

حسین اور ان جیسے اقلیتی خاندانوں کے لیے ہر گزرتے سال کے ساتھ مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔زمین اور دستاویزات کا ضیاع زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے، خواہ وہ خوراک ہو، تعلیم ہو یا اگلے مون سون کی تیاری۔

ادارت: امتیاز احمد

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں