مادرو کی گرفتاری: صدر ٹرمپ نے کیا دیکھا؟
3 جنوری 2026
79 سالہ ریپبلکن صدر نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں کہا، ''میں نے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ میں اسے حقیقی وقت میں دیکھنے کے قابل تھا۔
انہوں نے مزید کہا، ''میں نے اسے بالکل ایسے دیکھا جیسے میں کوئی ٹیلی ویژن شو دیکھ رہا ہوں۔ اور اگر آپ اس کی رفتار اور شدت کو دیکھتے (تو دنگ رہ جاتے)۔‘‘
وینزویلا میں امریکی کارروائی پر عالمی رد عمل
امریکی صدر نے بتایا کہ اس ڈرامائی آپریشن میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا، اور مزید کہا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو ایک بحری جہاز پر لے جایا گیا ہے جہاں سے انہیں نیویارک بھیجا جائے گا، جہاں انہیں منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے۔
امریکی صدر نے، جو فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں موجود ہیں، بتایا کہ انہوں نے ایک ہفتہ قبل مادورو سے بات کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ ''آپ کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔‘‘
ٹرمپ نے اس انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اصل میں مادورو کو پکڑنے کے آپریشن کی منظوری چار دن پہلے دی تھی، لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے اسے ہفتے تک روک دیا گیا تھا۔
ٹرمپ کے بقول، '' یہ بس حیرت انگیز تھا۔ وہ ایک انتہائی سخت پہرے والے... درحقیقت ایک قلعے جیسی جگہ میں تھے۔‘‘
"وہاں فولادی دروازے تھے، اور وہاں ایک ایسی جگہ تھی جسے وہ سیفٹی اسپیس کہتے ہیں جو چاروں طرف سے ٹھوس اسٹیل کی بنی ہوئی ہے۔ وہ اس جگہ کو بند نہیں کر سکے، وہ اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ان پر اتنی تیزی سے دھاوا بولا گیا کہ وہ اس میں داخل نہ ہو سکے۔‘‘
ٹرمپ کے مطابق، ''ہم اسٹیل کو کاٹنے کے لیے بڑے بلو ٹارچز کے ساتھ تیار تھے، لیکن ہمیں ان کی ضرورت نہیں پڑی۔‘‘