1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مارٹر گولے کا حملہ ایک المناک حادثہ ہے: شام

Kishwar Mustafa4 اکتوبر 2012

شامی حکام نے روس سے کہا ہے کہ ترکی میں پانچ شہریوں کی ہلاکت کا باعث بننے والا مارٹر گولے کا حملہ ایک المناک حادثہ ہے اور یہ آئندہ کبھی نہیں دہرایا جائے گا۔

تصویر: Reuters

عرب ریاست شام کا بحران ایک علاقائی تنازعے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شامی باغیوں اور حکومتی فورسز کے مابین 18 ماہ سے جاری مسلح جھڑپوں میں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں اور لاتعداد شامی باشندوں کی ہمسایہ ممالک کی طرف نقل مکانی کے بعد اب اس خانہ جنگی کی آگ اپنے ارد گرد کے علاقوں کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ بُدھ کی شام ترکی کے قصبے اکاکیل پر شامی علاقے تل ابیض سے داغے جانے والے ایک مارٹر گولے کے بعد سے انقرہ اور دمشق کے مابین تعلقات غیر معمولی حد تک کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں پانچ ترک باشندے ہلاک ہو گئے۔ ترکی نے یہ معاملہ یورپی یونین کے سامنے پیش کیا ہے۔ دریں اثناء متعدد یورپی لیڈروں نے شام کی طرف سے ترک علاقے پر گولہ باری کی سخت مذمت کی ہے۔

شام کی سرحد سے ملحقہ ترک علاقہ اکاکیلتصویر: Reuters

شام کے حلیف روس کی ایک خبر رساں ایجنسی RIA Novesti کی جانب سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شامی حکام نے روس سے کہا ہے کہ ترکی میں پانچ شہریوں کی ہلاکت کا باعث بننے والا مارٹر گولے کا حملہ ایک المناک حادثہ ہے اور یہ آئندہ کبھی نہیں دہرایا جائے گا۔ اس خبر ایجنسی کے مطابق اسلام آباد کے دورے پر گئے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ روس نے شام پر زور دیا تھا کہ وہ اس واقعے کے حادثاتی طور پر رونما ہونے کا اقرار کھلے عام کرے۔ لاوروف کا کہنا تھا،’شام متعینہ اپنے سفیر کے ذریعے ہم نے شامی حکام سے اس بارے میں بات کی، دمشق حکومت نے یقین دلایا کہ ترکی کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقے میں رونما ہونے والا یہ ناخوشگوار واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا ہے اور آئندہ ایسا کبھی نہیں ہو گا‘۔ روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ بیان دمشق حکومت کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

ادھر جرمن وزیر خارجہ نے علاقائی سطح پر بحران کے پھیلنے سے انتباہ کیا ہے۔ شام اور ترکی کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ نے کہا،’ہم اپنے نیٹو پارٹنر ترکی کے ساتھ ہیں۔ اسد حکومت کو ترکی اور اس کے پڑوسی ممالک کی سرحدی خود مختاری کا بھرپور احترام کرنا ہو گا۔ تاہم ہم ان بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کے لیے تحمل، احتیاط اور مناسب اقدامات پر زور دینا چاہتے ہیں‘۔

انقرہ پارلیمان میں شام کے ساتھ ترکی کے تعلقات کے بارے میں ہونے والا خصوصی اجلاستصویر: Adem Altan/AFP/GettyImages

دریں اثناء یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نگران کیتھرین ایشٹن نے بھی شام کی طرف سے ترک علاقے پر ہونے والے مارٹر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے دمشق حکومت سے ایک بار پھر تشدد کے فوری خاتمے اور ہمسایہ ممالک کی سرحدی خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن ہے اور یورپی یونین میں رکنیت حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔

آج جمعرات کو فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے بھی شام کی رویے کی مذمت کرتے ہوئے ترک علاقے پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شام کا یہ رویہ بین الاقوامی برادری مزید برداشت نہیں کرے گی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے بقول انہوں نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ بات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ فرانس ترکی کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے اور اس معاملے پر اقوام متحدہ اور نیٹو کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ فابیوس نے کہا، وہ امید کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی طرف سے اس واقعے کی فوری طور پر مذمت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ترکی نے شامی مارٹر گولہ گرنے کے بعد ایک بار پھر شامی علاقے پر بمباری کی ہے اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

km/aa (Reuters)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں