1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مارٹن لوتھر کنگ کا خواب چکنا چور

شلیس گیرو/ کشور مصطفیٰ15 جولائی 2013

ایک سفید فام امریکی باشندے کے ہاتھوں ایک سیاہ فام افریقی امریکی باشندے کا قتل اُس پر ستم یہ کہ عدالت نے ملزم کو بری کر دیا۔

George Zimmerman im Prozess um Tod von Trayvon Martin freigesprochen
تصویر: Reuters

ان دنوں امریکی باشندوں میں شدید صدمے اور حیرانی کا سبب بننے والا ایک واقعہ نہ صرف تمام بڑے ٹیلی وژن چینلز کی غیر معمولی توجہ کا حامل ہے بلکہ واشنگٹن میں قائم سینٹ آگسٹین چرچ میں گزشتہ روز ہونے والے اتوار کے میس کے شرکاء کے لیے بھی بحث کا مرکزی موضوع بنا۔ ایک سفید فام امریکی باشندے کے ہاتھوں ایک سیاہ فام افریقی امریکی باشندے کا قتل اُس پر ستم یہ کہ عدالت نے ملزم کو بری کر دیا۔ اس واقعے نے امریکی معاشرے میں نہ صرف نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے رجحان کے حوالے سے بلکہ اس کے سیاسی پہلو پر بھی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک عدالت نے گزشتہ روز اتوار کو ایک سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے سفید فام ملزم کو بری کر دیا۔ سفید فام شہری جارج زِمرمین رضا کارانہ طور پر اپنے علاقے کی نگرانی کا کام کرتا ہے۔ فروری 2012ء میں اس نے ایک 17 سالہ سیاہ فام نوجوان ٹریون مارٹن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ فلوریڈا کی ایک عدالت میں زمرمین کا مقدمہ چل رہا تھا۔ گزشتہ روز اس مقدمے میں چھ خواتین پر مشتمل جیوری کے متفقہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ملزم زِمرمین نے گولی اپنے ذاتی دفاع میں چلائی تھی۔ عدالت نے ملزم کو باعزت بری کر دیا۔ یہ معاملہ نسلی امتیاز کے تناظر میں تو اہم ہے ہی تاہم اسے بڑے پیمانے پر سیاسی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے سفید فام ملزم کو بری کر دیا گیاتصویر: Reuters

ایک سیاسی ذمہ داری

واشنگٹن میں ’سینٹر فار امیرکن پروگرس‘ سے منسلک میشائل ویرس کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے،’فلوریڈا کی قدامت پسند حکومت نے اپنے ہاں یہ قانون بنا رکھا ہے کہ کوئی بھی شخص خود پر ہونے والے حملے میں جان کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ ایسے کیسس میں بھی، جس میں حملے کا شکار فرد خود کو خطرات کی صورتحال سے بغیر ہتھیار کے استعمال کے بچا سکتا ہے، اس کی اجازت دی گئی ہے ‘۔

میشائل ویرس اسے قانونی گرے زون قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول اس قسم کے قوانین زمرمین جیسے افراد کو خود کو ایک نجی پولیس سمجھتے ہوئے اپنے محلے کے اُن لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا بہترین موقع فراہم کر دیتے ہیں جنہیں وہ اس علاقے میں رہنے نہیں دینا چاہتے یا انہیں پڑوسی ہونے کا اہل نہیں سمجھتے۔ یہاں تک کہ ہتھیار استعمال کر کے اُن کی جان تک لے لیتے ہیں۔

اوباما کی ہتھیاروں سے متعلق قوانین میں سختی کی مہم

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ہم وطنوں کو زمرمین کیس میں عدالتی فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔ اوباما نے مقتول ٹریون مارٹن کے والدین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن کے دُکھ کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر نے زمرمین کیس کی مثال پیش کرتے ہوئے ہتھیاروں کے خلاف قوانین میں سختی کی اپنی مہم کی تشہیر بھی کی۔ اُدھر شہری حقوق کے ایک سرگرم رکن جِسے جیکسن نے شہریوں سے تحمل کے مظاہرے کی اپیل کی تاہم انہوں نے عدالتی فیصلے کے منصفانہ ہونے پر سوال اٹھایا ہے اُن کے بقول جیوری میں سیاہ فام باشندوں کے نسلی گروپ سے تعلق رکھنے والا ایک بھی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ مارٹن کے والدین نے بھی عدالت پر الزام عائد کیا ہے کہ چونکہ اُن کا بیٹا سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا تھا اس لیے اُس کے قتل کے مقدمے کے فیصلے میں انصاف کو ملحوض نہیں رکھا گیا۔

میشائل ویرستصویر: Michael Werz

منظم امتیازی سلوک

امریکا میں نسلی امتیاز کے خلاف آواز بُلند کرنے والے سیاہ فام نسلی گروپ کے لیڈر مارٹن لوتھر کنگ نے کوئی 50 برس قبل اپنی ایک مشہور زمانہ تقریر میں کہا تھا کہ امریکا کو نسلی امتیاز سے پاک کرنا اُن کا خواب ہے‘۔ I have a dream قریب پانچ دہائیاں گزر گئیں لیکن مارٹن لوتھر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ امریکا کی روز مرہ زندگی کے واقعات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مختلف النسل اور مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے باشندوں پر مشتمل امریکی معاشرے میں اب بھی جلد کا رنگ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں