1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مالدووا کے شہریوں کے لیے یورپی یونین میں ویزا فری انٹری

عابد حسین28 اپریل 2014

یورپی یونین نے براعظم یورپ کے انتہائی کمزور اقتصادیات کے حامل ملک مالدووا کے شہریوں کے لیے آج سے ویزے کی شرط ختم کر دی ہے۔ مالدووا بحران زدہ یوکرائن کا ہمسایہ ملک ہے۔

مالدووا کے دارالحکومت کیشیناو میں لہراتا یورپی یونین کا جھنڈاتصویر: Vadim Denisov/AFP/Getty Images

یورپی یونین کی ہوم کمیشنر سیسیلیا مالمسٹروئم (Cecilia Malmstroem) نے بتایا ہے کہ مالدووا کے لیے ویزے کی پابندی نرم کرنے کے فیصلے سے اس ملک کے یورپی یونین کے ساتھ جہاں قریبی تعلقات میں وسعت پیدا ہو گی وہاں سبھی اس سے مستفید ہوں گے۔ یوکرائن کے ہمسایہ ملک مالدوواکے شہری آج پیر کے روز سے یورپی یونین کی بیشتر ریاستوں میں بغیر ویزے کے سفر کر سکیں گے۔ اس ڈیل کے تحت مالدووا کے شہریوں کو بائیومیٹرک (مشین ریڈایبل) پاسپورٹ رکھنا ضروری ہو گا۔ اس پاسپورٹ کا حامل مالدووا کا باشندہ مختصر مدت کے قیام کے لیے یورپی یونین کی بیشتر ریاستوں میں جا سکے گا۔

مالدووا میں بھی روس کے مخالف اور حمایت میں جلوس نکالے جاتے ہیںتصویر: DW/V. Calugareanu

یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی تعداد 28 ہے اور اس ڈیل کے تحت مالدووا کے شہریوں پر 22 ممالک میں آنے جانے کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ سالانہ بنیادوں پر مالدووا کے 50 سے 55 ہزار شہری مختلف یورپی ملکوں کی جانب سفر کرنے کے لیے ویزے کی درخواستیں جمع کرواتے تھے۔ اب انہیں ویزے کی پابندی سے نجات حاصل ہو گئی ہے۔ دوسری جانب مالدووا کے دارالحکومت کیشیناو (Chisinau) میں کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق یونین کے ویزا فری فیصلے پر ملا جُلا ردِ عمل پایا گیا ہے۔ بعض نے مسرت کا اظہار کیا اور کئی لوگ لاتعلق دکھائی دیے۔ اس کی ایک وجہ غربت ہے کیونکہ بڑی آبادی سفر کرنے کو برداشت کرنے سے قاصر ہے اور کئی لوگوں نے پہلے ہی رومانیہ کے پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں۔ مالدووا کو یورپ کا غریب ترین ملک خیال کیا جاتا ہے۔

مالدووا کے یورپ نواز وزیراعظم یُوری لیانکا (Iurie Leanca) کا اس نئی پیش رفت کے بارے میں کہنا ہے کہ ان کے ملک میں یورپی یونین سے متاثر ہو کر شروع کی جانے والی سماجی و اقتصادی اصلاحات اور اب ویزا فری سفری سہولت سے اُن کے ملک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیانکا کے مطابق اب مالدووا کے شہریوں کو دوسری یورپی اقوام کے ساتھ سماجی و معاشرتی تعلقات بہتر کرنے کا موقع ملے گا اور ٹرانسنِسٹریا کے تنازعے کے حل کی جانب بھی قدم بڑھ سکتے ہیں۔ لیانکا کا خیال ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں وسعت سے متنازعہ علاقے کے باغیوں میں بھی یہ دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے کہ تنازعے کو دفن کر دیا جائے۔

مالدووا کے وزیراعظم یوری لیانکے اور جرمن وزیر خارجہ اشٹائن مائرتصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے مالدووا اور جارجیا نے مثبت پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کا امکان ہے کہ رواں برس جون میں یونین ان دونوں ریاستوں کے ساتھ پارٹنرشپ کی حتمی ڈیل کو طے کر لے گی۔ مبصرین کے مطابق یونین کا یہ فیصلہ یقینی طور پر یوکرائن اور روسی کشیدگی کے تنازعے میں کیا گیا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ جزیرہ نما کریمیا کی طرح مالدووا کا علیحدگی اختیار کرنے والا علاقہ ٹرانسنِسٹریا (Transdniestria) روس کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔

مالدووا بھی سابقہ سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے والی جمہوریہ ہے۔ یہ اُن چھ ریاستوں میں شمار کی جاتی ہے جن سے یورپی یونین اپنے مشرقی پارٹنر شپ پروگرام میں شامل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان میں یوکرائن، مالدووا، جارجیا، آرمینیا، بیلا روس اور آذربائیجان شامل ہیں۔ تین سابقہ سوویت یونین کی ریاستیں آذربائیجان، آرمینیا اور بیلا روس پہلے ہی اپنا منہ موڑ چکی ہے۔ ان ریاستوں نے روس کے ساتھ تعلقات کو وسیع کرنے کو بہتر خیال کیا ہے۔ یوکرائن کے معزول صدر وکٹر یانوکووچ نے بھی اس پروگرام میں شمولیت سے انکار کیا تھا اور اُس کے بعد سے یوکرائن سنگین بحران کا شکار ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں