1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مالی: سرکاری فوج کی شدت پسندوں کے گڑھ پر حملے کی تیاری

25 جنوری 2013

مالی کی سرکاری فوج اسلامی شدت پسندوں کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر گاؤ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

تصویر: Reuters

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے آج جمعہ کے روز مالی کے شہر حمبوری کے رہائشیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مالی کے فوجی گزشتہ رات حمبوری پہنچے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مالی کو فوجیں اسلام پسندوں کے گڑھ ’گاؤ‘ سے صرف 250 کلو میٹر دور ہیں۔

گاؤ مالی کے ان تین شہروں میں سے ایک ہے جو گزشتہ اپریل سے اسلامی عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہے اور مالی کی سرکاری فوجیں فرانس اور دیگر افریقی ممالک کے فوجیوں کی مدد سے شدت پسندوں کے زیر قبضہ ملک کے شمالی حصے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اسلام پسندوں کے گڑھ ’گاؤ‘ سے صرف 250 کلو میٹر دور ہیںتصویر: Reuters

اسلام پسند جنگجو وسطی مالی کے کئی شہروں پر قبضے کے بعد پیچھے ہٹ گئے ہیں تاہم ابھی بھی ملک کے شمالی شہروں پر قابض ہیں۔ دوسری طرف مالی کے فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فرانسیسی طیاروں کی بمباری کے بعد پہلی مرتبہ مالی اور فرانس کے فوجیوں نے ملک کے مشرقی حصے میں مشترکہ گشت کیا ہے۔ فرانسیسی طیاروں نے گزشتہ جمعرات کو اسلام پسندوں کے زیر قبضہ شہر گاؤ کے نواح میں ان کے دو اہم ٹھکانے بممباری کر کے تباہ کر دیے تھے۔

اسلامی شدت پسندوں کے زیر اثر علاقوں پر کنٹرول کے لیے اقوام متحدہ کی چھتری تلے دو ہزار سے زائد چاڈ اور پانچ سو کے قریب نائیجر کے فوجیوں کو اسلامی شدت پسندوں کے خلاف دوسرا محاذ کھولنے کے لیے مالی کے قریب نائیجر کی سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف اسلامی عسکریت پسندوں نے نائیجر کو گاؤ شہر سے ملانے والے اسٹریٹیجک اہمیت کے پل کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے اڑا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک ٹرانسپورٹر کے حوالے سے بتایا کہ اب نائیجر سے گاؤ آنے جانے کا راستہ بند ہو گیا ہے۔

مالی کا شہر گاؤ گزشتہ نو ماہ سے افریقہ میں القاعدہ کے زیر اثر عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہے جہاں شدت پسندوں نے سخت اسلامی قوانین کا نفاذ کیا ہے۔

rh / ab (AFP, AP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں