مالی: طویل المدتی امن کے لیے بین الاقوامی کوششیں
5 فروری 2013
اس اجتماع میں تقریباً پنتالیس وفود شرکت کر رہے ہیں، جن کا تعلق مالی اور اُس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے رکن ملکوں، افریقی یونین اور اقوام متحدہ سے ہے۔
اس اجتماع کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ اس مغربی افریقی ریاست میں اسلام پسند باغی قوتوں کو نکال باہر کرنے کے لیے جاری فوجی کارروائی کے خاتمے کے بعد کے دور میں وہاں کیسے امن و استحکام قائم کیا جائے۔
اس اجتماع میں مالی سے شریک وفد کی قیادت ملکی وزیر خارجہ تیمان کولی بالی کر رہے ہیں۔ برسلز میں ایک بیان میں کولی بالی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مسلمان انتہا پسندوں کو نکال باہر کرنے میں مالی کی مدد کرے کیونکہ یہ انتہا پسند تمام مہذب ملکوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
یورپی یونین کے ایک اہلکار کا اس اجتماع کے حوالے سے کہنا یہ تھا کہ یہاں مالی کے مستقبل اور آنے والے دور میں اِس ملک کی امداد پر تبادلہء خیال کیا جائے گا۔ اس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب ایک ملک ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے تو اُسے پھر سے اکٹھا کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ تاہم اس اہلکار کے مطابق امید یہ کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے اندر اندر سونے، تیل، گیس اور ہیروں جیسے معدنی ذخائر سے مالا مال اس ملک کے حالات کو کسی حد تک مستحکم ضرور کیا جا سکے گا۔ واضح رہے کہ بر اعظم افریقہ میں سونے کی پیداوار کے اعتبار سے جنوبی افریقہ اور گھانا کے بعد مالی تیسرا بڑا ملک ہے۔
چونکہ مالی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتقامی ہلاکتوں کا ڈر ہے، اس لیے آج کے اجتماع میں اس افریقی ملک میں انسانی حقوق کے مبصرین کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس اجتماع کے ایجنڈے میں مالی سے فرانسیسی دستوں کے انخلاء کے بعد وہاں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
اس یورپی سفارت کار نے مزید بتایا کہ اسلام پسند باغیوں کی شکست کے بعد بھی مالی کے حالا ت میں فوری طور پر کسی معجزانہ بہتری کی توقع نہیں کی جا رہی کیونکہ مالی کی فوج بہت کمزور ہے اور امن دستوں کی تعیناتی اس لیے ضروری ہے کہ فرانسیسی دستے وہاں زیادہ طویل مدت کے لیے قیام کرنا ہی نہیں چاہتے۔
مالی میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی کی وکالت نائب امریکی وزیر خارجہ جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر فراسوا اولاند نے بھی کی ہے، جنہوں نے کل پیر کے روز پیرس میں آپس میں ملاقات کی۔ یہ امن دستے افریقی قیادت میں سرگرم عمل اور آٹھ ہزار فوجیوں پر مشتمل اُس فورس کی جگہ لیں گے، جو ابھی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے بین الاقوامی ڈونرز نے مالی کے لیے تقریباً 455 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا جبکہ آئیوری کوسٹ کے صدر اور تنظیم ایکوواس کے سربراہ الاساں وتارا کے مطابق مالی کو انتہا پسندوں سے آزاد کروانے کے لیے دس ہزار فوجی اور کم از کم 950 ملین ڈالر درکار ہیں۔
آج کے اجتماع میں یورپی یونین کے اُس مشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس غریب افریقی ریاست کی فوج کو تربیت فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں یونین کے ستائیس رکن ممالک 450تربیت کار مالی بھیجنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ اس مشن کو ای یُو ٹریننگ مشن اِن مالی یا EUTM کا نام دیا گیا ہے اور ابھی تک صرف سولہ ممالک نے اس مشن کے لیے فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس مشن کا آغاز بارہ فروری کو باماکُو سے ہو گا جبکہ باقاعدہ تربیت کا آغاز اپریل سے کیا جائے گا۔
مالی کے شمال میں فرانسیسی فوجیوں کی قیادت میں گیارہ جنوری سے اسلام پسند باغیوں کا زور توڑنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے خاتمے کے بعد وہاں سویلین حکومت تشکیل دینے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ صدر ڈیون کونڈا تراؤرے نے اکتیس جولائی تک انتخابات کے انعقاد کا عزم ظاہر کر رکھا ہے۔
یورپی یونین اس ملک کے لیے 250 ملین یورو کی اُس امداد کو بھی بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے مالی میں مارچ میں ہونے والی بغاوت کے بعد منجمد کر دیا گیا تھا۔
(aa/ab(afp