1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مالی: طویل المدتی امن کے لیے بین الاقوامی کوششیں

5 فروری 2013

آج برسلز میں یورپی یونین کی میزبانی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی اجتماع میں مغربی افریقی ملک مالی کے سیاسی مستقبل، اس بحران زدہ ریاست کے لیے انسانی امداد اور وہاں مجوزہ فوجی کارروائیوں پر تبادہ خیال کیا جا رہا ہے۔

تصویر: PASCAL GUYOT/AFP/Getty Image

اس اجتماع میں تقریباً پنتالیس وفود شرکت کر رہے ہیں، جن کا تعلق مالی اور اُس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے رکن ملکوں، افریقی یونین اور اقوام متحدہ سے ہے۔

اس اجتماع کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ اس مغربی افریقی ریاست میں اسلام پسند باغی قوتوں کو نکال باہر کرنے کے لیے جاری فوجی کارروائی کے خاتمے کے بعد کے دور میں وہاں کیسے امن و استحکام قائم کیا جائے۔

اس اجتماع میں مالی سے شریک وفد کی قیادت ملکی وزیر خارجہ تیمان کولی بالی کر رہے ہیں۔ برسلز میں ایک بیان میں کولی بالی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مسلمان انتہا پسندوں کو نکال باہر کرنے میں مالی کی مدد کرے کیونکہ یہ انتہا پسند تمام مہذب ملکوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

مالی کے وزیر خارجہ کولی بالی کی اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ اتری ہوئی ایک تصویرتصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین کے ایک اہلکار کا اس اجتماع کے حوالے سے کہنا یہ تھا کہ یہاں مالی کے مستقبل اور آنے والے دور میں اِس ملک کی امداد پر تبادلہء خیال کیا جائے گا۔ اس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب ایک ملک ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے تو اُسے پھر سے اکٹھا کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ تاہم اس اہلکار کے مطابق امید یہ کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے اندر اندر سونے، تیل، گیس اور ہیروں جیسے معدنی ذخائر سے مالا مال اس ملک کے حالات کو کسی حد تک مستحکم ضرور کیا جا سکے گا۔ واضح رہے کہ بر اعظم افریقہ میں سونے کی پیداوار کے اعتبار سے جنوبی افریقہ اور گھانا کے بعد مالی تیسرا بڑا ملک ہے۔

چونکہ مالی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتقامی ہلاکتوں کا ڈر ہے، اس لیے آج کے اجتماع میں اس افریقی ملک میں انسانی حقوق کے مبصرین کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس اجتماع کے ایجنڈے میں مالی سے فرانسیسی دستوں کے انخلاء کے بعد وہاں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

اس یورپی سفارت کار نے مزید بتایا کہ اسلام پسند باغیوں کی شکست کے بعد بھی مالی کے حالا ت میں فوری طور پر کسی معجزانہ بہتری کی توقع نہیں کی جا رہی کیونکہ مالی کی فوج بہت کمزور ہے اور امن دستوں کی تعیناتی اس لیے ضروری ہے کہ فرانسیسی دستے وہاں زیادہ طویل مدت کے لیے قیام کرنا ہی نہیں چاہتے۔

فرانسیسی فوجی دستوں کی قیدات میں لڑنے والی فوج تین ہفتوں کے اندر اندر باغیوں کو شمالی مالی کے کئی بڑے شہروں سے نکال باہر کر چکی ہے

مالی میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی کی وکالت نائب امریکی وزیر خارجہ جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر فراسوا اولاند نے بھی کی ہے، جنہوں نے کل پیر کے روز پیرس میں آپس میں ملاقات کی۔ یہ امن دستے افریقی قیادت میں سرگرم عمل اور آٹھ ہزار فوجیوں پر مشتمل اُس فورس کی جگہ لیں گے، جو ابھی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے بین الاقوامی ڈونرز نے مالی کے لیے تقریباً 455 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا جبکہ آئیوری کوسٹ کے صدر اور تنظیم ایکوواس کے سربراہ الاساں وتارا کے مطابق مالی کو انتہا پسندوں سے آزاد کروانے کے لیے دس ہزار فوجی اور کم از کم 950 ملین ڈالر درکار ہیں۔

آج کے اجتماع میں یورپی یونین کے اُس مشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس غریب افریقی ریاست کی فوج کو تربیت فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں یونین کے ستائیس رکن ممالک 450تربیت کار مالی بھیجنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ اس مشن کو ای یُو ٹریننگ مشن اِن مالی یا EUTM کا نام دیا گیا ہے اور ابھی تک صرف سولہ ممالک نے اس مشن کے لیے فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس مشن کا آغاز بارہ فروری کو باماکُو سے ہو گا جبکہ باقاعدہ تربیت کا آغاز اپریل سے کیا جائے گا۔

مالی کے شمال میں فرانسیسی فوجیوں کی قیادت میں گیارہ جنوری سے اسلام پسند باغیوں کا زور توڑنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے خاتمے کے بعد وہاں سویلین حکومت تشکیل دینے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ صدر ڈیون کونڈا تراؤرے نے اکتیس جولائی تک انتخابات کے انعقاد کا عزم ظاہر کر رکھا ہے۔

یورپی یونین اس ملک کے لیے 250 ملین یورو کی اُس امداد کو بھی بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے مالی میں مارچ میں ہونے والی بغاوت کے بعد منجمد کر دیا گیا تھا۔

(aa/ab(afp

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں