1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مالی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس: یورپی یونین کے گیارہ ملک راضی

10 اکتوبر 2012

یورپی یونین کی گیارہ مختلف ریاستیں اس پر راضی ہو گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے بینکوں کے ذریعے کی جانے والی بھاری مالی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کا نفاذ کریں گی۔ یہ ٹیکس یورپ میں فنانشل سیکٹر میں اصلاحات کا حصہ خیال کیا جاتا ہے۔

تصویر: AP

یورپی یونین کی ابتدا میں سات ریاستیں فنانشل ٹرانزیکشنز پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے تیار ہوئی تھیں بعد میں اٹلی، اسپین، ایسٹونیا اور سلووواکیہ نے بھی شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بڑی مالی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز جرمنی اور فرانس کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ بقیہ پانچ ممالک میں بیلجیم، پرتگال، آسٹریا، سلووینیہ اور یونان شامل ہیں۔ اس نئے ٹیکس کے نظام میں شامل ریاستوں کے ناموں کی تصدیق یورپی یونین کے ٹیکس کمیشنر الگریڈاس سیمیٹا (Algirdas Semeta) نے کر دی ہے۔

جرمنی اور فرانس یورپی یونین کے مالی شعبے میں اصلاحات کے حامی ہیںتصویر: Fotolia/Fantasista

اس ٹیکس نظام میں تجویز کیا گیا ہے کہ مالی ٹرانز یکشنز پر0.1 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ ٹیکس کی یہی شرح حکومتی بانڈز کی خرید پر بھی لاگو ہو گی۔ اس طرح بعد میں حاصل ہونے والے منافع پر بھی 0.01 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ اس ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے دلائل سامنے آئے ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کی اہم وجہ مختلف ملکوں میں فعال مالی شعبوں میں جاری پالیسیاں ہیں اور ان کو کنٹرول کرنے کو ضروری محسوس کرتے ہوئے مالی اصلاحات کے نفاذ کو اہم خیال کیا گیا ہے۔

برطانیہ اور سویڈن کا خیال ہے کہ ٹیکس کے نفاذ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہےتصویر: picture alliance/APA/picturedesk.com

مالی ٹرانزییکشنز پر ٹیکس کے نفاذ پر تنقید کرنے والے ملکوں میں برطانیہ اور سویڈن سب سے آگے ہیں۔ ان ملکوں کا خیال ہے کہ اس ٹیکس کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ برطانیہ کے وزیر خزانہ جورج اوسبورن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مالی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کے نفاذ کا مخالف نہیں ہے بلکہ اس کا نفاذ عالمی سطح پر کیا جانا ضروری ہے۔ اوسبورن کا یہ بھی خیال ہے کہ ٹیکس کس انداز میں حاصل کیا جائے گا اور بعد میں اس کا کس انداز میں استعمال ہو گا، یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے۔ اس مناسبت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ سے سرمایہ کار ان ملکوں کا رخ کر سکتے ہیں جہاں انہیں بھاری سرمایہ کاری پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا اور اگر ساری دنیا اس ٹیکس کے نیٹ ورک میں شامل ہو جائے تو اس میں یکسانیت پیدا ہو جائے گی۔

یورپی یونین کے ایک اور رکن ملک پولینڈ کا بھی یہی خیال ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ سے ان کا ملک سرمایہ کاری سے محروم ہو سکتا ہے۔ سویڈن کے وزیر مالیات اندرس بورگ (Anders Borg)  کا خیال ہے کہ مالی ٹرانزیکشنز پر اس ٹیکس کا نفاذ ایک بڑا خطرہ ہے اور اس باعث ممالک کی سالانہ شرح افزائش پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور شرح پیدوار بھی سست ہو سکتی ہے۔ اس ٹیکس پر اب مزید بحث وزرائے خزانہ کے نومبر میں ہونے والے اجلاس میں کی جائے گی۔

(ah / sks (dpa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں