مالی کو فوجيوں کے ساتھ سياسی مدد کی ضرورت
15 جنوری 2013
مالی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود مغربی افريقی اور يورپی ممالک کی ہچکچاہٹ کو سامنے رکھتے ہوئے يہ بات سمجھ ميں آنے والی ہے کہ جہاديوں نے ملک کے جنوب کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ ليکن يہ کوشش ان کی ايک فاش غلطی تھی کيونکہ اب سب ہی حکومت کی مدد کو آ رہے ہيں، فرانسيسی سب سے پيش پيش ہيں۔
ناقدين کا کہنا ہے کہ انتنظار کے ايک زيادہ طويل وقفے کو باغيوں سے بات چيت کے ليے استعمال کيا جا سکتا ہے۔ جرمن حکومت اب تک اسی موقف کی حمايت کرتی رہی تھی۔ ستمبر ميں جرمنی ميں پارليمانی انتخابات ہونے والے ہيں اور حکومت کسی بھی اقدام کے سلسلے ميں انتہائی محتاط ہے۔ وہ مالی ميں جرمنی کو فوجی طور پر ملوث کرنے سے حتی الامکان بچنا چاہتی ہے۔
سوال يہ ہے کہ اگر مالی ميں مذاکرات کيے جائيں تو آخر کس سے۔ ٹوارگ قبائل جو صرف بہتر حالات زندگی اور خود اختياری چاہتے ہيں، اس پر راضی ہو سکتے ہيں ليکن ان کا شمالی مالی پر کوئی بھی اختيار نہيں ہے۔ اسلام پسندوں کو ايسی باتوں سے دلچسپی ہے جن پر مالی کی حکومت بات نہيں کر سکتی۔ مالی کے شمال ميں بھی جہاديوں کی اسلامی قوانين کی تشريح سے کسی کو اتفاق نہيں ہے۔ وہاں کے لوگ باغيوں کو قابض اور جابر سمجھتے ہيں۔ اس کے علاوہ باغيوں کی اکثريت يا کم از کم ان کے سرغنے اسمگلنگ اور منشيات کے حوالے سے اپنے مالی اور اقتصادی مفادات کو مذہب کی آڑ ميں چھپاتے ہيں۔ يہ جرائم اور دہشت گردی ہيں اور اس پر بات نہيں ہو سکتی۔
مالی ميں فوجی مداخلت کے مخالفين، مثلاً اسلامی ممالک کی تنظيم سے يہ سوال پوچھنا ہوگا کہ باغيوں نے انتہاپسندی کے ذريعے گزشتہ مہينوں کے دوران مسلمان معاشرے کو جو نقصان پہنچايا ہے اسے محدود کرنے کے ليے انہوں نے کيا کيا ہے۔
ليکن کيا مالی ميں مداخلت سابق نو آبادياتی طاقت فرانس ہی کو کرنا چاہيے تھی؟ پچھلے برسوں کے دوران فرانس کو بار بار تنقيد کا نشانہ بنايا گيا ہے کہ وہ خود پسندی ميں مبتلا ہو کر افريقہ ميں اپنی سياست کر رہا ہے۔ ليکن مالی کی حکومت اور فوج کی مدد کا فيصلہ کئی مہينوں سے عالمی طور پر ہو چکا ہے۔ سلامتی کونسل نے 10 جنوری کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ مالی کی فوج کی مدد کريں اور فرانس اس وقت وہ واحد طاقت ہے جو يہ مدد جلد کرسکتا تھا اور کرنا چاہتا بھی تھا۔
مغربی افريقی ممالک کئی مہينوں سے يہ واضح کر چکے ہيں کہ وہ فوجی اور مالی مدد کا بوجھ اکيلے برداشت نہيں کر سکتے۔ يورپ اور امريکہ کو يہ بھی فراموش نہيں کرنا چاہيے کہ ان ہی کی مدد سے ہونے والے ليبيا کے انقلاب نے مالی کو اس حالت تک پہنچايا ہے۔ ليبيا سے آنے والے اسلحے اور اسلام پسندوں کے بغير باغی اور ٹوارگ قبائل شمالی مالی پر قابض نہيں ہو سکتے تھے۔
مالی کے ہمسايہ ممالک ميں غربت دور کرنے کی لمبی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے کيونکہ اگر اسلام پسند جنگجو مالی سے پسپا ہو کر موريطانيہ يا نائيجر پہنچ گئے تو يہ کوئی حل نہيں ہوگا۔
T.Mosch,sas/S.Steffen,ai