1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مجھے خطرے کی گھنٹی بجانا پڑ رہی ہے: بان کی مون

26 ستمبر 2012

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ميں اس عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امريکی صدر باراک اوباما نے موجودہ عالمی صورتحال پر تشويش ظاہر کی ہے۔

تصویر: Getty Images

امريکی صدر باراک اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ايٹمی ہتھياروں سے ليس ايران اسرائيل کے وجود، خليج کے ممالک اور عالمی معيشت کے ليے ايک خطرہ ہو گا اور اس سے علاقے ميں ايٹمی اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ اوباما نے کہا کہ وہ اس تنازعے کے سفارتی حل کی کوششيں جاری رکھنا چاہتے ہيں ليکن ايران سے بات چيت کے ليے وقت لا محدود نہيں ہے: ’’امريکا ايران کو ايٹمی اسلحہ حاصل کرنے سے روکنے کے ليے وہ کچھ کرے گا، جو اُسے کرنا پڑے گا۔‘

اگرچہ امريکی صدر نے براہ راست فوجی حملے کی بات نہيں کی ليکن اُن کے الفاظ ميں فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی کو چھپايا نہيں گيا ہے۔

صدر اوباما نے اپنی آدھے گھنٹے کی تقريرکا ايک بڑا حصہ عرب ممالک ميں آنے والی تبديليوں اور دنيائے اسلام ميں پيغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجات پر صرف کيا۔ انہوں نے ليبيا ميں امريکی سفير کے قتل کو امريکا پر حملہ قرار ديا۔ اوباما نے شام میں اسد حکومت کے خلاف سخت اقدامات اور پابنديوں کا مطالبہ بھی کيا۔

سکريٹری جنرل بان کی مون جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Getty Images

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جنرل اسمبلی کا افتتاح کرتے ہوئے عالمی صورتحال پر اپنی پريشانی کا غير معمولی طور پر کھلے الفاظ ميں اظہار کيا: ’عالمی کنبہ جس طرف جا رہا ہے، مجھے اس سال اُس پر خطرے کی گھنٹی بجانا پڑ رہی ہے۔‘

بان کی مون نے دنيا بھر ميں اسلحے پر خرچ کی جانے والی رقوم اور عالمی آب و ہوا کی تبديلی کو خاص طور پر باعث فکر قرار ديا۔ انہوں نے شام کی خانہ جنگی پر گہری تشويش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ يہ بحران صرف شام تک محدود نہيں بلکہ يہ ايک علاقائی مصيبت ہے، جس کے اثرات عالمی سطح کے ہيں۔

فرانسيسی صدر فرانسوا اولاند جنرل اسمبلی سے مخاطب ہيںتصویر: Reuters

فرانسيسی صدر فرانسوا اولانڈ نے شامی اپوزيشن کی ايک عبوری حکومت کی تجويز پيش کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اُسے فوراً تسليم کرلے گا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی تعداد ميں اضافے کی بھی حمايت کی تاکہ کونسل آج کی دنيا کے حالات کی بہتر نمائندہ ثابت ہو۔

فرانس سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکين ميں شامل ہے۔ اس ادارے کے رکن ممالک کی تعداد ميں اضافے پر پچھلے کئی عشروں سے بحث جاری ہے ليکن ويٹو کی طاقت رکھنے والے پانچ ممالک اس کے نتيجے ميں اپنی طاقتور پوزيشن کے ليے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہے ہيں۔

T. Schmidt, sas / C. Hennen, mm

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں